ادارتی کالم

ڈی ایس ایل سروس سے ذلالت تک

تحریر:محمد وجیہہ السما

دنیا میںآئے روز نت نئی اشیا ءایجاد ہو رہی ہیں ہر کسی کے اپنے فائدے، نقصانات اور قیمت ہے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان کمپنیوں پر عوام کا اعتماد ہے چاہے وہ الیکٹرونکس کی اشیا ءہوں یا جیولری کی۔ کمپیوٹرکی دنیا ہو یا کو ئی اور دنیا ۔سب اپنی اپنی دنیا میں موجود ہو تے ہو ئے عوام کو فا ئدے دے رہے ہیں اسی طرح ٹیلی کام کمپنیوں کودیکھیں یا لا ئن رینٹ فون کو دیکھیں تو وہاں بھی انقلاب بھرپا ہے۔ اور یہ کمپنیا ں بھی اپنے اپنے کسٹمرز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہو ئے اپنی اپنی سروسز دے رہی ہیں انہی میں سے ایک سروس کا نام ڈی ایس ایل ہے جسے پی ٹی سی ایل نے انٹرڈیوس کر وایا ہے اس کمپنی نے اپنے کسٹمرز کے معیار اور ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہو ئے دو طرح کی سروس فراہم کی جو کہ کسی بھی کمپنی کا پاکستان میں انوکھا کام تصور کیا گیا یہ سروس ایک طرف تو عام لوگوں کے لئے اور بزنس مینوں کے لئے تھی تو دوسری طرف طالب علموں کے لئے تھی جس میں عام طالب علموں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہو ئے ان کو سروس میں بھی فیور کی گئی تا کہ وہ بے فکر اور کم داموں پر اپنا کام بہتر طریقے سے مکمل کر لیں۔ جو کہ ایک خوش آئند با ت ہے ۔ مگر وقت گزرنے کے سا تھ ساتھ پی ٹی سی ایل بھی اپنی سروس کو برقرار نہیں رکھ سکا ۔اس کی مقبولیت میں تو دن بدن اضا فہ ہو رہا ہے مگر سروس دن بدن گھٹیا سے گھٹیا ترین ہو رہی ہے۔ اس سروس میں آ ئے دن مشکلات آ تی رہتی ہیں کبھی ڈی پی سے دوری کا اور کبھی سگنلز کم آ نے کا بہا نہ کیا جا تا ہے تو urdusky-writerکبھی فون لا ئن میں شور کا غورغلہ کیا جا تا ہے ۔ کبھی اچھے پیئرز لگا نے کا فرمان جا ری کیا جا تا ہے تو کبھی کو ئی ڈرامہ عوام کے مقدر میں لکھ دیاجا تا ہے۔ غر ض کسٹمرز اپنی کمپلین کروا کروا کے تھک چکے ہیں ۔ مگر پی ٹی سی ایل کی انتظا میہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔میں کسی دوسرے کی سٹوری لکھنے سے پہلے اپنی لکھ رہا ہوں ۔میں نے تقریبا 8ماہ قبل ڈی ایس ایل کی سروس کے لئے اپلا ئی کیا جسے پی ٹی سی ایل نے بخوشی قبول کیا اور مجھے سروس فراہم کر دی ۔مگر ابھی ایک ما ہ ہی گزرہ تھا کہ آ ئے روز نیٹ میں مسئلہ آ نے لگا۔کبھی لا ئن میں شور ۔ تو کبھی ڈی پی دور کا کہہ کر جا ن چھرائی جا نے لگی ہزار ہاہ کمپلنز کر نے کے با وجود رزلٹ ناکا می ہی رہا۔ اگر ان کے مینجرز ، ایس ڈی او زوغیرہ سے بات کی جا ئے تو آئندہ اس طرح کی پرابلم نہیں آ ئے گی۔ یا ٹھیک ہو جا ئے گا۔ وغیرہ وغیرہ کہہ کر ریسور رکھ دیتے ہیں ۔مگر آ ج تک میری سروس کا معیار دن بدن کم ہی ہو ا ہے اور ہر ماہ کے بل کو میں باقاعدہ ادا کر رہا ہوں۔جب کہ بمشکل ایک ماہ میں 8/10دن ہی نیٹ استعما ل کر پاتا ہوں۔ جب بھی ان کا عملہ سروس ٹھیک کر نے آ تا ہے ۔ تو وہ کہتا ہے کہ” جتنا چلنا تھا چل گیا “ اب اس نمبر پر مزید نہیں چل سکتا اس لئے ہم اسے بند کر رہے ہیں ”روز روز کمپلینز کر نے کی ضرورت نہیں نہ ہی ہم سروس دے سکتے ہیں سب سے اچھے” پیئرز “ آ پ کی لا ئن کو لگا ئے ہیں اب بھی نہیں چلتا تو ہم کیا کر یں“ اور 1236والوں کو کیا پتہ ہے کہ ا ٓپ کا نمبر کہاں لگا ہے اور کس رینج میں ہے و ہ لوگ تو آپ کی کمپلین فاروڈ کر کے خود بری الزمہ ہو جا تے ہیں اور ہم آ گے ذلیل ہو تے ہیں۔کبھی یہ فرمایا جا تا ہے کہ آ پ کی لا ئن میں گڑ بڑ ہے تو کبھی اس کا ڈی پی سے فا صلہ ماپا جا تا ہے اور کبھی بنا کسی مسئلے کے ہی اس کی سپیڈ کم ہو جا تی ہے
آ خر کار میں نے تنگ آ کر اس سے جان چھڑا لی۔ اور اپنے 8ماہ کا حساب لگا تو بمشکل تین ما ہ ہی اس نے سروس فراہم کی گئی۔ مگر بہ امر مجبوری مجھے یہ سروس پھر لینی پڑی اسی طرح مجموعی طور پر فلاپ سروس ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہ باعث رحمت کی بجا ئے با عث زحمت بنی ہو ئی ہے لوگ تنگ آ کر اسے کٹوا رہے ہیں ۔۔ یہ تو تھی میری اپنی کہا نی اسی سے آ پ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ با قی لوگوں کا کیا حال ہو گا کیو نکہ میرے خیال میں ہر جگہ ایسے ہی حالات سے بزنس مینوں، اخبارات اور طالب علموں کو واسطہ پڑتا ہے ۔اور وہ پر یشان حال ہیں۔پی ٹی سی ایل کی انہی کمزوریوںکو مد نظر رکھتے ہو ئے پرائیوٹ کمپنیوں نے اپنے اپنے جال بچھا نے شرو ع کر دئیے ہیں ۔اور وہ اس کام میں کروڑوں روپے کما رہی ہیں جن میں Brian Net / World Callوغیرہ شا مل ہیں یہ کمپنیاں پی ٹی سی ایل سے سستے اور تیز ترین پیکجزز متعارف کروا رہی ہیں جس سے صارف اپنی ضروریات کو پورا کر نے کے لئے ان کی جانب متوجہ ہو رہا ہے اور یہ کمپنیاں اپنی بہتر سروس سے پی ٹی سی ایل کے اس دعوے کو یکستر مسترد کر رہی ہیں کہ سروس دینا آ سان کام نہیں اور یہاں اب اور نیٹ نہیں چل سکتاوغیرہ وغیرہ۔ یہ بات پی ٹی سی ایل کے ارباب اختیار کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیو نکہ ہر پاکستانی اپنے ملک اور اس کے اداروں کو فیور کر تا ہے اور کر نا چا ہتا ہے مگر حکومتی اداروں کی ذلالت کا شکار بھی بیچارہ صارف ہی ہو تا ہے۔ اس کے ساتھ سا تھ یہ بھی مان لیا جا ئے کہ ڈی پی دور ہے تو راقم یہ بات ارباب اختیار سے پو چھنے کا حق رکھتا ہے کہ ڈی پی سے ٹیلی فو ن کیبل کو دوسری نزدیکی ڈی پی پر لے جا نایا کو ئی نئی ڈی پی لگانا کس کا کام ہے؟ محکمے کاکا م ہے یا غریب عوام کا؟ جوسروس کے پیسے تو دیتی ہے مگر” مفت میں ذلیل بھی وہی ہو تی ہے“۔اوراگر ڈی پیز دور ہیں یا وہ سگنلز نہیں لے رہیں تو ان علاقوں میں اہلکاروں کو ڈی پیز کیوں نہیں لگا نے دی جا رہیں یا ان کو اس بارے حکم کیو ں نہیں دیا جاتا کہ صارف کو اچھی سروس دینے کے لئے جو کر نا پڑے کرو۔ تا کہ عوام کو خوشی ملے۔ کیا ان لوگوں نے یہ ڈی پیز اپنے گھر سے لا کر لگا نی ہو تی ہیں جو ان کو تکلیف ہو تی ہے یا ان کی اپنی جیب سے پیسے جا تے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی سی ایل کو اپنا ٹائم بھی بدلنا چا ہیئے کیوں کہ9بجے دفتر تو کھل جا تے ہیں مگر ان کے کام کر نے خصوصا نیٹ کے شہزادے 11بجے سے اپنا کام شروع کر تے ہیں اور 4 بجے کے سا تھ ہی اپنا ”کام“ مکمل کر کے اپنے گھر چلے جا تے ہیں۔یعنی 24گھنٹوں میں صرف 6/7گھنٹے کام ہو تا ہے۔اگر پی ٹی سی ایل اپنی سروس اور بہتر بناناچاہتا ہے تو اسے چا ہیئے کہ وہ اپنا تمام ملازمین کو ہر شعبے کی تربیت دے چا ہے وہ لا ئن مین ہے تو اسے ڈی ایس ایل کے بارے میں بتا یا جا ئے اور اگر وہ ڈی ایس ا یل(نیٹ سروس)کا اہلکار ہے تو اسے بھی لا ئن مین کے کام کے بارے میں بتا یا جا ئے تا کہ ہر کو ئی ون مین شو بن کر صارف کی مشکلات کوجلد از جلد حل کر سکے۔اور ان تمام اہلکاروں کو تمام شعبہ جات کے خصوصی کورسز کر وا ئے جا ئیں ۔ کال سینٹر پر بیٹھے ہو ئے لوگوں کو بھی اسی قاعدے پر عمل درآمد کر تے ہو ئے ایسی تر بیت دی جا ئے۔ کیو نکہ پی ٹی سی ایل نے کال سنٹر ز میں بھی شعبہ جات کو مختلف حصوں میں بانٹ رکھا ہے جس سے اس کی کاردکردگی پر اثر پڑ رہا ہے کیو نکہ کئی بار ایسا ہو تا ہے کہ ایک عام صارف غلطی سے کال ملا لیتا ہے مگر وہ اس کے مطلقہ ڈیپارٹمنٹ کی نا ہو نے کی وجہ سے اسے مدد نہیں ملتی اس لئے ان تمام اہلکاروں کو بھی آل ان ون کر دیا جائے تو کا فی جلد صارف کی مشکلات پر قا بو پا یا جا سکتاہے۔اس سے صارف کا اعتماد بھی ان پر بڑھے گا اور ان کا فائدہ بھی ہو گا ۔اس کے ساتھ ساتھتمام شہروں میں اپنے کام کر نے والے عملے کی ایمرجنسی سروس بھی فراہم کر نی چا ہیئے تا کہ ہر شہر میں موجود ہو نے کی وجہ سے صارف کو ہفتہ کی رات اور اتوار کا دن و رات میں آ نے والی مشکلات پرفوری کام ہو سکے ۔اور وہ لوگ بھی کام میں مہارت حاصل کر یں ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button