ادارتی کالم

کیسا دیس ہے میرا؟

کیسا دیس ہے میرا؟

ردا ء نذیر

کراچی میں گرتے لاشے دیکھے
پھر اپنے ہی لہو کو سڑکوں پر بے نام دیکھا
قومیت کے نام پر سر کٹتے دیکھے
پھر اپنے ہی لوگوں کو روتے دیکھا
بھوک اور افلاس میں سلگتے لوگ بھی دیکھے
اورپھر اپنے ہی حکمرانوں کو اقتدار کے نشے میں چور دیکھا
الٰہی عجب ماجرا ہے مذہب کے نام پر قتل ہوتے ہوئے دیکھے
اور پھر اپنی ہی قوم کو آہیں اور سسکیاں بھرتے دیکھا
یہ کیسا دیس ہے محبت و الفت کے نام پر جس کو بنتے دیکھا
پھر اس ملک کو زبانوں کے نام پر ٹکڑے ہوتے دیکھا
پاک کلمہ طیبہ کو جس ملک کی بنیاد بنتے دیکھا
پھر اسی قوم کو شراب و شباب میں مبتلا دیکھا
ایسی بے وجہ قتل ہوتے آدم کے بیٹے دیکھے بیٹیوں کو دیکھا
عزت و غربت کے نام پر سر بازار بکتی حوا کی بیٹیوں کو دیکھا
کیسا دیس ہے میرا؟ جہاں لہو کو پانی جتنی وقعت بھی حاصل نہیں ہے یہ قوم جشن آزادی منانے کی اہل کیسے ہو سکتی ہے جہاں نہ روٹی ہے نہ پانی ہے نہ بجلی ہے اور نہ ہی سوئی گیس۔ خوداری ہے نہ عزت نفس۔ ایمان ہے نہ اتحادو تنظیم اورنہ ہی اخوت۔ جو پہلے ہی ملک کو دو لخت کر چکے ہیں آج پھر وہی قومیں وہی بیمار ذہن عیاش افراد بے ضمیر سیاست دان انا پرست لیڈر آج پھرغریبوں کی ماں کراچی کو زبانوں اور قومیت کے نام پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں دنیا میں دو ہی ملک مذہب کے نام پر بنے اور دونوں ہی ممالک میں مذہب کو اپنے مطلب کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ پہلا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور دوسرا اسرائیل ۔انسانیت کی تذلیل عروج پر ہے کرپشن انتہا کی ہے لوٹ مار جاری قتل وغارت عام ہے اللہ تعالیٰ کے ذاتی پسند یدہ جیسے انسان میں بھی خون سے پیاس بجھارہے ہیںاس مقدس مہینے ۔ ماہ صیام میں آسمانی شیطان کو قید کر دیاجاتا ہے لیکن افسوس اسی مہینے میںزمینی شیاطین رقص کر رہے ہیں۔ مہنگائی، بدامنی ،کرپشن، گیس کی کمی، بجلی کی لوڈشیڈنگ، انصاف کے حصول میں حائل مشکلات، چور بازاری۔ ایسا ہے دیس میرا۔گیس سے مالا مال ملک میں 3دن سی این جی بند کر کے غریبوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیاگیا ہے یہ سارا کھیل صرف اور صرف پٹرول کو فروخت کرنے کے لئے دیکھایا جا رہا ہے بلیک مارکیٹنگ مافیا پٹرول کی آڑ میں دولت اکٹھی کر رہا ہے ہر سال ہمارے ہزاروں معصوم نونہال ہوس پرستوں کی ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں اگر درندگی کرنے والے درندوں کو سر عام سزا دی جائے تو وہ دوبارہ ایسا واقعہ رونما نہیں ہو سکتا ہے تیزاب پھینکنے والے ظالموں کو بھی تیزاب کی جلن محسوس ہوگئی تو ان کو بھی احساس ہو گا کسی عورت کو جیتے جی قتل کرنا کتنا بھیانک ہے ۔جبکہ اسلام توکان کے بدلے کان، ہاتھ کے بدلے ہاتھ، آنکھ کے بدلے آنکھ کا قانون پیش کرتا ہے تو پھر تیزاب پھینکنے والے کو یہ سزا کیوں نہیں دی جا سکتی عام سندھی بلوچی مہاجر پٹھان اور پنجابی کو صرف دو وقت کی روٹی سے غرض ہے وہ سیاست دان قوم پرست لیڈر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے اور اپنی دھاک بٹھانے کے لئے یہ کھلبلی مچا رہے ہیں کراچی کے حالات خراب کرنے میں تمام سیاسی جماعتیں ملوث ہیں کیونکہ وہ اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں اسی غرور میں وہاں لاشوں کے انبار لگا رہے ہیں اور روز گار زندگی معطل ہے۔ اب تو صدر زرداری صاحب نے اپنے صاحبزادے بلاول کو الیکشن میں کامیابی دلوانے کے لئے لیاری میں اربوں روپے ترقیاتی کاموں کا اعلان کر دیا ہے تا کہ جناب بہادر بلاول صاحب لیاری سے الیکشن جیتےں اور پھر پیپلزپارٹی کے پاس یہ کہنے کو ہو کہ بھٹو خاندان لاڑکانہ کے علاوہ بھی کسی اور سیٹ سے الیکشن جیت سکتا ہے۔ پاکستانی قوم کو ورثے میں عجب وراثت ملی ہے اربوں ڈالر کا قرضہ بڑی بڑی باتیں کرنے والے دانشور، اقتدار اور طاقت کے نشے میں چور چند خاندان۔ قوموں کو ورثے میں محنت ،لگن ،ہمدردی، محبت ،جذبہ ایمانداری اور حب الوطنی ملتی ہے اور ہمیں کیا ملا؟ آج کا سوچنے والے حکمران اور آج پر عمل کرنے والی قوم اس وقت کشکول لیے اغیار کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے قرضوں میں ڈوبا ملک جب چاہے قرض دینے والے بھی اس کاسود بڑھا دیتے ہیں اورملکی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں دوسروں پر تنقیدکرنے سے پہلے اگر خود کا احتساب کریں گے تو خود سے بڑھ کر گندے کسی کو نہ پاو گے قومی دن ۔احتساب کا دن۔ عید کا دن ۔کچھ اچھا کرنے کا دن۔ لیکن بے حس قوم روٹی کپڑے اور مکان کے چکر سے نکلے گی تو خطرناک حالات کا ادراک کر سکے گی عمر رسیدہ مگر جذباتی لیڈر بیان دے کر خون خرابہ کروا کر معافی بھی مانگ لیتے ہیں اچھی ادا ہے یہ خود ہی مارو اور پھر معافی بھی مانگ لو؟ پاکستان کتنی مشکلات کے بعد وجود میں آیا۔ کس نے بنایا؟ کتنی قربانیوں کے بعد بنا؟ ان سب داستانوں کے ساتھ اب ضروری ہو گیا ہے کہ قوم کی اصلاح کی جائے نوجوانوں کے لئے مثبت سرگرمیاں کا آغاذ کیا جائے قوانین میں ترامیم کی جائے ظالم کو ہر حال میں سزا دی جائے مظلوم کی دادرسی ہوجس دن قانون سب کے لئے یکساں ہو جائے گا وہی دن ہماری مثبت تبدیلی کا دن ہوگا سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ٹھنڈے دل اور حب الوطنی کے پیش نظر فیصلے کرنے ہوں گے نہ کہ جذباتیت اور مفاد پرستی کو عزیز رکھا جائے پاکستان ٹھنڈی چھاوں ہے یہ ایک چھت ہے جو زمانے کی دھوپ سے، آگ کے انگاروں سے ہمیں جھلنے سے بچائے ہوئے ہے خدا نخواستہ جس دن یہ سایہ چھین گیا تو عیش وعشرت اور سہل پسندی ختم ہو جائے گی دنیا میں کوئی ہمارا دوست نہیں ہے جب تک ہم خود کے دوست نہیں بن جاتے اپنی ذات، اپنی قوم، اپنے لوگوں کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہو سکتے حالانکہ یہ دیس بہت ذرخیز ہے اس کی مٹی سونا اگلتی ہے وسائل سے مالا مال ہے معدنی وسائل موجود ہیں چاروں خوب صورت موسم بھی ہیں لیکن پھر بھی آٹا چینی اور چاول کا بحران ہے مہنگائی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم محض اس لئے نہیں بنائے گئے کہ قوم پرست لیڈر ایسا نہیں چاہتے اور وقتی مفاد کی خاطر حکومتیں بھی جرات مندانہ اقدام اٹھانے سے گریز کرتیں رہیں 14اگست تجدید کا دن ہے خود سے عہد کرنے کا، خود کوپرکھنے کا، خود کو بدلنے کا، کیونکہ یہ دیس ہماراہے ہم رہےں یا نہ رہےں یہ ملک قائم و دائم رہنا چاہئے خود کو باوقار بنانا ہوگا خوداری کو اپنانا ہو گامنافق ،چالاک، مفاد پرستوں لیڈروں کے گریبان چاک کرنے ہوںگے چاہے وہ لوگ ہمارے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button