ادارتی کالم

پارلیمنٹ میں پسینے

اسامہ کی شہادت کا شکریہ……. اگر القاعدہ رہنما فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے د ور میں شہادت پاتے تو شائد ہماری اس وقت کی ڈمی پار لیمنٹ میں اتنی جرات نہ ہوتی کہ وہ حاضر سروس جرنیل کو پارلیمنٹ میں بلا کر ان کیمرہ بریفنگ کی استدعا کرتے کہ اس وقت کا سیا سی حکمران ٹولہ مسلم لیگ ق سیاسی جماعت ہو کر بھی فوجی جرنیل کو دس بار فوجی وردی میں صدر بنانے کی خواہش مند تھی اور آج ایک بار پھر اقتدار کی غلام گر دشوں کے غلام بن گئے ہیں …… خیر بات ہو رہی تھی اسامہ کی شہادت کی کہ جس نے ہمارے سیاسی اور فوجی حکمرانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ عوام کے دکھاوئے کے لئے ہی سہی پارلیمنٹ کا مشترکہ ان کیمرہ ا جلاس بلا ئیں اور قومی تاریخ کا طویل ترین سیشن کرکے قوم کو یہ باور کرا یا جائے کہ ہم شرمندہ ہیں ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے ہم نے ایک دوسرے کے خلاف کھل کر بات کی اور پھر 13 اور 14 مئی 2011 کو دو دنوں تک جاری رہنے والے اجلاس کی مشترکہ قرار داد سامنے آئی کہ امریکی فوج نے 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد آپریشن کر کے پاکستان کی جغرافیائی سر حدوں کی جو خلاف ورزی کی اس سلسلے میں ایک آزاد کمیشن بنایا جائے جو اس تمام واقعہ پر رپورٹ تیار کرے ….. یہ اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے چند روز قبل لیفٹینٹ جنرل جاوید اقبال کی سر براہی میں جو کمیشن بنایا گیا ،،، جو رپورٹ پاک فضائیہ نے تیار کی ان سب کا ماحاصل اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا کہ سانحہ کی گرد و یسی ہی بیٹھ جا ئے گی جیسے ریمنڈ ڈیوس کا کیس ،،،جیسے جنرل پرویز مشرف کا آئین ، قانون اور اپنے حلف کی خلاف ورزیوں کے بعد ملک سے بھاگ جانا یا،،، جیسے سانحہ بہاو لپور ،،سانحہ مشرقی پاکستان یا سانحات لیاقت باغ کی گرد بیٹھ کر جم گئی ہے ، لیکن دو روز تک جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ چوتھے اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں پسینے بہے …… کس کے ؟…..ان کے جو شرمندہ تھے اور ان کے جن کے تنومند جسم اور طویل اجلاسوں میں بیٹھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے ، تو کوئی حاجی عدیل جیسے فربہ رہنما ہسپتال جا پہنچے ہیں تو کئی ایک کے پیٹ میں چوہے دوڑتے رہے یہ وہ افراد ہیں جو ہر وقت کھاتے رہتے ہیں…… قوم کا پیسہ بھی اور قوم کا مغز بھی…… لیکن پھر بھی ان کا پیٹ نہیں بھرتا اور پسینے ان کے بھی چھو ٹے جو ہماری سر حدوں کے محافظ اور انٹیلی جنس کے ذمہ داران ہیں… مانا کہ آپ دنیا کی بہترین فوج ہیں مغرب آپ سے خوف ذدہ ہے ، آپ کی صلاحیتوں کی معترف بھی ہے ، رو ائتی اور غیر روائتی دشمن آپ کی طاقت سے خوف ذدہ ہے لیکن عوامی نمائندوں کی طاقت کے سا منے آپ نہیں چل سکے ،،،پسینے چھوٹنے بھی چاہئے تھے کیا 1998 کے بحیرہ عرب سے داغے گئے امریکی میزائلوں کی طرح ہم واشنگٹن کی تیکنالوجی یافتہ ہیلی کا پٹروں کا پتہ نہیں چلا سکے جب اس رات کی شدید تاریکی کے باوجود ہمارے محافظوں کو یہ علم ہو گیا کہ افغانستان میں ا مریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی نقل و حرکت ہوئی ہے اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس نے ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کی ان امریکیوں نے ریمنڈ ڈیوس کی طرح آ کر پھر ہماری سرزمین پر خون بہایا اور ہم اس بار بھی کچھ نہیں کر سکے ، ماسوائے اس کے کہ عسکری و سیاسی رہنماو¿ں نے بیانات دیئے کہ ایسی حرکت پھر بردداشت نہیں کی جائے گی ،،، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے ا تحادیوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا ، پاکستان کی خودمختاری پر حملہ بردداشت نہیں کیا جائے گا یا پھر امریکی سفیر ڈا کٹر کیمرون منٹر کی دفتر خارجہ طلبی اور احتجاج …… بس ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے ایسا فریضہ سر انجام دے دیا اس کے بعد قبائلی علاقوں میں جتنے ڈرون حملے ہوئے یا پھر 14 مئی کو شبقدر میں ایف سی مرکز میں95 افراد کی شہادت اور طالبان کا س اسے اسامہ کا بدلہ قرار دینے سے پاکستانی عوام کو تو کچھ نہیں ملا۔
بس ہماری عوام اس پر بہت خوش ہے کہ ہمارے حکمران اور فوجی جنتا عوامی پارلیمنٹ میں کچھ شرمندہ تو ہوئے لیکن خواص یہ مطالبہ کر رہ ہیں کہ ہمیں ڈرون حملوں کے خلاف 2008 کی قرار داد سمیت حالیہ قرارداد کو بھی اس کی روح کے مطابق عمل ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے ایک ایشو سامنے آیا ، سیاست دانوں نے میڈیا پر آ کر بہت قلابازیاں لگائیں،،،، خوب گلا پھاڑ پھاڑ کر بولتے رہے کیا اس سے وہ عوام کی کوئی خد مت کر رہے ہیں یا محض اپنی سیاسی دکانداری چمکا رہے ہیں عوام اس بار نتیجہ مانگ رہے ہیں…… پارلیمنٹ میں بہے پسینے کا حساب مانگ رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button