ادارتی کالم

پاکستان اور بنگلہ دیش ایک باپ ہی کے دو بیٹے ہیں

تحریر : محمد اسلم لودھی

ورلڈ کپ کا اختتام ہوچکا ہے پاکستان کو سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز ہی مل سکا ۔ لیکن ورلڈ کپ 2011 اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل تصور کیا جاسکتا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران بنگلہ دیش میں بطور خاص پاکستان کے حوالے سے بہت خیر سگالی کے جذبات ابھرتے نظر آئے ۔ جن لوگوں نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کا افتتاحی پروگرام دیکھا ہے وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے جب شاہد آفریدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم ڈھاکہ سٹیڈیم میں داخل ہوئی تو پورا سٹیڈیم پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا اور ہزاروں بنگالی نوجوان دیوانہ وار رقص کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ یہ والہانہ استقبال ثابت کرتا ہے کہ 40 سال علیحدگی کے باوجود ابھی تک بنگالی بھائیوں کے دل میں پاکستان سے والہانہ محبت موجود ہے ۔ بزرگ کہتے ہیں کہ خونی رشتے کبھی تبدیل نہیں ہوتے ایک باپ کی اولاد میں بھی اختلاف urdu-writerہوجاتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھائیوں کے باہمی اختلافات اپنی موت خود مرجاتے ہیں اور جدا ہونے والے ایک بار پھر شیر و شکر ہوجایا کرتے ہیں ۔اس حوالے سے ایک واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ 1985 کے لگ بھگ بنگلہ دیش کو شدید ترین سیلاب نے گھیر رکھا تھا بنگلہ دیش کاآدھے سے زیادہ حصہ سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا تھا جنرل محمد ضیاالحق پاکستان کی جانب سے امداد ی سامان لے کر ڈھاکہ پہنچے اور بنگلہ دیش کے اس وقت کے صدر جنرل ارشاد کے سپرد متعلقہ سامان کیا تو عینی شاہدین کے مطابق جنرل ارشاد  جنرل محمد ضیاالحق کے گلے لگ کر بہت دیر تک روتے رہے اور گلوگیر آواز میں کہا ہم ایک تھے ہم ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے ۔ یہ لمحات انتہائی محبت اور رقت آمیز تھے بنگلہ دیش کے صدر کی بات انتہائی جذباتی اور دل سے نکل رہی تھی کہا جاتا ہے کہ ان کے رونے کی آواز مخصوص کمرے سے باہر تک بھی سنائی دے رہی تھی ۔بنگالی بھائی پاکستان سے کس قدر محبت کرتے ہیں اس کا دوسرا اظہار ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے خلاف پاکستان کے میچ میں بھی بخوبی دیکھا جاسکتا تھا ۔جب پاکستانی باولر ویسٹ انڈیز کے کسی کھلاڑی کو آوٹ کرتا تو نہ صرف پورے سٹیڈیم میں سبز ہلالی پرچم پوری شدت سے لہرائے جاتے بلکہ نہ ختم ہونے والے دیوانہ وار رقص شروع ہوجاتا ۔ بنگلہ دیشی شہریوں نے اپنے چہروں پر پاکستانی پرچم پینٹ کروا کر ثابت کردیا کہ ان کے دل اب بھی پاکستانی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔بلکہ کوارٹر فائنل میں پاکستانی جیت کو اپنی جیت تصور کرکے پورے بنگلہ دیش میں اسی طرح جشن منایا گیا جیسے پاکستان میں خوشی کا اظہار کیا گیا ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ان کی خوشیاں اور غم ایک ہوچکے ہیں تو بحیثیت پاکستانی آگے بڑھ کر ہمیں ایک ایسی کنفیڈریشن بنانے کی طرف توجہ دینی چاہیئے جس میں حکومتیں بے شک الگ الگ ہوں لیکن ان کا آئینی سربراہ ایک ہی ہو ۔جس طرح برطانیہ اور آسٹریلیا کی ملکہ ایک ہی ہے بظاہر وہ حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی لیکن اس کی حیثیت اور اہمیت دونوں ملکوں میں نہ صرف تسلیم کی جاتی ہے بلکہ ملکہ نے دونوں ملکوں کو ایک مضبوط رشتے میں باندھ رکھا ہے ۔ اگر اسی تصور کو پیش نظر رکھتے ہوئے سوچا جائے تو پاکستان میں صرف ایک شخصیت ( مجید نظامی ) ایسی دکھائی دیتی ہے جو نہ صرف پاکستان میں دو قومی نظریے کے محافظ او پاکستانی قوم کا بے خوف ترجمان ہے بلکہ بنگلہ دیش میں 40 سال سے رکے ہوئے بہاریوں کو پاکستان لانے کی بے مثال جدوجد میں ان کا کردارد یگر تمام پاکستانیوں سے منفرد اور ممتاز ہے ۔میں چاہوں گا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں آزادانہ طور پر ایک ریفرنڈم کرایا جائے جس میں دونوں حصوں کے عوام سے یہ رائے لی جائے کہ مقامی حکومتوں اور انتظامی ڈھانچوں کی الگ الگ موجودگی کی صورت میں کیا ہمیں ایک بار پھر اکٹھے نہیں ہوجانا چاہیئے یا نہیں ۔مجھے یقین ہے کہ اس ریفرنڈم کا فیصلہ الحاق اور یکجہتی کی صورت میں ہی آئے گا ۔جب یہ فیصلہ آجائے تو ممتاز صحافی اور دو قومی نظریے کے سب سے بڑے حامی اور ترجمان جناب مجید نظامی کو دونوں ملکوں کا آئینی سربراہ بناکر برصغیر پاک وہند میں ایک نئے سفر کا آغاز کیا جائے ۔جناب مجید نظامی صاحب سے بھی میں یہ گزارش کروں گا کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے بنگلہ دیش میں بھی دو قومی نظریے کے واحد ترجمان اور محافظ اخبار” نوائے وقت ” کا اجرا کریں اور یہ اخبار اردو اور بنگالی دونوں زبانوں میں ہونا چاہیئے تاکہ پاکستان اپنے بنگالی بھائیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں انہیں اس بات کا علم ہوسکے اور بنگالی بھائی پاکستان سے کس قدر محبت اور چاہت کا اظہار کرتے ہیں پاکستانی عوام بھی جان سکے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے خلاف تمام سازشوں اور مکروہ عزائم کو خلیج بنگال اور بحرہ عرب میں ہمیشہ کے لیے غرق کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں ان کے دل ایک ہی ساتھ دھڑکتے ہیں اور انہیں دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کرسکتی ان شااللہ ۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button