ادارتی کالم

عامر لیاقت کا اصلی چہرہ

عامر لیاقت کا اصلی چہرہ
تحریر: نجیم شاہ

 چودہ اگست کو ایک طرف جشن آزادی کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں جبکہ دوسری طرف جیو ٹی وی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے پروگرام عالم آن لائن سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے عامر لیاقت کے سابقہ پروگراموں کی ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کے کلپس یوٹیوب اور دیگر سوشل ویب سائٹس کے ذریعے سامنے آتے ہی آناً فاناً ہزاروں کلک اس پر لگیں۔اس ویڈیو میں ہمارے ہردلعزیز، وش لخن، مہذب، خوش گفتار اور خوش لباس عامر لیاقت کی طرف سے انتہائی گندی، بیہودہ، غیر مہذب اور اخلاق سے گری ہوئی زبان استعمال کی گئی نیز امام ابن تیمہ، شیخ محمد بن عبدالوہاب اور شیخ بن باز رحمتہ اللہ کا بھی انتہائی مضحکہ خیز انداز میں ذکر کیا گیا جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے متعلق ان کے نازیبا کلمات بھی ایک پرانی ویڈیو سے شامل کئے گئے ۔ میرے جیسے بندے نے جو ایک عرصے سے موصوف کا پروگرام دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا، حضرت کی بے باک گالیوں کے نادر نمونے دیکھنے کا شرف حاصل کیا۔ یوٹیوب انتظامیہ نے کاپی رائٹ کے تحت یہ ویڈیو جتنی بار اُڑائی اُس سے کہیں زیادہ بار اَپ لوڈ بھی ہوتی گئی اور اب تو انٹرنیٹ کی دنیا میں اس ویڈیو کے چرچے کافی دور تک جا پہنچے ہیں۔

میں نے ماضی میں دوست احباب سے عامر لیاقت کے بارے میں کئی ایسی باتیں سنی تھیں جو اُن کی شخصیت کیخلاف جاتی تھیں جن میں اُن کا بناﺅٹی ، مصنوعی کردار اور دورخی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ جعلی ڈگری ہولڈر ہونا شامل تھا۔ مجھے اِن باتوں پر قطعاً یقین نہیں آتا تھا اور اکثر اوقات احباب سے اس بارے بحث بھی ہوتی تھی لیکن جلد ہی مارکیٹ میں اُن کی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے خلاف مغلظات کی ویڈیو آ گئی جس پر نہ صرف میری آنکھیں کھلیں بلکہ اس ویڈیو نے مجھے مزید چوکنا کر دیا اور پھر اس کے بعد موصوف کی توبہ کی ویڈیو بھی آ گئی جس پر میں نے بھی حسن ظن رکھتے ہوئے یقین کر لیا کیونکہ یہ توبہ اعلانیہ تھی سو میں نے بھی اس کو عامر لیاقت کے اخلاص کی نشانی سمجھا۔ اس اعلانیہ توبہ کے بعد کچھ علماءنے یہ فتویٰ دیا کہ اب موصوف کا عقیدہ ٹھیک ہو چکا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت کو یہ اعتراض رہا کہ عامر لیاقت نے اپنے ”توبہ نامے“ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمین کی شان میں گستاخی کو محض ”بے ادبی“ کہا ہے جبکہ ویڈیو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بے ادبی نہیںبلکہ موصوف کا صحابہ سے بغض اور وہ بھی اندھا بغض تھا اور اسکا ثبوت ایسا کہ جس کی کوئی توجیہہ کوئی تاویل ہو ہی نہیں سکتی۔ اس طرح اس حرکت کو محض ”بے ادبی“ کہنا خود ایک جرم ہے جو کہ الگ سے قابل مواخذہ ہے۔

 عامر لیاقت کی موجودہ ویڈیو جہاںہمارے معاشرے اور تہذیب کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے وہیں ہم، ہماری اخلاقیات، ہماری سوسائٹی اور سب سے بڑھ کر ہمارے علماءکے کردار کی بھی نقاب کشائی ہے۔ایک ”مذہبی اسکالر “کے چہرے پر اتنی منافقت نہیں ہوتی جو اس ویڈیو کے ذریعے ظاہر ہوئی۔ اس ”عذر گناہ بدتر از گناہ“ والے معاملے نے عامر لیاقت کی پہلی توبہ کو بھی مشکوک کر دیا ہے کہ وہ محض لوگوں کے اعتراض سے بچنے کے لئے تقیہ تھا نیز وہ توبہ جن معاملات پر تھی یہاں اس کے علاوہ بھی کئی معاملات پیش ہیں۔ اس کے علاوہ موصوف کے طنزیہ فقرے اہل حق علماءسے خبث باطن ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں۔ عامر لیاقت اپنی ”وظاحتی یا تردیدی“ ویڈیو میں اسے گرافکس کا کمال قرار دیتے ہیں جبکہ احباب کو اس پر بھی اعتراضات ہیں اور اُن کے نزدیک موصوف نے اسے حاسدوں کی کارروائی، ویڈیو ایڈیٹنگ، ٹیمپرنگ اور ڈبنگ کا شاہکار قرار دیتے ہوئے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔ باڈی لینگوئج، لبوں کی حرکات سے تو کم از کم کوئی ایڈیٹنگ والا کام نظر نہیں آتا اور بڑے سے بڑا ماہر بھی اس ویڈیو کو ڈبنگ ثابت نہیں کر سکتا۔

موجودہ ویڈیو کے منظرعام پر آتے ہی عامر لیاقت نے اسے اپنے خلاف ایک سازش اور مخالفین کو دشمنانِ ختم نبوت سے تشبیہ دی ہے۔ سازش تو اس حد تک ہے کہ اندر کی بات باہر نکال دی گئی لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ڈبنگ یا ایڈیٹنگ کا کمال ہے کیونکہ ٹی وی اسٹوڈیو سے پروگرام آن ایئر ہونے سے قبل کیمرے آن ہونے کی صورت میں آف دی ریکارڈ باتیں اکثر آرکائیو و کا حصہ بن جاتی ہیں۔ جہاں تک لبوں کی حرکات نہ ملنے کا سوال ہے تو ٹی وی کی اصطلاح میں اسے ”لِپسنگ“ کہا جاتا ہے اور ایسا اکثر ہوتا ہے کہ پورے پروگرام یا کسی ایک کیمرہ کی ریکارڈنگ میں لِپسنگ ہوجاتی ہے لیکن ایڈیٹنگ کے ماہر اس لِپسنگ کو بھی ختم کر دیتے ہیں۔ مجھے تو یہ ویڈیو کسی طور بھی جعلی نہیں لگتی کیونکہ آواز کی ڈبنگ تو کوئی کر سکتا ہے لیکن رشی کپور کے جس گانے پر سرکار جی تالیاں بجا رہے ہیں خاص ”ان“ کی طرح اور ٹوپی ٹیڑھی کر رہے ہیں کیا یہ بھی ڈبنگ ہے؟ یوٹیوب اور دیگر سوشل ویب سائٹس پر تبصرے دیکھے جائیں تو نوے فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ اصلی ویڈیو ہے، دو فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشک یہ اصل ہے لیکن کوئی بات نہیں ایسی زبان تقریباً ہر آدمی استعمال کرتا ہے، پانچ فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے جبکہ تین فیصد لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی اور وہ اس ویڈیو کے اصلی یا جعلی ہونے کے بارے میں کشمکش کا شکار ہیں۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد عامر لیاقت نے جو وضاحتی یا تردیدی ویڈیو جاری کی ہے اُس پر بھی اعتراضات اُٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ ساری ویڈیو سکرپٹڈ ہے۔وضاحتی ویڈیو میں مکہ سے پہلی کال آتے ہی عامر لیاقت کال کرنے والے شخص کا مو¿قف جانے بغیر اسے اپنے حق میں سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوسری کال مدینہ منورہ سے آتی ہے اور کال کرنیوالا یوٹیوب پر اَپ لوڈ ہونے والی ویڈیو کی طرف توجہ مبذول کرانے کے ساتھ ہی کہتا ہے ”یہ کس طرح کے لوگ ہیں جو ہمارے خلاف ہیں“۔ اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ”بندہ“ اپنا ہی تھا۔ اگر اتفاق کہا جائے تو کیا ہی اتفاق ہے کہ پہلی کال مکتہ المکرمہ سے آتی ہے جبکہ اسکے فوری بعد مدینہ منورہ سے دوسری کال آ جاتی ہے اور پھر ایک کال میں ”آزمائش اور سزا“ کے بارے میں جو سوال کیا گیا اس پر غور کریں تو یہی لگتا ہے کہ موصوف اسے اپنے لئے آزمائش ثابت کرنے کے لئے پوری تیاری سے آئے تھے۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کال کرنے والے تمام لوگ نہ صرف اپنے تھے بلکہ آزمائش اور سزا کے حوالے سے کیا گیا سوال بھی پری پلینڈ تھا۔

ایک بات آپ نے نوٹ کی ہوگی کہ میں نے موصوف کے نام کے آگے ”ڈاکٹر“ جبکہ آخر میں ”حسین“ کا سابقہ نہیں لگایا۔ ”ڈاکٹر “اس وجہ سے نہیں لگایا کہ موصوف کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے جعلی ہونے پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں جبکہ ”حسین “نہ لگانے کی وجہ غالباً یہی ہے کہ جو شخص صحابہ کرامؓ کی گستاخی کا مرتکب ہو چکا ہو وہ حضرت امام حسینؓ سے منسوب پاک نام استعمال کرنے کا حق بھی نہیں رکھتا۔ دنیا ٹی وی پرمبشر لقمان صاحب نے اپنے پروگرام کے ذریعے جعلی ڈگری کا معاملہ اُٹھایا تو جواب میں موصوف نے نام لئے بغیر ذاتیات پر حملے شروع کر دیئے۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عامر لیاقت ”بہن“ کو جواب دینے کی بجائے کچھ جملے محکم دلائل سے پیش کر دیتے تو بات وہیں ختم ہو جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جعلی ڈگری کا ایشو چھیڑنے کا کریڈٹ مبشر لقمان صاحب کو بھی نہیں جاتا بلکہ کراچی کے ایک معتبر روزنامہ اخبار نے اپنی 8اگست 2005ءکی اشاعت میں مکمل پروف کے ساتھ یہ ثابت کر دیا تھا کہ عامر لیاقت نے ایک غیر مستند یونیورسٹی سے ڈگریاں خریدیں۔ تنقید اور اصلاح انسانی تربیت کے دو اہم پہلو ہیں۔ طریقہ کار یہ ہونا چاہئے کہ دونوں صاحبان کیمرے کی آنکھ کے سامنے بیٹھیں اور اپنے اپنے مو¿قف کا دفاع کریں اور جس کے دلائل کمزور ہوں گے فیصلہ خود عوام کے پاس چلا جائیگا۔ اگر یہ دونوں حضرات الگ الگ بیٹھ کر اس طرح کے اخلاقی حملے ایک دوسرے پر کرینگے تو نہ ہی اس سے کوئی نتیجہ اخذ ہوگا اور نہ ہی کوئی اصلاح کی راہ نکل پائے گی۔

عامر لیاقت کا ایک انٹرویو میری نظر سے گزرا جس میں وہ ایک سوال کے جواب میں اپنی ڈگری کا دفاع کچھ اس انداز میں کرتے ہیں ”میں نے عالم اسلام کی پہلی اردو کتاب ”ہماری ماں“ حضرت خدیجہؓ پر لکھی۔ اس موضوع پر آج تک اردو میں ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی، اب اِس کتاب پر جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی ہو رہا ہے۔ جس آدمی کی پی ایچ ڈی پر لوگ اُنگلیاں اُٹھا رہے ہیں، آج اس کی ہی کتاب پر پی ایچ ڈی ہو رہا ہے۔“ عامر لیاقت نے اپنی تحریر کردہ کتاب پر جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کرانے کا تاثر دیکر اصل جواب تو گول کر دیا لیکن اس کتاب پر سب سے زیادہ اعتراضات خود اُن کے ہم مسلک لوگوں طرف سے اُٹھ رہے ہیں کہ اس کتاب کے ٹائٹل صفحے پر حضرت خدیجہؓ کی قبر مبارک کی جو تصویر لگی ہوئی ہے اس کے نیچے لکھا ہے ”جنت المعلےٰ میں اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قبرِ اقدس“ جبکہ وہ قبرِ مبارک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نہیں بلکہ جنت البقیع میں آئمہ اطہار کی ہے۔ عامر لیاقت کو مشورہ ہے کہ یہ قوم بہت بڑا دل رکھتی ہے۔ آپ فکر چنداں نہ کریں اس قوم نے جعلی ڈگری رکھنے کے جرم میں حضرت جمشید دستی مداظلہ کو نہ صرف معاف کر دیا بلکہ اس کے سیاسی رقیبوں کے دانت کھٹے اور ان کے سینے پر مونگ دھلنے کرنے کیلئے پہلے سے بھی زیادہ ووٹ ڈالے۔ آپ کے رقیبوں کا بھی یہ کارِ دشمناں نہ صرف آپ کے شائقین کی تعداد میں لامحالہ اضافہ کر دے گا بلکہ آپ سمجھیں کہ آپ کے رقیبوں کے زوال کا وقت آن پہنچا ہے۔ آپ کے حاسدین کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا حشر ہوگا کہ وہ آپ کے پروگرام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ریٹنگ (خصوصاً آپ کے تازہ ویڈیو والے کارہائے نمایاں کے بعد) کو دیکھ دیکھ کر پل پل جئیں گے اور پل پل مریں گے۔یعنی اُن کا وار اُن کو ہی کاری ضرب لگائے گا۔ایک مسلمان اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا غلام ہونے کے ناطے میرا فرض بنتا تھا کہ تمام حقائق قارئین کے سامنے لاﺅں تاکہ جن لوگوں کو اس بارے معلوم نہیں وہ بھی سبق حاصل کریں کیونکہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے ہماری بھی ویڈیوز بنا رہے ہیں جن میں اس سے بھی زیادہ بُرے الفاظ اور اس سے بھی زیادہ بُرے اعمال شامل ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

One Comment

  1. AOA. Ik baat to tay hai k amir liaqat Shia nahi hai bralvi ho sakta hai. Dosri baat agar us nay kisi ke tazheek ke hai to ya us ka apna fail hai. Or Shiite may sahaba ke tareef ya hai k Har wo shakhs jo Zindagi e Muhammad (PBUH) or Baad az Wasal Muhmmad (PBUH) say or un ke ahla e bait say commited raha ho Sahabi hai (zamana e Muhammad(PBUH) darak karna lazmi hai.). Agar har Shakhs Sahabi hai to Foj E Yazeed o Sham ko kis khatay may dalo gay… Khuda Hum Sab ke Islah karay.

Leave a Reply

Back to top button