ادارتی کالم

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن


شہزاد اقبال

شہر قائد گزشتہ ہفتے جرائم پےشہ افراد کی نسبت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں رہا ما سوائے ملیر میں حضرت امام حسین ؓ کے چہلم پر ہونے والے دھماکے کے کوئی بڑا نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ،جس میں موٹر سائےکل میں نصب بم پھٹنے سے 4پولیس اہلکار شہےد ہو گئے اس دن لاہور میں بھی افسوس ناک واقعہ ہوا جس میں 14افراد جان کی بازی ہار گئے ،کراچی میں گو بظاہر حالات معمول پر آ رہے ہےں لےکن لگتا ےہی ہے کہ ےہ گرد وقتی طور پر بیٹھی ہے اور جےسے ہی موقع پرستوں کو موقع ملے گا وہ شہر کے امن و امان کو اےک بار پھر خراب کر دےں گے ۔

کراچی آپریشن کے حوالے سے ہر جماعت اپنا راگ آلا پ رہی ہے ۔ چند روز قبل تک وفاقی وزےر داخلہ رحمان ملک ،وزےر اعلیٰ سندھ سےد قائم علی شاہ اور اور وزےر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کوےہ علم نہیں تھا کہ رےنجرز آپرےشن کرنے کی اجازت کس نے دی تا ہم گزشتہ ہفتے میں ان پر ےہ راز افشاءہو گےا۔ مثلاً رحمن ملک صاحب کا کہنا ہے کہ کراچی مےں آپرےشن ہو ا نہ کرنے کا ارادہ ہے تا ہم وہ ےہ بھی کہہ رہے ہےں کہ ٹارگٹ کلنگ کے جواب مےں ،’ٹارگےٹڈ آپریشن‘ کر رہے ہےں جہاں ضرورت پڑی فوج بلا سکتے ہےں اور کراچی کو لبنا ن بنانے کی سازش ناکام بنا دی ہے جبکہ وزےر اعلیٰ سندھ سےد قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی مےں رےنجرز آپرےشن کی باتیں بے بنےاد ہےں آپرےشن کیا ہی نہیں تو پھر اجازت کس بات کی؟ تو اب دونوں اعلیٰ حکومتی عہدےداروں کے نزدےک کراچی میں کوئی آپریشن نہیں ہوا حالانکہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہےے کہ وہ پاکستان کے اقتصادی مرکز میں جو کلی و جزوی آپریشن کر کے حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہےں اس میں پولیس کی ناکامی کے بعد اگر رےنجرز آتی ہے اور وہ اس میں کامےابی حاصل کر تی ہے تو ےہ بات حکومت کی بدنامی کا باعث نہیں بنتی عوام کو تو سکون چاہےے امن و امان کے حالات میں ہی وہ روز گار کے بہتر مواقع سے استفادہ کر سکتے ہےں ورنہ گزشتہ 25روز کے کراچی کے حالات کا جائزہ لےں تو اس میں 104 افراد ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہو گئے جبکہ جرائم کی 5ہزار سے زائد وارداتیں ہو ئےں۔

وزیر اعظم سید یوسف رضا گےلانی کا ےہ کہنا درست ہے کہ کراچی میں امن و امان کے قےام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے لےکن صوبائی حکومت اس معاملے کو کتنی سنجےدگی سے لے رہی ہے وہ سب کے سامنے ہےں حالات تو اس قدر خراب ہو چکے ہےں کہ سےاسی جماعتوں کے سربراہ شہر قائد کو فوج کے حوالے کرنے کی باتیں کر ر ہے ہےں دوسرے معنوں مےں وہ سول انتظامےہ کی ناکامی کو مکمل تسلےم کر چکے ہےں مسلم لےگ ق کے چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین گزشتہ ہفتے کراچی میں تھے انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ پتہ نہیں سندھ حکومت کون چلا رہی ہے کراچی میں امن کے لئے فوج بلانے میں کوئی حرج نہیں ،پےر پگاڑا صاحب کہہ چکے ہےں کہ کراچی مےں مارشل لاءلگا دیا جائے ،مسلم لےگ ہم خےال کے سلےم سےف اللہ فرماتے ہےں کہ کراچی مےں حالات کنٹرول کرنے کے لئے فوج بلائی جانی چاہےے ،سےاسی رہنماﺅں کی جانب سے اس قسم کے بےانات سے عوام میں ےہ تاثر پےدا ہوتا ہے کہ جمہوری حکومت ،نظام چلانے مےں ناکام ہے اور وہ مصےبت کی اس گھڑی میں فوج کی جانب دےکھتی ہے موجودہ حالات میں بھی سول انتظامےہ کا اےک اہم اور طاقت ور محکمہ پولیس بری طرح سے ناکام ہو ہو چکا ہے لےکن اس کی بہتری اور اصلاح کی بجائے ہماری حکومتیں وقتی حل کا سوچتی ہےں جو جمہوری نظام کے لئے نقصان کا باعث بنتا ہے ۔

بزرگ سیاست دان پیر پگاڑا صاحب کے مارشل لاءکی بات پر متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین کیسے خاموش رہ سکتے ہےں اور انہوں نے اپنے ٹےلی فونک خطاب میں پنجاب میں جرائم کی وارداتوں کو کم کرنے کے لئے وہاں مارشل لاءلگانے کی بات کر دی جس پر پاکستان کے عوام نے انتہائی نا پسندگی کا اظہار کےا اس کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی مسلم لےگ ن اور اےم کےو اےم میں پنجاب میں مارشل لاءکی بات پر جھڑپ ہوئی اےم کےو اےم کے قائد اےک جانب انقلاب کی باتیں کر رہے ہےں اور دوسری جانب مارشل لاءکو خوش آمدےد بھی کہہ رہے ہےں ےہ کس قسم کا انقلاب ہے اور کےسی جمہورےت ہے کہ جس کا خواب لندن کے پر تعیش رہائش گاہ میں بیٹھ کر الطاف حسین دےکھ رہے ہےں عوام ےہ کہنے مےں حق نجانب ہیں کہ اصل انقلاب اس وقت آئے گا جب الطاف حسین لندن چھوڑ کر پاکستان آئےں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button