ادارتی کالم

کیوں ہوتا ہے پشیمان پانی؟

تھرڈ امپائر
کیوں ہوتا ہے پشیمان پانی؟

تحریر: ممتاز امیر رانجھا
پورا ملک سوگ میں ہے۔ہر پاکستانی کے دل میں سیلاب کی آہیں اور سسکیاں دن رات درد جگائے نظر آتی ہیں ،ہر آنکھ سیلاب متاثرین کے درد سے نم ہے۔اس پریشانی میں کسی کے دل میں اس وقت تک کوئی نغمہ پھوٹنے کی رمق شاید باقی نہیں ہے جب تک یہ متاثرین اپنے گھر بار میں دوبارہ آباد نہیں ہو جاتے۔دکھ درد کی اس گھڑی میں پریشان کن قیاس آرائیاں بھی حقیقت کی طرح سب کے سامنے ہیں مثلاً خالی پیٹ روزہ رکھنے والے نہ جانے کیسے روزہ افطار کرتے ہوں گے۔عورتیں جو کہ سات پردوں میں تھیں وہ اب غیر مردوں کے سامنے کھلے آسمان پر رہنے پر مجبور ہیں ۔علاوہ ازیں کئی اور مسائل سے بھی دوچار ہیں جن کا مداوا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کر سکتی ہے۔
یوں ہوا وطن سے انجان پانی
کر گیا دیس کو ویران پانی
پورے ملک کی عوام اپنی طاقت کے عین مطابق متاثرین کی امداد اپنے اپنے پلیٹ فارم پر اپنی وساطت کے عین مطابق انشاءاللہ بھر پور طریقے سے کر رہی ہے۔ایسے موقع پر شاید ہی کوئی ایسا بد بخت ہو گا جومحض اپنی سیاسی دکانداری یا اپنی ہوشیاری میں مصروف ہوگا ورنہ ہر صاحب دل اور ہر درد مند فرد عین ایمانداری سے اپنا فرض نبھانے میں مصروف ہے۔رمضان کے اس بابرکت مہینے میں سیلاب کی تباہی کے موقع پر ہم سب پاکستانیوں اور مسلمانوں کو اس امتحان کی گھڑی میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کے متاثرین کے لئے اور باقی ماندہ ملت اسلامیہ کے لئے دعا گوہونا پڑے گا۔
بہہ گئے رنگ خوشبو اور باغ
پھر سامنے تھا سننان پانی
ٹی وی لگائیں تو طلعت حسین اور کاشف عباسی جیسے نیک دل اینکر پرسن عطیات جمع کرتے نظر آتے ہیں۔ادبی کالم پڑھیں تو عطاءالحق قاسمی، عرفان صدیقی، جاوید چوہدری اور حسن نثار جیسے پُر اثر کالم نویسوں کی دردمندی سیلاب متاثرین کے لئے چھلکتی نظر آتی ہے۔علاوہ ازیں پی ٹی وی سمیت تما م نجی چینل متاثرین کی امداد کے لئے منادیاں کرتے نظر آتے ہیں اور کئی صاحب ثروت افرادان کی حوصلہ افزائی کے لئے امدادی مہم کا حصہ نظر آتے ہیں۔
کئی مائیں کئی بیٹیاں کئی شیرخوار
بہا کے لے گیا نوجوان پانی
صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ بلتستان، صوبہ پنجاب ،صوبہ سندھ اور بلوچستان میں تباہی مچاتا ہوا یہ سیلاب اب اپنے انجام کو ہے لیکن ہر صوبے میں اجڑے ہوئے افراد کی اپنی اپنی دکھ بھری داستانیں ہیں ۔ہر صوبے میں لٹے پٹے اور بے چارے لوگ ہیں جو ہم سب کی طرف سوالیہ نظروں سے ہم سب کی امداد کے منتظر ہیں۔آزمائش کی اس گھڑی میں دل کھول کر امداد کا وقت ہے ایسا وقت اللہ تعالیٰ کسی کو نہ دکھائے ،یوں کوئی بے گھر اور بے کس نہ ہو اور آﺅ سارے ملکر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کی بھر پور مدد کی توفیق عطا فرمائے۔آئیں دلوں میں نرمی پیدا کریں اور اپنے دلوں سے تمام سیاسی و غیر سیاسی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیں۔یہ وقت ان کی امداد کا ہے ،اگر ہم نے یہ وقت ضائع کر دیا تو شاید یہ ملک خدانخواستہ پندرہ سال پیچھے چلا جائے گا۔جو ہو سکے وہ کریں اور جو نہیں ہو سکتا اس کے لئے بھی کوشش کریں۔
لوٹا دے میری وہ بستیاں
میری لے لو تم جان پانی
ہر پاکستانی کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو نا چاہیئے کہ اتنی بڑی تباہی کے بعد غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ پورے ملک میں کئی زرخیز زمینیں بنجر ہو گئی ہیں،کئی کھیت کھلیان اور باغ ختم ہو گئے ہیں۔کئی سکول اور تعلیمی ادارے صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔کئی افراد کے پہننے کو کپڑے باقی نہیں رہے۔سچ بتاؤں تو خاکسار کے قلم سے سیلاب کے علاوہ کسی اور Topicکی طرف الفاظ نہیں نکل رہے۔قارئین!آپ سے گزارش ہے آپکو جو بھی پلیٹ فارم میسرآئے اور آپکو جس پر یقین ہو ،خدارا خاکسار کی اپیل ہے متاثرین کی دل کھول کے مدد کریں۔اللہ تعالیٰ آپکو مزید توفیق دے گا،انشا ءاللہ۔
دیکھ کے سب کی سخاوتیں
کیوں ہوتا ہے پشیمان پانی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button