سرخ پتیاں اور سرخ خون

0 25

شہزاد اقبال

اچاریہ کوتلیہ چانکیہ نے اپنی معرکتہ آلاراء اور مکاری پر مبنی کتاب ارتھ شاستر میں لکھا ہے کہ اگر دشمن طاقت ور ہو تو اس کے سامنے ہتھیار ڈال دو ، اس کو اپنے اعتماد کے پھندے میں پھانستے رہو اور اگر ضرورت ہو تو اس کے لئے اپنی خواتین تک کو بھی پیش کر دو اور جب خوب اعتماد حاصل کر لو اور موقع بھی ملے تو اس پر وار کر دو کیونکہ کیچڑ میں پھنسا مگر مچھ کتے کو کچھ نہیں کہہ سکتا اور اگر دشمن کمزور ہو تو پھر اس پر چڑھ دوڑو۔ معلوم نہیں مجھے کراچی میں جاری حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں مذکورہ بات کیوں یاد آ گئی ،ایک وقت تھا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نائن زیرو پر تشریف لے گئے تو ان پر گلاب کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور اب جب اس شہر سے صدر اور وزیراعظم رخصت ہو چکے ہیں تو اہدافی قتل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔ہلاکتیں کتنی ہوئیں کتنے زخمی ہوئے اور کتنوں کا نقصان ہوا اس پر بحث فضول ہے اگر کسی کا ذرا سا بھی جانی و مالی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے وفاقی بھی اور صوبائی بھی ،لیکن یہاں تو خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں ا ور ہمارے حکمران ہیں کہ بیانات دینے سے نہیں تھکتے۔

کراچی میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس نے اقتصادی مرکز کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی صورت حال کو بھی شدید متاثر کیا لیکن ہمارے وزیر داخلہ رحمن ملک جو ایف آئی اے کے سابق اہلکار ہیں اور انہیں سیکورٹی کے معاملات کے حوالے سے ماہر سمجھا جاتا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے بھی انہیں یہ ذمہ داریاں سونپی تھیں لیکن کیا ہوا کہ بے نظیر بھی گئیں اور ان کے قتل پر سے اب تک وزیر موصوف اور ان کی حکومت پردہ نہ اٹھا سکی اور اگر ہم کراچی کے حوالے سے رحمن ملک کی مصروفیات اور بیانات کو دیکھیں تو وہ موقع ملنے پر سیاست چمکانے اور ایم کو ایم کو جتنا راضی کرنے میں مصروف نظر آئے اس سے بہرحال گزشتہ 3 سال میں وہ متحدہ کی قیادت کو اتحادی حکومت میں ساتھ رکھنے پر کامیاب رہے لیکن ان کی مصروفیت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب بھی ا ہدافی قتل کے واقعا ت ہوتے وہ بیانات دینے یا تو کراچی چلے جاتے یا پھر وہاں سے اسلام آباد آ کر مزید بیانات دینے لگتے ہیں اگر حالیہ واقعات کو دیکھیں تو انہوں سے سارے واقعات پر یہ کہہ کر پردہ ڈال دیا کہ ٹارگٹ کلنگ میں تیسری قوت ملوث ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس قتل و غارت میں کراچی کی مختلف پارٹیوں کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر وفاقی اور صوبائی وزیر داخلہ کی کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ امن و امان کا قیام صوبائی معاملہ ہے تو پھر’ شیر سندھ‘ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اب تک کیا کیا ،کیا گزشتہ واقعات کی طرح اس بار بھی مشکوک افراد کو گرفتار کرکے انہیں بعد میں چھوڑ دیا جا ئے گا اگر بیخ کنی اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی بات کے بعد دیکھیں تو تو پھر آج یہ کیوں قتل و غارت ہو رہی ہے رحمن ملک صاحب نے گزشتہ چند مہینوں میں کچھ اس قسم کے بیانات د ئیے :

1۔پولیس افسران کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے اگر آج کے بعد کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔ 2۔ سیاسی تفریق کے بغیر جس کسی نے بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ 3 ۔THE GOVT WILL HAVE STRICIT NO- TOLERENCE POLICY FOR TARGET KILLING. 4۔سیٹلائٹ سسٹم کے ذریعے صورتحال کو مانیٹر کیا جائے گا ۔ 5۔ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ 6۔ کراچی میں نئے بھتہ خور گروپوں کا انکشاف ہوا ہے۔ 7۔ کراچی میں جس گھر سے فائرنگ ہوئی ملیا میٹ کر دیا جائے گا۔ اور ایک اور مو قع پر تو انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ختم ہو گئی ہے لیکن جنوری2011 ء میں پھر سے یہ واقعات شروع ہو گئے ہیں ۔ کراچی پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے اور اس کے بچاؤ و بہتری کے لئے سیاسی قیادت اور سیاسی رہنما سرگرم عمل ہیں ،آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی بات ہو رہی ہے ،قومی اسمبلی کے متعلق آئندہ اجلاس میں بحث کرنے کے متعلق سوچا جا رہا ہے لیکن حاصل کیا کراچی میں پیپلز پارٹی،متحدہ قومی مومنٹ ،عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے بڑا ووٹ بینک ہے لیکن شہر کے سکون کو قائم رکھنے کے لئے ان جماعتوں کے سربراہ کبھی بھی ساتھ نہیں بیٹھے۔الطاف حسین اور اسفندیار کی مصروفیت کا توہم سب کو پتہ ہے ،پیپلز پارٹی کی قیادت وقتاً فوقتاً کراچی آتی جاتی رہتی ہے جبکہ منور حسن کی موجودگی بھی اکثر دیکھی جاتی ہے لیکن یہ بھی کبھی ساتھ نہیں بیٹھے کہ مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل نکالا جائے ،محض بیانات سے اس شہر کی خوشیاں واپس نہیں لائی جا سکتی بدقسمتی سے اس شہر میں پتیاں پھینکناآسان اور خون کا بہنا اور بھی آسان ہو چکا ہے۔ Back to Conversion Tool Back to Home Page

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.