ادارتی کالم

ہندوستان کا قومی ترانہ اور ”سندھ“


تحریر: نجیم شاہ

    دنیا کے ہر ملک کا اپنا ایک قومی ترانہ ہوتا ہے جونہ صرف اُس ملک کی تہذیب و فکر کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں وہاں کے باشندوں کے خیالات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ یہ قومی ترانے ہر ملک کی سرکاری یا منظور شدہ زبانوں میں ہوتے ہیں۔عام طور پر ہر ملک کے قومی ترانہ کا ایک خاص نام ہوتا ہے جس سے وہ جانا جاتا ہے۔ مثلاً کینیڈا کے قومی ترانہ کو ”او کینیڈا “کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، بھارت میں اسے ”جن گن من “جبکہ پاکستان میں اسے عموماً ”قومی ترانہ“ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد سندھ پاکستان کا حصہ بن چکا ہے اور اس کی اپنی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے لیکن آج بھی ہندوستان کے قومی ترانے میں لفظ ”سندھ“ کا استعمال ہو رہا ہے۔ روزانہ سرکاری سکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں میں قومی ترانہ گونجتا ہے حالانکہ ہندوستان میں سندھ کی تہذیب و ثقافت کا نام و نشان تک بھی موجود نہیں ہے۔
ہندوستان کا قومی ترانہ نوبل انعام یافتہ مصنف رابندر ناتھ ٹیگور نے لکھا ہے جو بنگالی زبان میں تھا جبکہ بعد میں اسے سنسکرت کا لہجہ دے کر سنوارا گیا۔ یہ ترانہ دراصل کنگ جارج پنجم کے لئے لکھا گیا تھا، جب ہندوستان کی حکومت اس کے سپرد ہوئی، اس کی تاج پوشی ہو رہی تھی، اس وقت خدا کی حمد کے لئے لکھی گئی نظم تھی۔ انڈیشن نیشنل کانگریس کے سنہ انیس سو گیارہ کے اجلاس میں یہ نظم پہلی دفعہ گائی گئی۔ سنہ انیس سو سینتالیس میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد اسے ہندوستان کے قومی ترانے کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چوبیس جنوری سنہ انیس سو پچاس میں جب آئین ساز اسمبلی نے اس ترانے کو آئینی طور پر قومی ترانے کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا تو لفظ سندھ کو ”سندھو“ سے تبدیل کر دیا گیا۔ ایسا درحقیقت اس وجہ سے کیا گیا کیونکہ سندھ پاکستان کا حصہ بن چکا تھا لیکن اسکے باوجود بھی ابھی تک لفظ سندھ ہندوستان کے قومی ترانے میں جوں کا توں موجود ہے۔ اس کی وجہ درحقیقت یہی ہے کہ ارباب اختیار نے اس کو ترویج دینے اور عام کرنے کے لئے مو¿ثر اقدامات نہیں اُٹھائے۔
بھارت کے قومی ترانے کے غلط پڑھنے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ ممبئی کے ایک پروفیسر نے ترانے میں لفظ سندھ کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے جس میں مو¿قف اختیار کیا ہے کہ قومی ترانے میں لفظ سندھ کا استعمال کیا جانا درست نہیں کیونکہ سندھ پاکستان کے ایک صوبے کا نام ہے بلکہ سندھ کی جگہ ”سندھو“ کا لفظ استعمال کیا جانا چاہئے جو یہ ایک دریا کا نام ہے۔ ہندوستان کے علمائے دیوبند نے بھی بھارت کے قومی ترانے کو غیر اسلامی قرار دیا ہے جبکہ مختلف مکاتب فکر کے علماءنے بھی اس فتوے کی حمایت کی ہے۔ علماءنے فتویٰ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی قومی ترانے کے بعض اشعار اسلامی عقائد کے خلاف ہیں کیونکہ ان میں ہندو دیوتاﺅں کی عبادت کا درس دیا گیا ہے۔ بعض علماءکا کہنا ہے کہ اس وقت بھارت میں دیگر بہت سے مسائل ہیں اور عام آدمی کو قومی ترانہ سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہندوستان کے قومی ترانہ کا مطلب ہے ”میں اپنی ماں کے سامنے سرجھکاتا ہوں “۔ یہ برطانیہ کے خلاف جدوجہد آزادی کے دوران ہندوﺅں کا قومی نعرہ تھا اور آزادی کے بعد اسے بھارت کا قومی ترانہ قرار دے دیا گیا۔
ایک اور اہم بات کہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے دنیا میں سب سے زیادہ افراد کا ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھنے کا بھارتی عالمی ریکارڈ منسوخ کر دیا ہے ۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے ای میل کے ذریعے اس بات کی درخواست کی گئی تھی کہ دنیا میں سب سے زیادہ افراد کے بیک وقت قومی ترانہ پڑھنے کا بھارتی عالمی ریکارڈ منسوخ کیا جائے کیونکہ بھارتی شہریوں نے ایک ساتھ وندے ماترم گا کر ریکارڈ قائم کیا تھا تاہم ”وندے ماترم“ بھارت کا قومی ترانہ نہیں بلکہ سرکاری ریکارڈ میں قومی گیت کے طور پر درج ہے البتہ قومی ترانہ ”جن گن من“ ہے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے پاکستانی نوجوانوں کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے بھارتی ریکارڈ کو قومی ترانے کی کیٹگری سے نکال دیا ہے ۔ جس کے بعد یہ ریکارڈ فلپائن کے پاس چلا گیا جہاں یکم ستمبر 2009ءکو 5248شہریوں نے ایک ساتھ قومی ترانہ گا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا تاہم گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے بھارتی ریکارڈ منسوخ کراتے وقت پاکستانی نوجوانوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ 14 اگست 2011ءکو ایک ساتھ قومی ترانہ گا کر ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لئے اُنہیں 5249افراد کی ضرورت ہے اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب جشن آزادی کی خوشی میں صوبہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے 5885نوجوانوں نے یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ترانہ پڑھنے کا عالمی ریکارڈ توڑدیا ۔ درجنوں نہیں، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں نے اکٹھے کراچی کے ڈیفنس اسٹیڈیم میں یک زبان ہو کر قومی ترانہ پڑھ کر اپنا اور ملک کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھوانے کا راستہ ہموار کر دیاہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button