ادارتی کالم

ماتحتی

تحریر : منظور قادر کالرو

ماتحتی کا مطلب ہے اپنے آپ پر کراس لگا کر باس کو ٹِک کر دینا یعنی اپنی نفی کرتے کرتے خود کو اُس مقام پر لے آنا کہ اگر باس کہے تم تو بالکل اُلو ہو تو جواب دینا مجھے بھی کچھ دِنوں سے اپنے آپ پر یہ شک گزر رہا تھا۔باس کہے تم بالکل نالائق ہو تو جواب دیناکہ جو تشخیص جناب نے کہ ہے وہ آج تک کوئی کر ہی نہیں سکا۔باس کہے کہ تم بالکل گدھے ہو تو ڈھینچو ڈھینچو کرنے لگ جانا، پھر وہ مقام آتا ہے کہ باس بندے سے خود پوچھتا ہے بتا تیرے رضا کیا ہے۔ جب جھاڑیں کھاتے کھاتے وہ مقام آ جائے کہ جھاڑ یںنہ پڑیں تو انگڑائیاں اور جمائیاں آنے لگیں اور اگر پڑ جائیں تو طبیعت میں چستی اور تازگی آجائے تو ماتحتی آتی ہے۔ماتحتی اُس وقت تک آتی ہی نہیں جب تک ماتحت ، صاحب کے وجود کے ساتھ وحدت الوجود نہ ہو جائے۔ماتحتی اُس وقت تک نہیں آتی جب تک کہ صاحب کو صاحب الرائے نہ مان لیا جائے۔اگر صاحب بلغمی Urdu-Writerمزاج ہو تو بلغمی مزاج بن جائے اور اگر سوداوی مزاج کا ہو تو سوداوی مزاج کا بن جائے اگر صفراوی مزاج کا ہو تو صفراوی مزاج کا بن جائے۔صاحب کو فالودہ پسند ہو تو فالودے کے قصیدے گائے اور اگراُسے پکوڑے پسند ہوں توہر وقت پکوڑوں کی باتیں کرے۔صاحب اگر دوپہر بارہ بجے کہے
کہ آسمان پر تارے نکلے ہوئے ہیں تو کہے جناب سب لوگ گھروں سے باہر نکل کر یہ منظر دیکھ رہے ہیںاور اگر صاحب اُسی وقت کہے کہ دوپہر کو آسمان پر تارے کہاں تو کہے جناب اُن لوگوں کے دماغ میں فتور ہی ہوگا جو دوپہر کو آسمان پر تارے دیکھتے ہیں۔صاحب سے کسی معاملے میں اختلافِ رائے دماغی فتور کی علامت ہوتی ہے۔ صاحب کا درست دلیل کو رد کرنے کا حق ہوتا ہے اِس لئے کہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور بادشاہ چاہے تو انڈے دے چاہے تو بچے دے۔ماتحتی بڑی دور کی منزل ہے۔جب خوشامد میں ماتحت وہ مقام حاصل کرلے کہ صاحب خوشامد کے بغیر جمائیاں اور انگڑائیاں لینے لگے اور اِ س پر غنودگی طاری ہونے لگے تو وہ مقام آتا ہے کہ دفتر کے باقی کولیگ باس کا بندہ سمجھ کر دبکنے لگتے
ہیں۔جب باس کے بندہ ہونے کا مقام مل جاتا ہے تو اُس کا قدم سب کولیگوں کی گردن پر ہوتا ہے اور وہ سلطان الماتحت بن جاتا ہے۔ہاتھی کے پاﺅں میں سب کے پاﺅں والا محاورہ اس صورتحال پر صادق آتا ہے۔جب ماتحت کو ےہ مقام حاصل ہو جائے تو صاحب کے سارے اقتداراُس ماتحت کے آگے ہاتھ باند ھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں’ کیا حکم ہے میرے آقا‘۔باس کے موڈ کے بارے میں دفتر کے کولیگ اُس سے پوچھنے لگتے ہیں۔ےہ سلطان الماتحت کے اختیار میں ہوتا ہے کہ بتا دے صاحب کا موڈ اچھا ہے یا خراب ہے۔وہ جس پر مہربان ہو جائے اُسے اچھے موڈ میں اچھا ہی بتاتا ہے اور جس سے برہم ہو اُسے خراب موڈ اچھا بتاکر جھاڑیں ڈلوا لیتا ہے۔عام طور پرباسوں کی بیویاں باسوں کی باس
ہوتی ہیں۔ سلطان الماتحت کا مقام اُس وقت تک حاصل نہیں ہوتاجب تک کہ باسوں کے باسوں کو بھی باس نہ مانا جائے۔سودے سلف کی خریداری میں رائلٹی اس حد تک دے کہ باسوں کے باس بھی کہیں بندہ کام کا ہے ۔ماتحت کو اپنی زبان کا سٹیرنگ ہرگز اپنے ہاتھ میں نہیں رکھنا چاہیے۔ تمام تر دانائیوں کا سرچشمہ باس ہی ہوتے ہیںاِس لئے اُن کی چیز کو ہاتھ نہیں ڈالنے چاہیے ورنہ انجام وہی ہوگا جو زور آور کی چیز کو ہاتھ ڈالنے سے ہوتا ہے۔ماتحت کی بات کاٹنا صاحبوں کا حق ہوتا ہے لیکن صاحبوں کی بات کاٹنا ماتحت کے دماغ کا فتور ہوتا ہے۔صاحب سے بحث کرنا تو اپنے آپ کو پاگل خانے کااہل قرار دینا ہے۔ماتحت کا غلطی پکڑنا اور اُس پر جی بھر کے خوش ہونا جیسے شکار کرتے کرتے بٹیرا پکڑ لیا ہو اور پھر اپنے اوپر ایک موڈ سا طاری کرلینا اور ایسی فضا پیدا کر دینا جیسے ہندوستان پر پاکستان نے حملہ کر دیا ہو صاحبوں کا حق ہوتا ہے لیکن صاحبوں کی غلطیاں پکڑناماتحت کے لئے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا ہوتا ہے۔غلطی کو تسلیم کرنا ہتھیار پھینک دینے کے مترادف ہوتا ہے۔صاحب لوگ ایسے فاتح ہوتے ہیں جو مفتوح کے ہتھیار پھینک دینے پر مہربان ہو جاتے ہیں۔مسکراہٹ وہ فن ہے جو صاحب کے دل کو موم کر دیتا ہے۔مسکرا کے جھاڑ کھانا اور جھاڑ کھا کر بے مزہ نہ ہونا ماتحتی ہے لیکن صاحب کو اپنی مسکراہٹ اور وجہ بے وجہ قہقہوں سے مسخرا بنا دینے کو اِس فن کی معراج کہا جاتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button