ادارتی کالم

وطن کی مٹی گواہ رہنا

وطن کی مٹی گواہ رہنا

تحریر: ارفع رشےد عاربی
جب پوری قوم ایثار و قربانی کا پیکر بن گئی
برصغیر کی پہلی اسلامی ریاست پاکستان کا وجود ایک کرشمہ اور عطیہ خداوندی ہے اور اپنے اس عطیے کی حفاظت کے لیے اﷲ تعالیٰ نے یہاں ایسے بہادر سپوت پیدا کیے جو وطن کی حفاظت کے لیے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے اور آخر کار شہادت کا منصب پاگئے۔ یہاں ایسی ایسی عظیم شخصےات نے جنم لیا جو اگر فوج میں نہیں گئیں تو کسی اور میدان میں انھوں نے اپنا لوہا منواےااور پاکستان کو بلند مقام عطا فرماےا۔ستمبر ۵۶۹۱ کوجو جذبہ پوری پاکستانی قوم میں موجود تھا اسکی مثال نہیں ملتی۔افواج میدان جنگ میں نبردآزما تھیں تو شاعر اپنے قلم سے دفاع وطن کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے۔گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا رہے تھے تو عوام فوج کے لیے اشےاءخوردونوش کا بندوبست کرنے میں لگے تھے۔غرض پوری قوم وطن کی حفاظت کے لیے مل کر دشمن کے سامنے اےک دیوار بن گئی اور ےہ عہد کر لیاکہ اس دھرتی کا ایک انچ بھی دشمن کے قبضے میں نہ جانے پائے گا
اور اب جو آگ لگی ہے میرے دیاروں میں
تو اس بلا سے نبرد آزما سبھی ہوں گے
سپاہیوں کے علم ہوں کہ شاعروں کے قلم
میرے وطن تےرے درد آشنا سبھی ہوں گے
بےشک کسی نے سچ کہا ہے کہ آج جنگیں جذبوں سے نہیں طاقت سے لڑی جاتی ہیں لیکن ستمبر ۵۶۹۱ کی جنگ میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ جذبے بھی بہت حد تک کار فرما تھے۔ ماﺅں نے اپنے بیٹوں کو میدانِ جنگ میں بھیجتے ہوئے کہاکہ بیٹا شےر کی طرح سےنے پر گولی کھانا۔ ایک بیوی نے اپنے شوہر کو کہا لڑتے وقت ہماری فکر مت کرنا میں بچوں کی حفاظت کے لیے موجود ہوں۔ اور دوسری طرف گلوکاروں کے جذبات سے بھرپور نغموںنے ان جوانوں کے حوصلوں میں کئی فیصد اضافہ کیا۔
ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میںاور جمیل الدین عالی کے قلم سے لکھا گیا نغمہ
اے وطن کے سجیلے جوانو
مےرے نغمے تمہارے لیے ہیں
اورگلوکارہ نسیم بےگم کا گاےا ہوا نغمہ
اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
ان نغموں نے نہ صرف عام جوانوں بلکہ افواجِ پاکستان کے جوانوں کے جذبوں کو بھی دوچند کیااور انھوں نے ایسے ایسے عظیم معرکے انجام دےے جو کہ ایک عام انسان کے لئے ناقابلِ یقین بات تھی۔اس وقت کے نغمے مسلسل ان جوانوں کی زبانوں پر ہوتے تھے۔واضح رہے کہ یہ نغمے کئی سالوں کی تےاری اور محنت کا نتیجہ نہ تھے بلکہ حےرت انگےز بات ےہ ہے کہ ان نغموں کی تخلیق چند گھنٹوں میں ہوتی رہی جو دشمن کے لیے ناقابل ِےقےن اور قوم کے لئے نوےدِمسرّت تھا۔ اس طرح ہمارے شاعروں اور فنکاروں نے وہی کام کیا جومیدان جنگ میں ہمارے سپاہیوں کی تلوار نے کیا۔ اسی وجہ سے بوکھلاتے ہوئے بھارت نے الزام لگاےاتھا کہ ©©©”فنی محاسن اور اثر انگےزی کے لحاظ سے یہ ملی نغمے ایک دن میں تےار نہیں ھو سکتے۔ان نغموں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے جنگ کی تےارےوں میں مصروف تھا“۔ یہ الزام لگانے والے دشمن کو اس بات کا ادراک نہ تھا کہ جب تمام صلاحیتیں اور توانائیاںصرف کرتے وقت ایک واضح مقصد موجود ہو تو اس طرح کے معجزے فن میں بھی وجود میں آ جاتے ہیںاور ےوں ہمارے تخلیق کاروں کے تخےل کا اندازایک ہی نقطہ نظر کا ترجمان بن گیا تھا۔جنھوں نے پورے ملک کا کلچر بدل کر رکھ دیا تھا۔
پاک فوج اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ورثے میںقوتِ ایمانی کی دولت میسر آئی اور ملک پر آنے والی ہر مشکل گھڑی سے نبرد آزما ہونے کے لیے عوام کی طاقت کی حماےت حاصل رہی۔اسی وجہ سے پاک فوج نے کبھی بیرونی جارحےت کا مقابلہ کرنے میں کوتاہی نہیں دکھائی،بلکہ ہمیشہ جرات و بہادری سے ملک کی حفاظت و بقا کی جنگ لڑی اور اپنے وراثتی دشمن کو کبھی بھی اس کی چالوں میں کامیاب نہ ہونے دےا۔ ستمبر ۵۶۹۱ کی جنگ میں تو پاکستانی افواج نے بہادری اور جرات کی ایسی تاریخ رقم کی جِسے کبھی بھلاےا نہیں جا سکتا۔جب دشمن نے رات کی تاریکی میںہمارے پیارے ملک پر حملہ کر دےا تو ہمارے شےر دل جوانوں نے ہمت نہ ہاری۔وہ کم اسلحے ،ملکی حفاظت کے جذبے اور قوتِ ایمانی کے ساتھ لڑے اور دشمن کہ ملکی سرحد پر قابض نہ ہونے دیا۔ وہ خود وطن کی خاطر لڑتے رہے اور شہید ہوتے رہے لیکن عظیم مملکت پر آنچ نہ آنے دی ۔ ہر فوجی جوان حب الوطنی اور جذبہ شہادت کے ساتھ لڑا۔اس وقت کسی مردِمجاہد کواپنی ماں،بہن،بیوی اور بچوں کی پرواہ نہ تھی بلکہ صرف وطن کی حفاظت کا جذبہ کار فرما تھا۔ پاکستانی فوج اس لمحہ تنہا نہیں تھی بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ تھی۔اگر وہ سرحدوں پر لڑ رہے تھے تو ملک کے اندر عوام اپنی اپنی بساط کے مطابق کوششیں کر رہے تھے۔کوئی فوجی جوانوں کے لیے خوراک کا بندوبست کر رہا تھا تو کوئی ان کے لباس کا۔ہسپتالوںکے باہر خون کاعطیہ دینے کے لیے لوگوں کا ہجوم موجود تھا اورہسپتالوں کے اندر رستے زخموں، کٹی ٹانگوں،زخمی بازوﺅں اور گہرے زخموں کے ساتھ آپرےشن ٹےبل پر لیٹے ہوئے وہ فوجی جوان تھے جن کا صرف ایک ہی نعرہ تھا ”اﷲ اکبر“ ہمارے وطن کو ہماری ضرورت ہے۔ ہمیںدشمن کو مار بھگانا ہے لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانا ہے۔۷۴۹۱ ءکا بدلہ لینا ہے۔
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تےرے بےٹے تےرے جانباز چلے آتے ہیں
ان جوانوں کو بھی بخوبی علم تھا کہ وطن کی حفاظت سے ہی اُن کے اپنے اہل خانہ اور پوری قوم کی حفاظت ہے۔ اُس وقت کے صدر اےوب خان کی تقرےر نے قوم کو ایک نئی زندگی عطا کی تھی اور پوری قوم کے د لوں میںعجیب قسم کا جوش و جذبہ پیدا کر دےا تھا جیسے کسی نے قوم کے شانوں کو زور سے جھنجھوڑکر بےدار کر دےا ہو۔ مادرِوطن کے تمام افراد و جوان اےثار و قربانی کا پیکر بن گئے تھے ۔ اس وقت رےڈےو اور ٹی وی کی انتظامیہ سے معاوضے کے طور پر کسی نے ایک پائی وصول نہ کی۔ اس کے علاوہ رےکارڈ کی بات یہ ہے کہ ملک بھر میں چوری، ڈاکے، اغوا، راہزنی اورباہمی جھگڑے کی ایک بھی واردات نہ ہوئی اور نہ ہی کسی قتل و غارت گری کا مقدمہ درج ہوا۔ اتفاق اور اتحادکا ےہ عظیم مظاہرہ تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی ”ٹیڈی پیسہ ٹینک سکیم“ کے ذریعے لاکھوں روپے دفاعی فنڈ میں جمع کروائے۔ گلی گلی اور کوچے کوچے میں رےلیف کمیٹےاں بن گئیں۔ غرض لوگوں نے اپنے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دےنے کے لیے پاک فوج، سول ڈیفینس اور پولیس افسروں کے دوش بدوش خدمات انجام دیں۔
اس جنگ میں بہت سے جوانوں نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔اُن تمام شہدا کو کئی فوجی تمغوں اور اعزازات سے نوازا گےا ۔ مگر سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کے حصے میں آےا۔ جو حقیقی معنوں میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔
یہ غازی یہ تےرے پُر اسرار بندے
جنھےں تو نے بخشا ہے ذوقِ خُدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و درےا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
پوری قوم کے اس جذبے اور جوانو ں کی بہادری کے بے مثال واقعات کوکبھی بھلاےا نہ جا سکے گا اور ےہ واقعات آنے والی نسل کو ےاد دلاتے رہیں گے کہ اس وطن کی مٹی میںبہت سے شہیدوں کا لہو شامل ہے، اس لیے اس کو عظیم تر بنانا ہے۔ انشاءاﷲ پاکستان کو تاقےامت قائم رہنا ہے اور یہ مٹی صدا ان شہیدوں کی قربانیوں کی گواہ رہے گی جن کے لہو کی خوشبو آج بھی اس میں موجود ہے۔
وطن کی مٹی گواہ رہنا
وطن کی مٹی عظیم ہے تو
عظیم تر ہم بنا رہے ہیں
گواہ رہنا
تحرےر : ارفع رشےد عاربی

وطن کی مٹی گواہ رہنا               تحریر: ارفع رشےد عاربی           جب پوری قوم ایثار و قربانی کا پیکر بن گئی
برصغیر کی پہلی اسلامی ریاست پاکستان کا وجود ایک کرشمہ اور عطیہ خداوندی ہے اور اپنے اس عطیے کی حفاظت کے لیے اﷲ تعالیٰ نے یہاں ایسے بہادر سپوت پیدا کیے جو وطن کی حفاظت کے لیے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے اور آخر کار شہادت کا منصب پاگئے۔ یہاں ایسی ایسی عظیم شخصےات نے جنم لیا جو اگر فوج میں نہیں گئیں تو کسی اور میدان میں انھوں نے اپنا لوہا منواےااور پاکستان کو بلند مقام عطا فرماےا۔ستمبر ۵۶۹۱ کوجو جذبہ پوری پاکستانی قوم میں موجود تھا اسکی مثال نہیں ملتی۔افواج میدان جنگ میں نبردآزما تھیں تو شاعر اپنے قلم سے دفاع وطن کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے۔گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا رہے تھے تو عوام فوج کے لیے اشےاءخوردونوش کا بندوبست کرنے میں لگے تھے۔غرض پوری قوم وطن کی حفاظت کے لیے مل کر دشمن کے سامنے اےک دیوار بن گئی اور ےہ عہد کر لیاکہ اس دھرتی کا ایک انچ بھی دشمن کے قبضے میں نہ جانے پائے گا     اور اب جو آگ لگی ہے میرے دیاروں میں      تو اس بلا سے نبرد آزما سبھی ہوں گے     سپاہیوں کے علم ہوں کہ شاعروں کے قلم     میرے وطن تےرے درد آشنا سبھی ہوں گے  بےشک کسی نے سچ کہا ہے کہ آج جنگیں جذبوں سے نہیں طاقت سے لڑی جاتی ہیں لیکن ستمبر ۵۶۹۱ کی جنگ میں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ جذبے بھی بہت حد تک کار فرما تھے۔ ماﺅں نے اپنے بیٹوں کو میدانِ جنگ میں بھیجتے ہوئے کہاکہ بیٹا شےر کی طرح سےنے پر گولی کھانا۔ ایک بیوی نے اپنے شوہر کو کہا لڑتے وقت ہماری فکر مت کرنا میں بچوں کی حفاظت کے لیے موجود ہوں۔ اور دوسری طرف گلوکاروں کے جذبات سے بھرپور نغموںنے ان جوانوں کے حوصلوں میں کئی فیصد اضافہ کیا۔ ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میںاور جمیل الدین عالی کے قلم سے لکھا گیا نغمہ    اے وطن کے سجیلے جوانو     مےرے نغمے تمہارے لیے ہیں اورگلوکارہ نسیم بےگم کا گاےا ہوا نغمہ    اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو    تمھیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں ان نغموں نے نہ صرف عام جوانوں بلکہ افواجِ پاکستان کے جوانوں کے جذبوں کو بھی دوچند کیااور انھوں نے ایسے ایسے عظیم معرکے انجام دےے جو کہ ایک عام انسان کے لئے ناقابلِ یقین بات تھی۔اس وقت کے نغمے مسلسل ان جوانوں کی زبانوں پر ہوتے تھے۔واضح رہے کہ یہ نغمے کئی سالوں کی تےاری اور محنت کا نتیجہ نہ تھے بلکہ حےرت انگےز بات ےہ ہے کہ ان نغموں کی تخلیق چند گھنٹوں میں ہوتی رہی جو دشمن کے لیے ناقابل ِےقےن اور قوم کے لئے نوےدِمسرّت تھا۔ اس طرح ہمارے شاعروں اور فنکاروں نے وہی کام کیا جومیدان جنگ میں ہمارے سپاہیوں کی تلوار نے کیا۔ اسی وجہ سے بوکھلاتے ہوئے بھارت نے الزام لگاےاتھا کہ ©©©”فنی محاسن اور اثر انگےزی کے لحاظ سے یہ ملی نغمے ایک دن میں تےار نہیں ھو سکتے۔ان نغموں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے جنگ کی تےارےوں میں مصروف تھا“۔ یہ الزام لگانے والے دشمن کو اس بات کا ادراک نہ تھا کہ جب تمام صلاحیتیں اور توانائیاںصرف کرتے وقت ایک واضح مقصد موجود ہو تو اس طرح کے معجزے فن میں بھی وجود میں آ جاتے ہیںاور ےوں ہمارے تخلیق کاروں کے تخےل کا اندازایک ہی نقطہ نظر کا ترجمان بن گیا تھا۔جنھوں نے پورے ملک کا کلچر بدل کر رکھ دیا تھا۔   پاک فوج اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ورثے میںقوتِ ایمانی کی دولت میسر آئی اور ملک پر آنے والی ہر مشکل گھڑی سے نبرد آزما ہونے کے لیے عوام کی طاقت کی حماےت حاصل رہی۔اسی وجہ سے پاک فوج نے کبھی بیرونی جارحےت کا مقابلہ کرنے میں کوتاہی نہیں دکھائی،بلکہ ہمیشہ جرات و بہادری سے ملک کی حفاظت و بقا کی جنگ لڑی اور اپنے وراثتی دشمن کو کبھی بھی اس کی چالوں میں کامیاب نہ ہونے دےا۔ ستمبر ۵۶۹۱ کی جنگ میں تو پاکستانی افواج نے بہادری اور جرات کی ایسی تاریخ رقم کی جِسے کبھی بھلاےا نہیں جا سکتا۔جب دشمن نے رات کی تاریکی میںہمارے پیارے ملک پر حملہ کر دےا تو ہمارے شےر دل جوانوں نے ہمت نہ ہاری۔وہ کم اسلحے ،ملکی حفاظت کے جذبے اور قوتِ ایمانی کے ساتھ لڑے اور دشمن کہ ملکی سرحد پر قابض نہ ہونے دیا۔ وہ خود وطن کی خاطر لڑتے رہے اور شہید ہوتے رہے لیکن عظیم مملکت پر آنچ نہ آنے دی ۔ ہر فوجی جوان حب الوطنی اور جذبہ شہادت کے ساتھ لڑا۔اس وقت کسی مردِمجاہد کواپنی ماں،بہن،بیوی اور بچوں کی پرواہ نہ تھی بلکہ صرف وطن کی حفاظت کا جذبہ کار فرما تھا۔ پاکستانی فوج اس لمحہ تنہا نہیں تھی بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ تھی۔اگر وہ سرحدوں پر لڑ رہے تھے تو ملک کے اندر عوام اپنی اپنی بساط کے مطابق کوششیں کر رہے تھے۔کوئی فوجی جوانوں کے لیے خوراک کا بندوبست کر رہا تھا تو کوئی ان کے لباس کا۔ہسپتالوںکے باہر خون کاعطیہ دینے کے لیے لوگوں کا ہجوم موجود تھا اورہسپتالوں کے اندر رستے زخموں، کٹی ٹانگوں،زخمی بازوﺅں اور گہرے زخموں کے ساتھ آپرےشن ٹےبل پر لیٹے ہوئے وہ فوجی جوان تھے جن کا صرف ایک ہی نعرہ تھا ”اﷲ اکبر“ ہمارے وطن کو ہماری ضرورت ہے۔ ہمیںدشمن کو مار بھگانا ہے لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانا ہے۔۷۴۹۱ ءکا بدلہ لینا ہے۔     اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا     تےرے بےٹے تےرے جانباز چلے آتے ہیں
ان جوانوں کو بھی بخوبی علم تھا کہ وطن کی حفاظت سے ہی اُن کے اپنے اہل خانہ اور پوری قوم کی حفاظت ہے۔ اُس وقت کے صدر اےوب خان کی تقرےر نے قوم کو ایک نئی زندگی عطا کی تھی اور پوری قوم کے د لوں میںعجیب قسم کا جوش و جذبہ پیدا کر دےا تھا جیسے کسی نے قوم کے شانوں کو زور سے جھنجھوڑکر بےدار کر دےا ہو۔ مادرِوطن کے تمام افراد و جوان اےثار و قربانی کا پیکر بن گئے تھے ۔ اس وقت رےڈےو اور ٹی وی کی انتظامیہ سے معاوضے کے طور پر کسی نے ایک پائی وصول نہ کی۔ اس کے علاوہ رےکارڈ کی بات یہ ہے کہ ملک بھر میں چوری، ڈاکے، اغوا، راہزنی اورباہمی جھگڑے کی ایک بھی واردات نہ ہوئی اور نہ ہی کسی قتل و غارت گری کا مقدمہ درج ہوا۔ اتفاق اور اتحادکا ےہ عظیم مظاہرہ تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں نے بھی ”ٹیڈی پیسہ ٹینک سکیم“ کے ذریعے لاکھوں روپے دفاعی فنڈ میں جمع کروائے۔ گلی گلی اور کوچے کوچے میں رےلیف کمیٹےاں بن گئیں۔ غرض لوگوں نے اپنے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دےنے کے لیے پاک فوج، سول ڈیفینس اور پولیس افسروں کے دوش بدوش خدمات انجام دیں۔   اس جنگ میں بہت سے جوانوں نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔اُن تمام شہدا کو کئی فوجی تمغوں اور اعزازات سے نوازا گےا ۔ مگر سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کے حصے میں آےا۔ جو حقیقی معنوں میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔    یہ غازی یہ تےرے پُر اسرار بندے    جنھےں تو نے بخشا ہے ذوقِ خُدائی    دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و درےا    سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو    عجب چیز ہے لذّت آشنائی    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن    نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی     پوری قوم کے اس جذبے اور جوانو ں کی بہادری کے بے مثال واقعات کوکبھی بھلاےا نہ جا سکے گا اور ےہ واقعات آنے والی نسل کو ےاد دلاتے رہیں گے کہ اس وطن کی مٹی میںبہت سے شہیدوں کا لہو شامل ہے، اس لیے اس کو عظیم تر بنانا ہے۔ انشاءاﷲ پاکستان کو تاقےامت قائم رہنا ہے اور یہ مٹی صدا ان شہیدوں کی قربانیوں کی گواہ رہے گی جن کے لہو کی خوشبو آج بھی اس میں موجود ہے۔    وطن کی مٹی گواہ رہنا   وطن کی مٹی عظیم ہے تو   عظیم تر ہم بنا رہے ہیں    گواہ رہنا            تحرےر : ارفع رشےد عاربی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button