ادارتی کالممنظر نامہ

مہنگائی کا بڑھتا سیلاب

مہنگائی کا بڑھتا سیلاب

تحریر:عثمان حسن زئی
مہنگائی میں اضافہ پاکستان میں دیرینہ روایت رہی ہے اور اب مستقل شکل اختیار کر چکی ہے کہ ہر سال بجٹ اور رمضان کے موقع پر مہنگائی بڑھ جاتی ہے، یا بڑھا دی جاتی ہے، بلکہ گزشتہ ایک عشرے کا تجربہ یہ ہے کہ اب مہنگائی بڑھانے کے لیے ان دو مواقع کا انتظار نہیں کیا جاتا، بلکہ کسی بھی آن، کسی بھی لمحے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کا آغاز تو قیام پاکستان کے بعد ہی ہوگیا تھا، لیکن اس وقت گرانی کا یہ عالم نہیں تھا، جو اب ہے، تھوڑی آمدنی والوں کی گزر بسر ہوجاتی تھی بلکہ 1967ءتک پاکستان میں ایک کلرک کی اوسط تنخواہ ڈیڑھ سو روپے کے لگ بھگ ہوتی تھی اور موٹر سائیکل رکھنا خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 1970ءکے انتخابات میں بھی گرانی کا ایشو اٹھایا گیا، لیکن اس وقت بھی مہنگائی ایک حد کے اندر تھی۔ صرف سال بھر بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی، بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آئے تو پہلی مرتبہ ایسا ہوا خدا جانے کس کے مشورے پر پاکستانی کرنسی کی قیمت یک لخت 50 فیصد سے بھی کم کردی گئی جس کے نتیجے میں مہنگائی کا گویا بند ہی ٹوٹ گیا۔ یقین جانیے! اس سے پہلے لوگ رشوت نہیں لیتے تھے، اب مجبوراً رشوت لینے لگے۔ بہت سوں کی بیٹیوں کی شادیاں اس لیے کھٹائی میں پڑ گئیں کہ آمدن اور خرچ میں فرق اچانک ہی بڑھ گیا تھا۔ اس وقت سے جو سلسلہ چلا ہے تو آج تک چلا آرہا ہے۔
ہمیں یہ باتیں اس لیے یاد آرہی ہیں کہ ایک طرف تو عالم اسلام میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے تو دوسری طرف ہمارے ہاں منافع خوروں نے اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھادی ہیں۔ گھی اور کوکنگ آئل کے کنستر کے نرخ میں 20 روپے کا اضافہ کردیا گیا۔ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور یہ اشیاءغریب کی دسترس سے دور کردی گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق شوگر ملوں اور فلور ملوں نے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی، تاکہ ماہ مقدس میں عوام کو بڑے پیمانے پر لوٹا جاسکے۔ بعض ماہرین کی پیشگوئی کے مطابق رواں ماہ رمضان ملکی تاریخ کا مہنگا ترین مہینہ ثابت ہوگا۔ عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سیلاب کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ رواں سال تاجروں نے منظم انداز میں کوشش کی ہیں۔ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی بدقسمتی سے ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کی وجہ سے ذخیرہ اندوزوں کو اشیاءکی قلت کے لیے ایک مضبوط جواز مل گیا۔ جبکہ اس صورت حال کا حکومتی سطح پر سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیا جارہا۔
ایک خبر کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹوروں پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے گھی کی قیمتوں میں سات روپے فی کلو گرام تک اضافے کی اجازت دی ہے۔ حکومت کم سے کم ماہ صیام کے تقدس کی خاطر ہی یہ اضافہ موخر کر دیتی، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔
کہا جارہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 10 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں اور غیر ملکی قرضے 55 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق، آیندہ 3 برسوں کے دوران یہ قرضے 70 ارب ڈالر سے متجاوز ہوجائیں گے ۔ پرویز مشرف حکومت نے اپنی پوری طاقت امریکا کی نام نہاد جنگ میں شرکت پر لگادی اور رہا سہا معاشی ڈھانچہ بھی تباہ کردیا۔ اب خود حکومت کہہ رہی ہے کہ اس جنگ میں 45 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ نقصان کہاں سے پورا ہوگا؟ یہ بھی کوئی نہیں بتارہا۔
اس تمام دورانیے میں جو بھی حکومت آئی اس نے مہنگائی یعنی بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات سے لے کر ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور ہر شے پر سبسڈی مرحلہ وار ختم کردی۔ اب جب حکومت خود لوٹ کھسوٹ کررہی ہو تو رعایا کو کون روک سکتا ہے۔ چنانچہ پچھلے دنوں کراچی کے ہنگاموں میں بھی سبزیوں سمیت کئی اشیاءکی قیمتوں میں سو فیصد تک اضافہ کردیا گیا اور رمضان کریم کی آمد سے صرف ایک دن پہلے تک مہنگائی کی شرح150 فیصد تک بڑھنے کی اطلاعات مل چکی ہیں، یہ سلسلہ رمضان کے دوران جاری رہے گا اور پھر عید آرہی ہے، اس پر مہنگائی کی نئی لہر کی آمد یقینی ہے۔ اب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورت حال یہ ہے کہ بعض علاقوں میں روٹی 30 روپے اور ایک پلیٹ سالن 150 روپے تک میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ تو چند جھلکیاں ہیں۔ ورنہ مشرف سے لے کر موجودہ حکومت تک کسی نے بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا۔ صرف بجلی کی بابت اطلاع ہے کہ سال کے آخر تک اس کے بلوں میں 24 فیصد اضافہ کردیا جائے گا۔ مزید کہا جارہا ہے کہ ابھی بجلی کی قیمتوں اور سبسڈی میں بہت بڑا فرق باقی ہے چنانچہ یہ فرق بھی اس تدبیر سے پورا کیا جائے گا۔ جبکہ حالیہ سیلاب نے حکومت کی کارکردگی، اہلیت اور عوام کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کی بھی اچھی طرح قلعی اتار دی ہے۔ با خبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سنجیدہ نہیں ہوتی اور اس نے عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لیے کچھ نہیں کیا تو آیندہ چھ ماہ اس کے لیے بھاری ثابت ہوں گے۔
تازہ ترین اطلاع کے مطابق وزیراعظم متاثرین کے ایک کیمپ پہنچے تو وہاں پناہ گزین خاتون نے روتے ہوئے امداد کا سوال کیا اور بتایا کہ میں نے سحری کے بغیر روزہ رکھا ہے۔ وزیراعظم صاحب نے انہیں صبر کرنے کا گراں قدر مشورہ دے کر مسئلہ حل کردیا۔اس ایک واقعے سے بھی حکومت کے آیندہ عزائم اور کھوکھلے دعووں کا بھی اچھی طرح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button