ادارتی کالم

ٹارگٹ کلرز ‘سے متعلق خفیہ معاہدہ

شہزاد اقبال

ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی عید میلادا لنبی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گی ۔روشنیوں کے شہر کراچی میں سرکاری اور نجی عمارتوں پر چراغاں کیا گیا اور لوگوں نے اپنی عقیدت کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا ،اس موقع پر سیکیورٹی کابھی خصوصی انتظام کےا گےا تھا ،قانون نافذ کرنے والے افراد کی بھاری نفری شہر بھر میں تعینات تھی ،اےم اے جناح روڈ سمیت اہم شاہرا ہوں پر 300سے زائد خفیہ کیمرے نصب تھے جبکہ فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ۔ماضی قریب میں دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائےوں کے بعد یہ کہا جا رہا تھا کہ یہ انسانیت دشمن افراد عید میلاد پر بھی اپنی کارروائےاں جاری رکھیں گے جس طرح 5سال قبل نشتر پارک urdusky-writer-colunistکراچی میں سنی تحرےک کی قیادت کا اےسی ہی ایک بزدلانہ کارروائی میں صفاےا کیا گےا تھا جس کا ماسٹر مائنڈابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اےسا کوئی ناخوشگوار واقعہ اس دفعہ پیش نہیں آیا ۔

ادھر گزشتہ ہفتے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے قرےبی ساتھی حاجی عبدالرشےد ہارون کے بڑے صاحبزادے سابق گورنر مغربی پاکستان اور سابق میئر کراچی یوسف ہارون انتقال کر گئے مرحوم نہایت اچھے اور با اصول انسان تھے اور ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔انہیں ڈےفنس کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گےا ۔درےں اثناءعےد مےلاد النبی کے اگلے روز کراچی میں تشدد کا افسوسناک واقعہ اس وقت پےش آیا جب محکمہ تعلیم کے برطرف 7187کنٹرےکٹ ملازمین کی برطرفی کے خلاف اساتذہ احتجاج اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے کہ پولیس نے لاٹھی چارج شروع کر دیا جس میں کئی اساتذہ زخمی ہوگئے حکومتی عہدیدار ایک جانب یہ کہتے ہیں کہ وہ روزگار دینے والے ہیں چھےننے والے نہیں تو پھر اس طرح کے اقدامات کون کرتا ہے اس سے قبل کے ای اےس سی کے ملازمین کو پہلے برطرف اور پھر بحال کر دیا گیا تھاتاہم اس دوران جو کشےدگی پےدا ہوئی اس سے سےنکڑوں ملازمین کے خاندانوں کی زندگی سولی پرلٹکی رہی ادھر شہر میں سکول جانے والے بچوں کے اغواءکی وارداتوں مےں اضافہ ہو گےا اور والدین میں شدید عدم تحفظ کا احساس پےدا ہو گےا ہے کہ وہ اےک جانب مہنگائی کے اس ہوشر بادور میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کےلئے سکول بھجواتے ہےں تو اب ان بچوں کو تاوان کےلئے اغواءکرنے کا سلسلہ شروع ہو گےا ہے ۔صوبائی وزےر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اگرچہ اس معاملہ کا نوٹس لےا ہے اور آئی جی سندھ کو تمام سکولز کے اطراف میں سےکورٹی کے غےر معمولی انتظامات کرنے کی ہداےت کر دی ہے لےکن اس طرح کے اقدامات کر کے ہم اپنے شہریوں اور دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان اتنا غےر محفوظ ملک بن گےا ہے کہ مساجد اور عبادت گاہوں کے بعد تعلیمی اداروں تک میں پولیس کی نفری تعینات کرنی پڑ رہی ہے ۔

جماعتی سےاست کے تناظر میں دےکھا جائے تو پاکستان پےپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے مابین’ ٹارگٹ کلنگ ‘کے ملزمان کے حوالے سے اےک خفےہ معاہدہ ہوا ہے اور ان 63ٹارگٹ کلرز کو مےڈےا کے سامنے نہ لانے اور انسداد دہشتگردی کے تحت مقدمہ درج کرنا اس معاہدہ کے اہم مندرجات میں شامل ہےں ۔حکمران اتحادیوں کے مابین اس قسم کی ”انڈر سٹےنڈنگ “ قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے ،جب حکومتی جماعتیں ہی ٹارگٹ کلنگ کے ملزمان کے متعلق اس قسم کا روےہ اپنا ئیں گے تو عوام کو کےا پےغام جائے گا محض اپنوں کے تحفظ کے لئے شہر کا امن و امان کو کےوں خراب ہونے دیا جا رہا ہے ادھر اےم کےو اےم کے قائد الطاف حسین نے اہلےان پنجاب کے مختلف کار کنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان کو سےاسی و معاشی مشکلات سے اےم کےو اےم نکال سکتی ہے ےہ بہت اچھی بات ہے لےکن اس کے لئے متحدہ کو اپنی تنظےم سازی مزےد موثر کرنی ہو گی کےونکہ جس طرح کی سےاست وہ آج کل کر رہی ہے اس میں اےم کےو اےم کے پاس اہم اور کلی اختےارات نہیں ہیں جو اہم نوعےت کے فےصلوں کے لئے ضروری ہو تے ہیں بہر حال بطور ناظم کراچی مصطفی کمال کی کار کردگی کو عوام نے سراہا تھا اور اس کی وجہ یہی تھی کہ ان کے پاس اختیارات تھے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button