ادارتی کالم

عید کا خوبصورت پیغام

Eid

عید کا خوبصورت پیغام

تحریر :بابر سلیم بھٹی نایاب
آج ہمارا ملک ،ہمارا معاشرہ طوفان حوادث کے تھپیڑوں میں ہچکولے کھاتا نظر آ رہا ہے ،ہر طرف غم اور مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں ،ایک تو ملکی صورتحال پہلے ہی خراب تھی اوپر سے قیامت خیز سیلاب نے ہر جگہ تباہی اور بربادی مچا دی ،ایسے وقت میں عید بھی قریب قریب ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے سیلاب زدہ ماؤں،بہنوں بچوں کو بھول کر خوشی منائیں ، خوشی تو تب ہے جب ہم اپنے انھی مصیبت زدہ لوگوں کی آنکھوں سے اشکوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر اُن کو سچی مسکراہٹ دیں اور یہ تاثر دیں کہ ہماری خوشی اُن کی خوشی کے بغیر ادھوری ہے ،ان سب کا غم صرف ان کو نہیں بلکہ ہمارا ہے اس وقت ان کو صرف امداد کی ضرورت نہیں بلکہ پیار کی محبت کی ضرورت ہے ان کے ساتھ بیتائی ہوئی عید ہو سکتا ہے ہماری زندگی کی یادگار عید ہو یہی وقت ہے دنیا کو پیغام دینے کا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں چاہے ہم دنیا میں کافی ساری چیزوں کی وجہ سے بدنام ہوں مگر ہماری قوم ایک زندہ قوم ہے اس قوم پر بہت آفتیں اور مصیبتیں ٹوٹی ہیں مگر یہ قوم ان مصیبتوں اور مسائلِ میں یک جان ہو جاتی ہے چاہے وہ زلزلہ کی تباہ کاریاں ہوں یا پھر آج کی سیلاب کی تباہ کاریاں وہ زلزلہ میں مدد کرنی والی غیور قوم کی غیور بیٹی کو کون بھول سکتا ہے جس نے اپنے جہیز کا سارا سامان زلزلہ فنڈ میں دے کر ایک یادگار مثال قائم کی تھی آج بھی سیلاب کی تباہ کاریوں پر سب قوم یکجا ہو رہی ہے بچے بوڑھے جوان اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے پیش پیش ہیں ۔ بس صرف مصیبت ہے تو ہمارے عاقبت نا اندیش سیاست دانوں کی جنہیں اب سب اختلافات کو ماضی کے کسی قبرستان میں دفن کر کے یکجا ہو کر مل کر ان مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔
عید کا تہوار خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لیکر آتا ہے ،مسلمانوں کے لیے یہ دن بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ،عید صرف گلے مل لینے کا نام نہیں بلکہ آپس میں دلوں کے ملنے کا نام ہے نفرتیں جو ہماری قلب میں کب سے زہر اگل رہی ہوتی ہے ان کے صفایا کا نام ہے ،رنجشیں ،کینہ ،حسد جو ہمیں ایک دیمک کی طرح کھوکھلا کرتا آیا ہے ان سب بھیانک بیماریوں کو ختم کرکے ہی ہم عید کی سچی خوشیوں ،مسرتوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ،وہ رشتے جن میں تلخیاں پیدا ہو چکی ہیں جو ہمارے ہوتے ہوئے بھی ہم سے بہت دو ر جا چکے ہیں ان رشتوں کی ڈوریوں کو بھی عید کے مبارک دن پر جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے،زندگی بہت مختصر ہے اور اس مختصر زندگی میں درگذر کی کیفیت ہماری کامیاب زندگی کی حقیقی معاون ہے،اگر معاشرے میں تبدیلی اور انقلاب لانا ہے تو آج پہلے ہمیں ہمارے معاشرے میں پھیلی بے حسی کو دور کرنا ہو گا جو ہماری سوچوں اور رویوں میں سرایت کر چکی ہے ،خدارا آج لفظی مدار یوں کے کھیل سے نکل کر عمل کے حقیقی انداز کو اپنانا ہو گا ۔
آج غموں اور دوریوں کے موسم میں اپنایت اور اُنس کے دیپ جلا کر ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر لازوال رشتوں کی بنیاد رکھنا ہو گئی ،ہمیں مادیت پرستی کے اندھیروں سے نکل کر سچائی اور احساس انسانیت کی روشنی کی طرف بڑھنا ہو گا ،عید کے دن ہمیں اپنی خوشیاں سب سے بانٹنی چاہیے آﺅ ہم مل کر اپنے آ پ سے عہد کریں ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گئے ،ہم مسلمان امن کی امین ہیں ،ہم میں لاکھ خامیاں ہوں مگر ہم ایک دوسرے کے لیے مر مٹ سکتے ہیں اور اس وطن کے وہ سپوت ہیں جو اس کی ڈگمگاتی کشتی کو طوفان کی تیز لہروں سے بچا کر لے جائیں گئے ۔عید کا پیغام یہی ہے کہ خود کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جیو یہی سچی خوشی اور خوبصورت زندگی ہے ۔
خوشی کے دن اپنے جذبوں کو سنبھال رکھنا
آج پھر سے تمام رشتوں کو بحال رکھنا
زندگی کے شب وروز میں آیا ہے جو دن خوشی کا
نئی رتوں کو جنم دیتے ہوئے سب سے پیار رکھنا
سوچتی لہروں کے سہارے نہ بھٹک جانا
غموں کو آنے دینا مگر حوصلہ برقرار رکھنا
خوشیاں ملتی ہیں ہمیشہ ان رشتوں سے
ان رشتوں کو لیکر زندگی کا سفر دشوار آسان کرنا
ماں باپ کے رشتوں سے بڑھ کر کون سا رشتہ ہے نایاب
ان کے قدموں کو چوم کر اپنے دن کا آغاز کرنا

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button