Ultimate magazine theme for WordPress.

معذورافراد اور ہمارے معاشرتی روےے

40


قاسم علی

معذوری کسی بھی ایسے جسمانی یا دماغی عارضے کو کہتے ہیں جواِنسانی جِسم پر گہرے اور طویل اثرات اِس طرح مرتب کرے کہ وہ فرد روز مرہ کے معمولاتِ زِندگی سر انجام نہ دے سکے۔پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ معذورافراد رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے جہاں اس وقت ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ معذورافراد رہتے ہیں اور مسلسل حکومتی عدم دلچسپی اس حرماں نصیب طبقے کی تعداداورمسائل میںخطرناک حد تک اضافہ کر رہی ہے ۔ویسے تو معذور افراد کے مسائل بے شمار ہیں لیکن اِن کا سب سے بڑا مسئلہ معاشرے کا معذور افراد کو اپنے اندر جذب نہ کرنا ہے ۔اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے وطنِ عزیز میںبدقِسمتی سے اِسلامی نظامِ معیشت کی بجائے ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے جس کے باعث ہر شخص دوسرے سے آگے بڑہنے اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کے شیطانی چکر میں مصروف ہے۔ایسے میں معذور افراد اپنی جسمانی کمزوری کے باعث اکانومی سے اپنا حِصہ حاصِل کرنے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ انہیں اس کے لئے اتنے مواقع میسر نہیں ہوتے جتنے ایک نارمل و توانا شخص کو دستیاب ہوسکتے ہیں۔چنانچہ یہی وہ اصل سبب ہے جو معذور افراد کے متعلق مجموعی معاشرتی شعور کو متاثر کر تے ہوئے انہیں ایک ناکارہ چیز اور عضوِمعطل سمجھنے پر مجبور کرتا ہے جس کا آغازسب سے پہلے اس کے اپنے گھر سے ہی ہوتا ہے جب معذور کے اپنے گھر والے ہی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب گھر کا ہر فرد ”نوٹ چھاپنے والی مشین”بنا ہوتا ہے ایسے میں یہ بیچارہ انہیں ”اناج کا دشمن” نظر آنے لگتا ہے۔اسی طرح معذورافراد کے ساتھ معاشرتی رویہ بھی انتہائی افسوس ناک ہوتا ہے کہ بعض لوگ خدا کی اس تقسیم پر دیدہ دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے انہیںبرے القابات (مثلاََ لنگڑا،کانا،اندھایا ٹنڈا ،مینٹل وغیرہ) دیتے نظر آتے ہیں توبعض ایسے بھی”روشن دماغ”ہیں جو انہیں دیکھ کر اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر خدا سے معافی مانگتے نظر آتے ہیں کہ جس ”سزا ” میں انہیں خدا نے مبتلا کر رکھا ہے اِس سے ہمیں بچائے۔ اور اسی ضمن میں جب ہم حکومتی اقدامات پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ بھی انتہائی مایوس کن منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ آج تک کسی بھی حکومت نے معذور افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا تو د±ور کی بات ا±ن سے متعلق معاشرے میں موجود غلط فہمیوں اور غیر مناسب رویوں کے خاتمے کیلئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے اور حد تو یہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے اس انتہائی حساس اور بڑے طبقے کے د±رست اعدادوشمار تک جاننے کی کوشش نہیں کی۔اورسب سے بڑھ کر غفلت کا مظاہرہ ہمیں میڈیا کی طرف سے دیکھنے میں آتا ہے جو ہمہ وقت کسی ایسی خبر یا واقعے کی تلاش میں سرگرداں تو نظر آتا ہے جو بریکنگ نیوز بن کر قوم میں تھرتھلی مچادے لیکن حیرت انگیز طور پر کبھی بھی کسی میڈیاچینل کی” عقابی نظر” ان ڈیڑھ کروڑسے زیادہ زندہ لاشوں پر نہیں پڑی جو مسلسل حکومتی و معاشرتی عدم توجہی اور غیر مناسب رویوں کے باعث زندگی کی امنگوں سے محروم ہو چکے ہیں آپ اگر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکی اب تک کی پیش کردہ رپورٹوں اور پروگراموں پر نظر ڈالیں تو آپ کو سب سے کم کوریج معذور افراد کے مسائل پر نظر آئے گی۔                   انہی وجوہات کے پیش نظر عوام نہ صِرف معذور افراد کے مسائل سے آگاہ ہو سکے ہیں اورنہ ہی ان کے متعلق اپنی معاشرتی ذمہ داریوں بارے فکرمندی ا±ن میں پیدا ہو سکی ہے۔                                          چنانچہ اسی گھمبیر صورتحال کے پیشِ نظر ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 2011ءکو attitude is the real disabilityکے طور پر منانے کا اعلان کرے۔جس میں وہ مختلف علاقوں کی dpo,sکے ساتھ مِل کرکنونشنز اور تقاریب کا انعقاد کرے تاکہ معذور افرادکے اندر یہ احساس و شعور کو ا±جاگر کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ ہرگز تنہائی اور احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوںبلکہ وہ اس بات پر فخر کا اظہار کریں کہ خ±دا نے انہیں اِمتحان کیلئے منتخب کیا ہے۔ ہم عوام سے بھی اپیل کریں گے کہ وہ معذور افراد کو مجبور و ناکارہ سمجھتے ہوئے ا±نکی تضحیک نہ کریں کہ قرآن و حدیث میں ان کیلئے درجنوں مقامات پر بشارتیں وارد ہوئی ہیں ،ہم عوام کو یہ بھی گوش گزار کریں گے کہ معذور افرادصلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہیںاگر انکی مناسب حوصلہ افزائی کی جائے اور انکو مواقع فراہم کئے جائیں تو یہ دنیا کیلئے بیش بہا اور گرانقدرکارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ اور آخر میں ہم میڈیا کی خدمت میں پرزورگزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مشن میں حکومت اور معذور افراد کے ساتھ کندھا جوڑتے ہوئے وقتاََ فوقتاََمعذور افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے ان کیلئے پروگرام نشر کرے اور اخبارات میں ان کیلئے صفحات مقرر کرے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.