ادارتی کالم

نسوار کی کہانی

نسوار کی کہانی
تحریر: نجیم شاہ

نسوار ایک ایسی ہلکی نشہ آور چیز ہے جو تمباکو کے پتوں کو نہایت باریک پیس کر اور حسب منشاءچونا ملا کر تیار کی جاتی ہے۔ یہ دو اقسام میں پائی جاتی ہے جسے کالی اور سبز نسوار کہتے ہیں۔ کالی نسوار دھوپ جبکہ سبز نسوار سائے میں خشک کئے گئے تمباکو کے پتوں سے بنتی ہے۔ نسوار خور اِسے ایک ڈبی یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش چٹکی بنا کر نچلے ہونٹ، مسوڑوں کے درمیان یا پھر گال میں رکھ کر اس سے لطف اُٹھاتا ہے۔نسوار یا کوئی اور نشہ یکدم چھوڑنے سے سر درد، بے چینی اور غصہ کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس میں چونکہ تمباکو استعمال ہوتا ہے اس لئے لازماً اس کے نقصانات بھی ہوں گے۔ نسوار کے بڑے فوائد بھی ہوں گے جن کا مجھے زیادہ پتہ نہیں البتہ میری نظر میں اس کاایک فائدہ یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی سی گولیاں بنا کر دیوار پر چپکا دو ، جب چھپکلی کھائے گی تو چکرا کر گر جائے گی اور پھر آپ اُسے باآسانی مار سکتے ہو۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اگر چھینک نہ آ رہی ہو تو خشک نسوار سونگ لیں۔ کئی لوگ تو بیت الخلاءجانے سے پہلے استعمال کرتے ہیں تاکہ آسانی رہے۔ یہ نامراد اتنی کڑوی ہوتی ہے کہ نیا آدمی اگر ایک بار سونگھے تو چھینکوں کے انبار لگا دے۔ ایک دفعہ کسی صاحب نے نسوار کی چھوٹی سی گولی بنا کر دی کہ انجوائے کریں جی۔ اب انجوائے کیا خاک کرنا تھا ، منہ میں رکھنے کے دو تین منٹ بعد ہی باہر اُگل دی۔ وجہ یہ ہوئی کہ جس مسوڑھے کے پاس رکھی تھی اس میں شدید جلن شروع ہو گئی اور گھنٹے دیڑھ بعد ہی مسوڑھا نہ صرف سوج گیا بلکہ اوپر کی جھلی بھی اُترنی شروع ہو گئی اور نہایت تکلیف برداشت کرنی پڑی۔ اسکے ساتھ ہی ایسا چکر آیا کہ پورا کمرہ گھومنے لگا۔ دھڑکن تیز ہو گئی اور لگتا تھا کہ بازﺅں کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے۔یہ میری نسوار سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔

کہتے ہیں کہ روس کی جنگ جیتنے میں نسوار کا کردار بھی ہے کیونکہ طالبان نسوار کے بغیر نہیں لڑتے۔ اگر اس بات میں سچائی پنہاں ہے تو پھر امریکا کے لئے یہ نادر موقع ہے کہ وہ افغان جنگ میں شکست کی شرمندگی سے بچنے کیلئے نسوار کے استعمال پر پابندی لگوا دے۔ ڈرون حملوں میں معصوم لوگوں کا قتل عام کرنے کی بجائے اُن فصلوں کو نشانہ بنائے جو نسوار کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ نسوار پر پابندی کیلئے پاکستان بھی امریکی جنگ میں حصہ دار بن سکتا ہے کیونکہ سائنس کی ترقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نسوار کے استعمال سے بصارت تیز ہو جا تی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ پشاور میں عید کا چاند ایک دن پہلے نظر آ جاتا ہے۔ اس طرح نسوار پر پابندی لگنے کے بعد پورے ملک میں ایک ہی دن عید کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ پختون اور نسوار کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ نسوار کو صرف پختونوں کے ساتھ نتھی کرنا سراسر ناانصافی ہے کیونکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے لوگ بلاتخصیص اس کا استعمال کرتے ہیں البتہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں بکنے والی نسوار پر تحقیق کی ضرورت ہے کہ کس برانڈ کی نسوار کے استعمال سے بصارت تیز ہوتی ہے۔ پاکستان کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک اور سویڈن میں بھی اس ”سوغات“ کو خاص پذیرائی حاصل ہے۔ برطانیہ اور امریکا میں تو نسوار ناک میں ڈال کر چھینکوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ سینٹ پیٹرز برگ کے رشین ایتھنوگرافک میوزیم میں ایسی دستاویزات اور تصویریں موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں اور بیسویں صدی کی ابتداءمیں نسوار دنیا کے ایسے ممالک میں بھی استعمال ہوتی تھی جہاں اب یہ رائج نہیں۔ ان میں مغربی ممالک کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستیں ، ازبکستان، جارجیا، قزاقستان اور دیگر شامل ہیں۔افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نسوار سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس کے عادی بن چکے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں وکی لیکس یہ انکشاف بھی کر دے کہ اتحادی فوج نے شکست کے ڈر سے نسوار کی عادت اپنائی کیونکہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد امریکا اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ان علاقوں میں قبائلیوں کی جیت اور انگریزوں کی شکست کی بنیادی وجہ ”نسوار “ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اتحادی فوج نے پختونوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے نسوار کا استعمال شروع کر دیا ہو۔ ہمدردی انسانی فطرت میں شامل ہے۔ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے بارے میں جب یہ علم ہوا کہ وہ نسوار استعمال کرتا ہے، ان لوگوں کی ہمدردی بڑھ گئی تھی جو نسوار کے عادی ہیں۔

نسوار پر یہ الزام ہے کہ اسے کھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوار کھائی نہیں جاتی بلکہ اس کی گولی بنا کر دس سے پندرہ منٹ تک منہ میں رکھی جاتی ہے اور چبانے کی صورت میں اس سے ایک بُرا ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔اگر اسے کھانے کی کوشش کی جائے تو کھانے والا شرطیہ اوندھے منہ اپنے معدے میں موجود سارا مواد واپس اُلٹ دے اور پھیپھڑے صرف ہَوا باہر کو پھینکیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نسوار کے عادی افراد کو جہاں نسوارچی، نسوار کُنّا، نسواری اور پڑیچے جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے وہیں ”نسوار خور“ نام بھی اُن کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔کہتے ہیں کہ نسوار استعمال کرنے کا اصل نشہ اس کی گولی بنانے میں ہے، منہ میں دبائے رکھنا تو بس اِک رواج ہے لیکن جو چیز اس میں تکلیف دہ ہے وہ نسوار خوروں کا جگہ جگہ تھوکنا ہے۔ جس سے نہ صرف دوسرے لوگ تنگ ہوتے ہیں بلکہ گندگی بھی پھیلتی ہے۔برطانیہ اور عرب امارات میں بھی نسوار عام ہے مگر تھوکنے پر جرمانہ کی وجہ سے نسوار رکھنے والے ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹشو پیپر میں نسوار ڈال کر گولی بنا کر دانتوں کے پیچھے رکھ لیتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد ٹشو نکال کر قریب کُوڑا دان میں ڈال دیتے ہیں۔ اس سے نہ تو منہ اور دانت خراب ہوتے ہیں اور نہ جگہ۔ نسوار استعمال کرنے والے لوگوں کے ذوق و جمال کا اندازہ ان کے پاس موجود نسوار کی ڈبیہ سے اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ ڈبیاں ٹین کی سادہ سی بنتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد ان پر کرومیم کی پالش ہونے لگی اور ان کے اوپری ڈھکنے پر آئینہ لگا دیا گیا۔ آج کل جو ڈبیاں ملتی ہیں ان کے ڈھکنوں پر شیشے کے رنگ برنگے نگ جڑے ہوتے ہیں اور آئینہ بھی محدب لگایا جاتا ہے تاکہ نسوار کے شائق کو چہرے کی جزئیات اور منہ کا اندرون قریب کرکے دکھا سکے۔رمضان المبارک کے دنوں میں نسواری حضرات کی حالت دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ لڑائیاں جھگڑے بھی اسی مہینے میں ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ نسوار پر ”قدرتی“ پابندی ہوتی ہے۔ جتنی زیادہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اس مہینے ہوتی ہے پورے سال دیکھنے کو نہیں ملتی۔ یہی حال دیگر جرائم کا بھی ہے۔

نسواری حضرات سے اگر اس نشے کے فوائد و نقصانات کے بارے پوچھا جائے تو یہی جواب ملتا ہے ” جو مزہ نسوار میں ہے نہ عشق میں نہ پیار میں ہے“۔ بہرحال جو نسوار استعمال کرتے ہیں وہی اس کی لذت سے بھی واقف ہیں۔ نسوار جیسی سوغات کے ساتھ بہت سے لطائف بھی منسوب ہیں۔ ایک نسوار خور کو بند بوتل ملی۔ اس نے بوتل کھولی تو اندر سے ایک جِن نکل آیا۔ جِن نے کہا کہ تم نے مجھے آزاد کیا ہے میں تمہاری تین خواہشیں پوری کروں گا۔ جلدی بتاﺅ کیا چاہتے ہو۔ نسوار خور نے کہا کہ مجھے ایسی نسوار لادو جو کبھی ختم نہ ہو۔ جِن نے ایک سیکنڈ میں نسوار لا دی۔ نسوار خور نے نسوار چکھی اور خوش ہوا۔ جن نے کہا کہ جلدی سے اپنی باقی دو خواہشیں بھی بتاﺅ میں نے گھر بھی جانا ہے۔ نسوار خور نے کہا ”دو پڑی نسوار اور لا دو۔۔۔“ اسی طرح ایک نسوار خور مولوی صاحب سے پوچھتا ہے ”کیا جنت میں نسوار ملے گی“۔ مولوی صاحب نے کہا ”ہاں ضرور !لیکن اس کو تھوکنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے گا۔“فرض کریں اگر نسوار کھائی جاتی تو پھر زبیدہ آپا نسوار سے مختلف ڈشیں بنانے کی تراکیب کچھ اس طرح سکھاتیں۔ ”آپ کے اعلیٰ ذوق کی تسکین کیلئے ایک تازہ ترکیب پیش خدمت ہے۔ آج میں آپ کو ”نسوار بھرے پراٹھے“ بنانا سکھاتی ہوں۔ ہو سکتا ہے کچھ حاسدین اس ترکیب میں سے تعصب اور نسلی و لسانی منافرت برآمد کرنے کی کوشش کریں لیکن میرا خدا جانتا ہے کہ میں بہت نیک، پرہیز گار، غیر متعصب، قومی یکجہتی پر یقین رکھنے والی عورت ہوں۔ اس لئے ایسے لوگوں کے کہے پر کان نہ دھریں اور اجزاءنوٹ کرکے عند اللہ ماجور ہوں۔اجزاءمندرجہ ذیل ہیں:
(1)اعلیٰ قسم کی نسوار
(2)سبز مرچ (کافی ساری)
(3)کالی مرچ (5چمچے۔۔۔ جی ہاں! وہی چمچے)
(4)نمک (بالکل نہیں)
(5)بھنگ کے تازہ پتے
(6) موبل آئل (اگر میسر نہ ہو تو کھانے کے تیل سے بھی کام چل جائے گا کہ زیادہ فرق تو ہوتا نہیں دونوں میں!)
(7) اور ہاں ! آٹا (کہ اس کے بغیر پراٹھا کیسے بنے گا۔۔۔۔ ہیں جی!)
فرائنگ پین میں تھوڑا سا موبل آئل ڈال کر گرم کر لیں۔ پھر اس میں نسوار ملا کر اچھی طرح بھون لیں۔ سبز مرچیں باریک کاٹ کر ملا لیں۔ نسوار اچھی طرح بھوننے کے بعد چولہے سے اُتار لیں۔ اگلا مرحلہ نہایت اہم ہے۔ یہ ہے آٹا گھوندھنے کا۔ اُمید ہے کہ آپ کو آٹا گوندھنا نہیں آتا ہوگا، مجھے بھی نہیں آتا۔ یہ تو بڑا مسئلہ ہو گیا، اب کیا کریں؟ ایک حل تو اس کا یہ ہے کہ آپ کسی نزدیکی تندور پر جائیں اور خشک آٹا دے کر گوندھا ہوا آٹا لے آئیں یا پھر کسی ہمسائے کی منت سماجت کرکے اس سے آٹا گوندھوالیں۔ بہرحال یہ آپ کا سردرد ہے۔ میں آپ کو آٹا گوندھنے کی ترکیب بتانے کی مکلف نہیں۔ الجبرے کی طرح فرض کر لیں کہ آٹا گوندھا ہوا ہے۔ اب پیڑے بنا کر ان کے درمیان بھنی ہوئی نسوار برابر پھیلا دیں اور پیڑے کو بیلنے سے پہلے فی پراٹھا ایک چمچہ کالی مرچ کا ملانا نہ بھولیں۔ پراٹھے تیار کرنے کے بعد بھنگ کے تازہ پتے بلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کر لیں اور اسے حقے کے پانی میں ملا کر ”مزیدار چٹنی“ تیار کرلیں۔گرما گرم نسوار ملے پراٹھوں کو بھنگ کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں، زندگی کا لطف آ جائے گا۔“

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button