ادارتی کالم

پنجاب بمقابلہ امریکہ


شہزاد اقبال

سابق امریکی صدر فرینکلن نے کہا تھا کہ نیکی کا آغاز مشکل اورانجام بخیر ہوتا ہے برخلاف اس کے کہ بدی ابتداءمیں لذیز اور ا نجام کا رتکلیف دہ ہوتی ہے معلوم نہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کی نظر سے یہ مقولہ گزراہے کہ نہیں اگر گزرا ہوتا تو شاید وہ 27جنوری کو مزنگ چونگی لاہور میں 2پاکستانی نوجوان کو قتل کرنے کی” لذت“سے ہمکنار نہ ہوتا کہ اس دوران ایک تیسرا پاکستانی بھی امریکی قونصلیٹ کی گاڑی تلے آکر زندگی کی بازی ہار گیا ۔ گویا ایک فلمی سین ڈیوس کے لیے برپا ہوا تھا اور وہ اس منظر نامے میں اپنے آپ کو ہیرو سمجھ بیٹھاتھا کہ کس طرح اس نے دو ڈاکوﺅں کو( مبینہ طور پر ) اپنے دفاع میں مار دیا اسکی ویڈیو بنائی اور پھر موقع واردات سے فرار ہو گیا ۔
ریمنڈ ڈیوس اب پنجاب پولیس کی تحویل میں ہے، کیس عدالت میں جا چکا ہے اور جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا جا چکا ہے لیکن گزشتہ چار پانچ دنوں سے امریکی انتظامیہ،کانگریسی وفد اور پاکستان میں امریکی سفارت خانہ وقونصلیٹ پاکستانی قیادت پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کورہا کیا جائے اس کی تحویل غیر قانونی ہے اور اسے بطور سفارتی اہلکار وتکنیکی معاون کے استشیٰ حاصل ہے غرض امریکہ اپنے ایک شہری کے لیے اس قدر فکر مند ہے کہ وہ اپنی تمام کوشش صرف کر رہاہے، دوسری جانب اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ کوئی’ درمیان کا راستہ‘ نکالا جائے تاہم بعد میں ان اطلاعات کی تردید کر دی گئی ۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک پنجاب کی قیادت سے رابطوں میں ہے جبکہ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ معاملہ چونکہ عدالت میں ہے لہذا قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی اور کوئی دباﺅ برداشت نہیں کیا جائے گا دریں اثناءیکم فروری کو صدر آصف علی زرداری نے بھی امریکی کانگریس کے وفد سے یہی بات کی ۔ ادھر میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بھی قانون کی بالادستی کی بات کی ہے اور ہو نا بھی ایسا چاہیے کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کے پاس اپنی صفائی کے لیے کچھ ہے تو اسے عدالت کے رو برلانا چاہیے وگرنہ تو یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کا پاسپورٹ اور نام تک جعلی ہے وہ نہ سفارتی اہلکار ہے نہ ہی تکنیکی معاون وہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے اور بلیک واٹر کے لیے کام کرتا ہے، اردو اور پشتو بولنے والا ریمنڈ ڈیوس پہلے بھی پاکستان سے نکالا جا چکا ہے مگر اس کے باوجود وہ پاکستان پہنچ جاتا ہے تو اس میں کسی تعجب کی بات نہیں کہ امریکہ میں موجود پاکستان سفارت خانے پر جوالزمات لگائے جاتے ہیں کہ وہ بغیر کسی چھان بین کے امریکی شہریوں کو ویزے دے رہا ہے اس نے حالات خراب کر دیئے ہیں اور یہاں تک کہا جارہا ہے کہ چارٹرڈ جہاز پاکستان کے غیر آباد اور غیر معروف ہوائی اڈووں پر اترتے ہیں جہاں سے ریمنڈ ڈیوس جیسے کرداروں کو بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے ملک بھر میں پھیلا دیا جا تا ہے۔
امریکی سفارت کاروں اور اہل کاروں کی دیدہ دلیری کی مثالیں تو پہلے بھی موجود ہیں اسلام آباد اور لاہور کینٹ میں ان کے ماوراءقانون وماوراءجنیوا کنونشن اقدام

امریکہ کی شرمندگی کے لیے کافی ہے ڈرون حملے بھی کسی عالمی معاہدہ یا کنونشن کے تحت نہیں ہو رہے تو پھر انسانی حقوق کا چمپئن امریکہ ریمنڈ ڈیوس کے 2انسانوں کے قتل ادراس کے مجرمانہ عمل کے نتیجے میں ایک اور شہری کی ہلاکت سے بری ا الذمہ ہونے کی کیوں کوشش کر رہا ہے ؟ نہ تو واشنگٹن اس سلسلے میں قانون کی بات کر رہا ہے اور نہ ہی لاہور میں قائم امریکی قونصلیٹ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کررہا ہے لیکن اس تمام تناظر میں پنجاب حکومت کا موقف بڑاواضح ہے باوجود اس کے کہ امریکہ براہ راست اس پر بھی اثر انداز ہورہا ہے لیکن شہباز شریف اور ان کی ٹیم دو ٹو ک الفاظ میں کہہ چکی ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے اور ملزم کے ساتھ قانون کے تحت برتاﺅ کیا جائے گا۔
محسوس ایسا ہی ہور ہا ہے کہ پنجاب میں ایک اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پیدا ہو گیا ہے اگر چیف جسٹس افتخار نے اپنے وقت کے ملکی آمر جنرل پرویز مشرف کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا تو شہباز شریف عالمی آمر اوباما کے خلاف اٹھ کھڑ ا ہو ا ہے اور یہ انکی کوئی ضد نہیں، حق وانصاف اور صائب بات کے لیے ہے اور اگر میاں شہباز شریف اپنے موقف پر ڈٹے ر ہیں تو پوری پاکستانی قوم کے دلوں میں وہ گھر کر جائیں گے۔
مزنگ چونگی لاہور کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں قومی غیرت اور حمیت کا معاملہ ہے کہ آخر کیسے امریکی سفارت کار کی آڑ لے کر 3پاکستانیوں کو قتل کیا گیا ، فرض کریں کہ اگران میں سے دو مجرم بھی تھے تو تر بیت یافتہ ریمنڈ ڈیوس کو ان کو قتل کرنے کا کیا حق تھا وہ انہیں زخمی بھی کر سکتا تھا غر ض کئی صورتیں اور شہادتیں ہیں جو ملزم ڈیوس کے خلاف جارہی ہیں ۔ ان حالات میں پاکستان کے حکمرانوں کو سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا ۔ عوامی غیض وغضب کا اندازہ حکمرانوں کو ہو چکا ہے اور عرب ریاستوں میں حکمرانوں کی نا انصافی اور کرپشن سے جس احتجاجی لہر کا آغاز ہوا ہے اس کی جھلک ہم پہلے ہی 14اور 15مارچ 2009کو دیکھ چکے ہیں لہذا حکمران وہ بول بولیں اور وہ قدم اٹھائیں جو حق وانصاف پر مبنی ہو ۔عام پاکستانی بھی نہیں چا ہے گا کہ ریمنڈ ڈیوس کے ساتھ وہ سلوک ہو جو ان کی معصوم بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی کرچکے ہیں کیونکہ ڈیوس نے تو دن دیہاڑے سب کے سامنے قانون کو ہاتھ میں لیا، لہذا عافیہ اور ڈیوس کا تقابلہ ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر والے ریمنڈ کی رہائی کے بدلے اپنی بہن کی رہائی چاہتے ہیں لہذا وہ حق پر کھڑے ہیں ان حالات میں پنجاب حکومت اور اس کے سربراہ میاں شہاز شریف کو فرینکلن کی یہ بات یا د رکھنی چاہیے کر نیکی کا آغا ز مشکل اور انجام بخیر ہوتا ہے اس نیکی میں اللہ اور عوام ان کے ساتھ ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button