Ultimate magazine theme for WordPress.

معصوم آخرکب تک۔۔۔۔۔۔۔

45

شہزاد اقبال

لاہور اور کراچیمیں ایک بار پھردہشت گردوںنے بزدلانہ کارروائیکرکے کئی گھروںکو سوگوار بنا دیا ۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں سرکلر روڈ گھوڑا چوک میں ہونے والے خود کش حملے میں 17 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ۔ گزشتہ روز لاہور اس حوالے سےاہم تھا کہ ایک جانب جہاں حضرت داتا گنج بخش ؒکےسہروزہ عرس کا آخری دن تھا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھاٹی گیٹ کے علاقے میں موجو د تھی تو دوسری جانب حضرت امام حسینؓ نے چہلم کے سلسلے میں عزاداروں کی ایک بڑی تعداد اس علاقے میں مو جو د تھی اور گزشتہ دو تین روز میں یہ علاقہ خاصا حساس قرار دیا جا رہا تھا لیکن بالا خر دہشت گردوںاپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نےاردو بازار لاہور اور ملیر کراچی کے علاقے کو خون میں نہلا دیا جس سے کئی معصوم جان کی بازی ہار گئے۔ پاکستان میں خود کش حملوں کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے 2004سے شروع ہونے والی خون کیاس ہولی نے گزشتہچار سال میں خاصی تباہی مچائی اور اس سال 2011میں لاہور میںاہم ترین خود کش حملہ تھاجو ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب دو حساس ترین واقعات شہر میںہورہے تھے ، لاہور میںاس بار بھی نوجوان خود کش حملہ آور نے یہ کارروائی کی ۔ سی سی پی او لاہوراسلم ترین کے مطابق معمول کے مطابق چیکنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ اس دوران حملہ آور نے خود کو بارود سے اڑادیا ۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کا سر مل گیا ہے جبکہ زخمیوں کو شہرکےاہم ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاہور کا بھائی گیٹ کا علاقہ انتہائی مصروف جگہ تصور کی جا تی ہے جس میں ایک جانب حضرت علی ہجویریؒ کا دربار ہے تو دوسری جانب شہر کی بڑی امام بار گاہ کربلا گامے شاہ بھی قریب واقع ہے اور یہ دونوں جگہیں ایسی ہیں جہاں گزشتہ برس او پر تلے خود کش حملے ہو چکے ہیں جس میںشہریوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو گئی تھی جبکہ یہ علاقہ شہر کا اہم تجارتی مرکز اور گزر گاہ بھی ہے کہ بیرون شہر سے آنے والے لوگ شاہ عالم مارکیٹ ، اردو بازار ، انا ر کلی بازار ، لوہاری ،موچی ، اور دہلی دروازے وغیرہ میں خریداری کے لیےآتے ہیں اور یہاں پر خریداروں کا ایک جم غفیر عام دنوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن داتا صاحبؒ کے عرس کے موقع پر یہ علاقہ اور بھی مصروف ہو جا تا ہے اور یہی وہ وقت تھا کہ جس کو دہشت گردوں نے اپنے لئے آسان ہدف مقرر کیا اور تخریبی کارروائی کرکے معصوم شہریوں کی جا ن لے لی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقامی انتظامیہ نے امن وامان کے حوالے سے فول پروف انتظامات کر رکھے تھے اور یہ کارروائی بھی دوران چیکنگ ہوئی جس میں 3پولیس اہلکار بھی شہید ہوئے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ماضی کی کارروائیوں کی طرح پولیس نے موثر حکمت عملی کیوں نہیں اپنائی اور اس مرکزی جگہ تک پہنچنے میں کم سن دہشت گرد آخر کیسے کا میاب ہو ااور اگرخدا نخواستہوہ دربار کے احاطے یا جلوس کے مرکز میں جا کر کارروائی کرتا تو انسانیہلاکتوں میں کئی گنا اضافہ ہو جاتالیکن بہر حال دہشت گردنے مرکزی مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنے کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ قارئینکو یاد ہو گا کہ کچھ عرصہ قبل ایم اے جناح روڈ کراچی میں بھی حضرت امام حسین ؓ کے چہلم کے موقع پر خود کش حملہ ہواتھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ عراق کے بعد پاکستان میں مذہبی مقامات اور جلسے جلوسوں پر خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس قسم کی کارروائی کے پیچھے جو ہا تھ موجود ہیں اسے بے نقاب کرنا چاہیے پاکستان میں بزرگان دین کے مزارات کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس حوالے سے جہاں دیوبندی اور بریلوی مکتبہ فکر میں اختلافات پید اکرنے کی کوشش کی جا رہی ہےوہاںسنی اور شیعہ مکاتب فکر میں بھی خلیج پیدا کرنے کی ناپاک جسا رت کا سلسلہ جاری ہے اور امت میں تفرقہ ڈالا جا رہا ہے اور یہ سب ویسی ہی کارروا ئیاںہیں جس میں امریکہ اگر کسی ملک میں عسکری لحاظ سےناکام ہوتا ہے تو پھر وہ وہاں سی آئی اے کے ذریعے منفی ہتھکنڈوں پر اتر آتا ہے اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے علمائے کرام کے مابین ملی وقومی یکجہتی کے حوالے سے اتفاق پایا جاتا ہے اور ان کے درمیان مذہبی ودینی رواداری کا جذبہ موجو د ہے مگر بعض افراد ان کے درمیان دوریاں پیدا کر کے انہیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں اس سلسلے میں وہ اکثر ناکام رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ بعض کو اپنے شیطانی جال میں پھنسا لیتے ہیں جس کے باعث پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں۔ پاکستان میں امن وامان کے حوالے سے ابتر صورتحال کا دوسرا دور نائنالیون کے بعد شروع ہوتا تھا اس سے قبل افغانستان پر روسی فوج کی یلغار کے بعد پاکستان میں سیکورٹی مسائل پید اہوگئے تھے ۔ کلاشنکوف اور ڈرگ کلچر کے باعث پاکستان کے سرحدی شہروں کا کافی خطرات لاحق ہو گئے تھے اور گزشتہ 10سال میں ایک مرتبہ پھر ملکی سلامتی کو خطرات نے آگھیر ا ہے او رماضی کے برعکس اب تخریبی کا رروائیوں کا سلسلہ پشاور اور کوئٹہ سے بڑھ کر پنڈی اسلام آباد سے ہوتا ہوا لاہور اور کراچیتکپھیل گیا ہے بلکہ پاکستان کے اہم صوبے پنجاباور اس کے صوبائی دارالحکومت لاہورمیں خود کش حملوں کو خاص طور پر مرکز بنایا گیا ہے جس نے سکیورٹی پر مستقل سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد کی کارروائیوںمیں جہا ں جارح اقوام کو اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو ہدف بنانے کا موقع ملا وہا ں پاکستان کے مستقل دشمنوں بھارت اور اسرائیل کو بھی پاکستان میں تخریبی سرگرمیاں بڑھانے کا موقع ملا ۔ افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی قونصلیٹ کی تخریبی سرگرمیوں سے ہر کوئی واقف ہے لیکن ہماری حکومت اس حوالے سے سنجیدہ رویہ نہیںاپنا رہیاورسنجیدہ اقدامات کے ذریعے دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام کرنے کے بارے میںسوچنہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وطن دشمن کرداروں کو اپنا سفاک کھیل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے اور وہ دھڑلے سے اپنی کارروائیاں کرکے حکومتی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں ۔ لاہور اور کراچی میں ہونے والے گزشتہ روز کی کاررائیوں کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہونےو الے شہریوں کا آخر کیا قصور ہے کہ وہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے ، آخر معصوم کب تک مرتے رہیں گے ، پاکستانیوںکو آخر کیوں دہشت گردوں کے آگے ڈال دیا گیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی نہیں ہوئیجبکہ اس کے اتحادیوں کے ہاں تخریبی کارروائیوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہےبرطانیہ ، سپین وغیرہ میں ماضی میں ایسی کارروائیوں ہو چکی ہیں لیکن پاکستان جو نیٹو کا غیر اتحادی ملک ہے وہاں اب تک سب سے زیادہ خود کش حملے ہو چکے ہیں ۔بظاہریہیمعلوم ہورہا ہے کہ امریکہ نے 2001میں نائن الیون سے جس شیطانی منصوبہ کا آغاز کیا تھا اس کی جڑیں واشنگٹن نے پاکستان میں نکالیہیں۔ افغانستان اور عراقمیں بالترتیب 2001اور 2003میں اتحادی حملوں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا وہ مخلص ڈھکو سلہ تھا امریکہ کا اصل ہدف جوہری طاقت کے حاملپاکستان تھا ا س کے لیے اس نے رچرڈ آر میٹج کے ذریعے پاکستانی جنرل پرویز مشرف کو پتھر کے دور میں لے جانے کی دھمکی دی اور ہمارے سابق کمانڈو جنرل اس کے سامنے بے بس ہوگئے اور پاکستان کو غیر ملکی آگ میں جھونک دیاجس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ عوام حکمرانوں سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ آخر وہ ڈالروں کے عوض کب تک پاکستان کی سلامتی کا سودا کرتے رہیں گے آخر ڈرون حملوں ،غیر ملکی گولہ باری اور خود کش حملہ آوروں کی جو کھیپ تیار ہو چکی ہے اس سے وطن عزیز کے باسی کب تک مرتے رہیں گے، حکمرانوں کی غلط پا لیسیوںکے باعث عوام نہ گھر میں محفوظ ہیں نہ گلزاروں میں،نہ گلی میں نہ میدانوں میں ،نہ سکول میں نہ دفاتر میں، نہ مزارپراور نہ بازار پر ، آخر بیانات ، اعلانات اور پارلیمانی قرار دادوں کے فریب سے عوام کو کب تک دھوکہ دیا جاتا رہے گا اور کب تک پاکستانیوں کو درندوں کے آگے ڈالا جاتا رہے گا ؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.