ادارتی کالم

چیف آف آرمی سٹاف سے کیا گیا ایک سوال

سیدکبیر واسطی نے اچانک ایک کالم لکھااوراس میں لکھا کہ میں منتخب مافیا کا استبدادمزیدبرداشت نہیں کرسکتا کرپشن، اقربا پروری ، بدانتظامی،نااہلی اورقومی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بچگانہ سوچ،قیمتوں میں بے پناہ اضافہ،سرمایہ کاری کارُک جانا سٹیٹ بنک کے قرضوں کا لامتناہی سلسلہ۔بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورلوگوں کاعدم تحفظ کا شکارہونے کاسلسلہ نہ رکنا….یہ وہ جمہوریت نہیں جس کاہم مطالبہ کرتے ہیں۔مجھے لوگوں کی حالت پرترس آتاہے جوروزانہ ٹی وی پرآکرحکمرانوں کے کرتوتوں پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور اس نظام کادفاع کرتے ہیں۔یہ وہ قیادت ہے جس نے جمہوریت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ قائم کررکھی ہے جوملک کے لیے ناسور بن رہی ہے اور یہ سب کچھ فوجی حکمرانی سے بدترہے….کم ازکم سب کچھ غیرقانونی ہے اوراس پرہرشخص کواحتجاج کاحق ہے….ہمارے آئین نے اس ڈکٹیٹر شپ کو تسلیم کررکھاہے توکےاہم یقےن کرلےں کہ ےہ نااہلی اوربدعنوانی ہمےں دیوالےہ پن کی طرف بھی لے جائے۔تب بھی یہ ملک کے لیے اچھی بات ہوگی….اوراگرہم اسے نہیں روک سکتے توکےاہم ایساہوتے دےکھتے رہیں گے؟ان باتوں سے ایک اورسوال میرے ذہن میں پیداہوتاہے۔جس کاواضح جواب ضروری ہے اوروہ یہ کہ کیا آرمی چیف کو ان کی ملازمت مےں تےن سال کی توسیع اس لیے دی گئی کہ وہ بدعنوان عناصر کاتحفظ کرتے رہیں۔قوم سیاسی طاقت کے غلط استعمال اورقومی اداروں کواربوں روپے کانقصان پہنچانے والوں کے خلاف جتنا زیادہ احتجاج کرتی ہے۔اتنی ہی شدومد کے ساتھ لوٹ مار کاسلسلہ جاری ہے۔کےاآرمی چیف کے ساتھ ےہ طے پاگےا ہے کہ اپنے عہدے مےں تےن سال کی توسیع کے صلے مےں وہ اس لوٹ مار کوجاری رکھنے کی اجازت دےں گے….اگرچہ ےہ سوال انتہائی تکلیف دہ ہے لےکن اس کا فوری جواب ضروری ہے تاکہ قوم اس بات کافےصلہ کرسکے کہ فوج اس وقت کس کے ساتھ کھڑی ہے؟کےاےہ بات کافی نہےں کہ جرنیلوں نے ملک پرحکمرانی کی اوراربوں کے ذاتی اثاثے بنائے اوراب انہےں اےک ایسی حکومت کا تحفظ اورحمایت کرنی پڑرہی ہے۔جو ملک کو انتہائی پستی کی طرف دھکیلنے پر آمادہ ہے….اوراگر موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت مےں توسیع اس لےے دی گئی ہے کہ وہ موجودہ حالات برقراررکھےں اس بدعنوان حکومت کو تحفظ دیں۔انہیں ججوں کی توہین اوراس کا تمسخر اڑانے کی اجازت دےں تومیری ےہ تجویز ہے کہ ےہ توسیع واپس لے لی جائے۔تاکہ اےک نےاکمانڈر چارج سنبھالے اورفےصلہ کرے کہ ملک کوکہاں لے جاناہے۔لیکن اگرےہ توسیع ملک مےں استحکام برقراررکھنے،بدعنوانی کاقلع قمع کرنے ،اقربا پروری کوروکنے،قانون اوراس کی حکمرانی کااحترام کرنے اورعدالتی فےصلوں پرعمل درآمد کرکے آزاد عدلیہ کی بالادستی قائم کرنے کے لےے دی گئی ہے توپھرفوج کواپنا کرداراداکرنا چاہیے آرمی چیف کے لےے وقت آگےا ہے کہ قوم پرثابت کریں کہ وہ کرپٹ حکمرانوں کوتحفظ دینے کے لیے نہیں۔بلکہ ملک وقوم کے مفادمےں اس عہدے پرموجودہےں۔
قارئےن!اس مضمون مےں آخرمےں ےہ نوٹ بھی موجود ہے کہ مضمون نگاراےک سےنئر سیاستدان ہےں اور انہیں فوجی اسٹےبلشمنٹ کے قرےب سمجھا جاتاہے۔
قارئےن!ےہ سیدکبیرواسطی کےاکہہ رہے ہےں کےالکھ رہے ہےں اس پرآگے چل کر لکھتاہوں۔مجھے کل جنرل (ر)حمیدگل نے فون کےا اورکہا کہ خوشنودہم جوریٹائرڈفوجی ہےں اگرانہوں نے امرےکی ریمنڈڈیوس کو واپس بھیجا….توہم سب رینک لگائے بغیر وردےاں پہن کر آجائےں گے ….پھرےہ ہمےں گولےاں مارتے ہےں تومارےں۔
قارئےن!ےہ کم الارمنگ Situation نہےں ہے۔اورقارئےن! ےہ جو سیدکبیر واسطی نے چیف آف آرمی سٹاف سے سوال کےا ہے…. یہ ہراےک کے ذہن میں تھا لےکن لوگ ےہ بات کہہ نہےں پارہے تھے….اس سے پہلے کسی نے چیف آف آرمی سے اس طرح کاسوال نہیں کیا۔ےہ سوال بہرحال اےک سوال اوراےک سوچ ہے….
لوگ پوچھتے ہےں وہ کون سی حکومت ہوگی جوان کی بات کرے گی …. جنہےں عوام کہتے ہےں۔
لہٰذاقارئےن!آج کچھ نہےں سوائے اس Reproductionکے ….مےں سمجھتا ہوں کہ سیدکبیر واسطی کاسوال بہت بھاری ہے۔
قارئےن! ےہ جومےں نے جنرل (ر)حمیدگل کی بات لکھی ےہ ریمنڈڈیوس کے بارے مےں ان کا کہناےہ ہے کہ اگرحکومت نے اسے واپس امرےکہ کودےاتوہم سب (ریٹائرڈفوجی)وردےاں پہن کر(رینک لگائے بغیر سڑکوں پر آجائےں گے….مارےں جس نے ہمےں گولی مارنی ہے میرے فیس بک کے اےک دوست ےا FAN نے لکھا ہے۔
”اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سرزمین جاسوسوں کے حوالے کی جاچکی ہے۔بتائیں ایسے کتنے ریمنڈ ہیں جن کو ہماری حکومت نے اجازت دی ہے کہ پاکستان کی سرزمین کواستعمال کرے۔ جاسوسی کریں اورجوشخص انہیں مشکوک نظرآئے اسے گولی مار دیں۔اسی پرجنرل (ر)حمیدگل کہہ رہے تھے کہ ریمنڈڈیوس نے ان نوجوانوں کوتوقتل کردےاجنہوں نے اسے خلاف قانون کام کرتے دےکھاتھا….
قارئین!ریمنڈڈیوس کا ایشوپاکستان مےں مصر کی سی صورت حال پیداکرسکتاہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button