صحت و تندرستیمنظر نامہ

ایشیائی ممالک کے ڈھائی ارب افراد کو ڈینگی وائرس سے خطرات لاحق، عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈینگی کے باعث پیدا ہونے والا خطرہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تمام شہریوں کو ڈینگی کے خطرات لاحق ہیں۔ بدقسمتی سے اب تک اس وائرس سے بچاؤ کے لئے کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ۔ اس وجہ سے اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج نہیں ہے۔ وائرس سے بچنے کا واحد راستہ احتیاطی تدابیر اور مچھر مار اسپرے کے ساتھ مچھر بھگانے والی اشیاء کا استعمال ہے۔ ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی پروفیسر ایم عمر فاروق، پرو وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی اور پرنسپل سندھ میڈیکل کالج نے ڈاؤ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ سیمینار میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس تیزی سے ایشیاء میں پھیل رہا ہے۔ تقریباً ڈھائی ارب لوگوں کو ڈینگی کا خطرہ لاحق ہے۔ حالیہ دھائیوں میں ڈینگی کا وائرس تیزی سے پھیلا ہے۔ اس مچھر کے وائرس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسی اشیاء کا استعمال کریں جس سے یہ مچھر دور بھاگتا ہے، ان میں مچھر مار کوائل، الیکٹرک و پیپر میٹ اور دیگر اشیاء ہیں تاکہ بچوں اور حاملہ خواتین کو اس وائرس کے خطرے سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے لوگوں میں اس بیماری کے بارے یمں شعور پیدا کرنے اور احتیاطی تدابیر پر زور دیا۔ اس موقع پر اوجھا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر افتخار احمد نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ فرد میں فلو، درد، بخار اور جوڑوں میں درد جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔ یہ مخصوص وائرس مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو متاثرہ مریض سے وائرس منتقل کرتا ہے۔ وائرس کی علامات مچھر کے کاٹنے سے پانچ سات دن بعد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ مچھر میں ڈینگی کے وائرس ہیں یا نہیں۔ اس سے بچنے کی واحد صورت اختیاطی تدابیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مچھر ٹھہرے ہوئے پانی، ڈرم، جار، گملے اور دیگر جگہوں پر پرورش پاتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رفیق خانانی، ڈاکٹر افتخار حیدر اور ڈاکٹر سلیم الیاس نے ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button