ادارتی کالم

سالگرہ

سالگرہ

تحریر: سمیع اللہ ملک
آج میرے پاکستان کی ۳۶ ویں سالگرہ ہے‘مجھے اس کی دوستی پر فخر ہے۔جب میں اس کے ہمراہ ہوتا ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے۔پاکستان کی ایک بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس کو جو ساتھی ملے‘اس کے خلوص‘ اس کی محبت‘اس کی ہمدردی‘اس کی وسیع القلبی کا بے جا استعمال کرتے رہے۔پاکستان یہ سب چکر سمجھتا تھا مگر اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے اس نے یہ سارے معاملات اللہ پر چھوڑ رکھے تھے۔جب میں اپنے گھر سے باہر نکلا تو میں نے جگہ جگہ اجتماعات دیکھے جس میں مقرر حضرات پاکستان سے اپنی دوستی اور محبت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رطب اللسان تھے۔میں ایک جلسے سے دوسرے پھر دوسرے سے تیسرے میں پاکستان کو تلاش کرتا رہا مگر ایسا لگتا تھا کہ شائد وہ اپنی اس ۳۶ ویں سالگرہ کی تیاریوں میں نہ تو شریک ہونا چاہتا ہے اور نہ دوسروں کو شریک ہونے دینا چاہتا ہے۔
ان پریشان کن خیالات کو لیکر میں نے گلی گلی اس کو ڈھونڈنا شروع کیا ‘جیسے جیسے میری تلاش بڑھتی گئی ‘میری امید کمزور پڑتی گئی اور وقت بھی تنگ ہوتا چلا گیا۔مجھے یہ بھی فکر لاحق تھی کہ شام کو بچوں نے بھی پاکستان سے مل کر مبارکباد دینا تھی‘اگر مجھے پاکستان نہ ملا تو میں اپنے بچوں کو کیا جواب دوں گا‘ویسے بھی بچے پاکستان سے میری دوستی کو ایک خواب ہی سمجھے تھے اور میں نے بڑے وثوق سے ان کو یقین دلایا تھا کہ میں تم کو بتاوں گا کہ میں اور پاکستان کتنے اچھے دوست اور ساتھی ہیں۔اچانک خیال آیا کہ پاکستان جب گھبراتا ہے یا کسی بات پر اس کو صدمہ ہوتا ہے تو وہ ایک ہی جگہ ملتا ہے۔یہ خیال آتے ہی میں الٹے پاوں بھاگتا ہوا گھر آیا اور اپنے بچوں‘پوتوں کو ساتھ لیکر قائد اعظمؒ کے مزار کی طرف روانہ ہو گیا۔بابائے قوم کے مزار کے احاطے میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پاکستان بابا کی قبر سے لپٹا ہچکیاں لے رہا ہے۔
قدموں کی آہٹ پر پاکستان نے اپنا چہرہ قبر سے الگ کیااور اپنی سوجھی ہوئی آنکھوں سے میری طرف لپکا۔میں نے بے اختیاری میں اپنے ہاتھ پھیلائے‘بغل گیر ہوتے ہی میں نے کہا کہ پاکستان تم اپنی سالگرہ کے جلسوں میں کیوں نہیں تھے؟اس نے مجھے فوراًاپنے سے الگ کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے میرا کندھا پکڑکر زور سے جھٹکا دیا کہ تم بھی مجھے یہی کہنے کیلئے آئے ہو؟کیا کوئی اپنی سالگرہ اس منافقت سے منا سکتا ہے؟میں نے کہا کہ میں تمہاری بات نہیں سمجھا ‘اس پر پاکستان نے مجھے یہ کہا کہ کیا مجھے میرے باپ نے اسی لئے جنم دیا تھا کہ یہاں قتل و غارتگری ہو‘عبادت گاہوں میں خون خرابہ ہو‘رشوت‘چوربازاری ہو‘امتحانوں میںنقل اور غنڈ ہ گردی ہو‘ہزاروں میل دور سے وہی استعمار آکر تم پر حکم چلائیں جن سے میں تمہیں باوقار انداز میں آزاد کروا کے گیا تھا‘میری تصویر کو اپنی پشت پر لٹکا کر میرے سامنے میری غیرت کو سرِ عام نیلام کیا جائے اورتم سب منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر کسی مصلحت کی بناءپر اف تک نہ کرو ‘حتیٰ کہ دنیا کی تمام برائیوں کو اپنے ہاں رائج کرکے خود کو ترقی یافتہ سمجھو؟؟؟؟؟
میں جب ایک سال اور کچھ دن کا تھا تو مجھ سے میرے بابا بچھڑ گئے،اس یتیم کو پالنے کیلئے میرے چچاؤں نے بھرپور کردار ادا کیا اور آہستہ آہستہ وہ لوگ بھی مجھ سے بچھڑ گئے۔ایک پھوپھی تھی جو میری غمخوار اور ہمدرد تھی‘ باپ کی کمی جب مجھے محسوس ہوتی تو میں ان کی گود میں سر رکھ دیتا اور بے انتہا سکون پاتا۔افسوس وہ بھی مجھ سے جدا ہو گئیں،میں غیروں کے رحم و کرم پر آگیا‘جو چچا اور رشتہ دار کروڑ پتی تھے ‘نواب تھے‘صاحبِ حیثیت تھے‘انہوں نے اپنا تمام دھن مجھ پرلٹادیا اور مرتے وقت ان کی زبان سے میرے لئے دعائے خیر کے کلمات ہی نکلے کہ اے اللہ!پاکستان کی حفاظت کرنا(آمین)۔اب تم خود ہی بتاوکیا وہ لوگ عظیم تھے جنہوں نے ایک یتیم کی پرورش کرنے کیلئے اپنی جان و مال داو پر لگا دیئے یا وہ لوگ عظیم ہیں جو میری جائیداد‘میری دولت کو لوٹتے رہے اور اپنے ناموں اور اپنی اولادوں کے نام منتقل کرتے رہے اور پھر ڈھٹائی دیکھو کہ اس یتیم کو بجائے سنوارنے اور بنانے کے ایک بازو سے بھی محروم کر دیااور پھر بھی میری محبت کا جھوٹا دم بھرتے ہیں۔اب تم خود ہی بتاو کیا میں ان کی محفلوں میں شریک ہو سکتا ہوں؟
میں نے کہا دیکھو میرے ساتھ میرے بچے اور میرے پوتے بھی آئے ہیں اور میں بڑے فخر سے اپنی اور تمہاری دوستی کے متعلق بتاتا ہوں تو یہ مانتے نہیں۔پاکستان نے اپنے بازو میرے بچوں اور پوتوں پر رکھے اور کہا اے بچو!تمہارے اور تمہارے ابو جیسے لوگ مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیں اور انہی جیسے لوگوں کی وجہ سے میں اب تک مملکتِ خداداد ہوں ورنہ اپنوں کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر کب کا ختم ہو گیا ہوتا۔مجھے آج بھی یاد ہے جب تمہارا باپ میرا ایک بازو کٹ جانے کی خبر سن کر زمین پر گرگیا تھا تو اس کے سر پر ایک چوٹ آئی تھی تو میرے ہی دوسرے سلامت مگر زخمی ہاتھ نے اس کو سہارا دیکر زمین سے اٹھایااور اس کے زخم پر اپنی محبت کا مرہم رکھااور یہ احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی کیلئے زندگی جیسی قیمتی چیز بھی قربان کر دی جائے۔وہ لوگ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں جو ایمانداری‘وفاداری اور خلوص کے ساتھ میری خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور کسی قسم کا صلہ نہیں چاہتے۔
پاکستان نے ان کو مسرت سے دیکھتے ہوئے کہاکہ بچو !میری خدمت یامجھ سے محبت کے اور بھی بے شمار انداز ہیں جو میں تم کو بتاناچا ہتا ہوں۔لال بتی پر رکنا‘قانون کی پاسداری کرنا‘ اپنے اختیارات کاناجا ئزاستعمال نہیں کرنااور مظلوموںکے حقوق دلانا‘یہ بھی مجھ سے محبت کے انداز ہیں۔اپنے کام کو تندہی سے کرنا‘میرے بابا کے فرمان”ایمان‘اتحاد‘تنظیم“ کی پاسداری کرنا اور جس منصب پر فائز ہو اس کو ایمانداری سے انجام دینابھی میری محبت ہے۔میری پوتی نے کہا کہ پاکستان !میں نے آج صبح اسکول میں آپ کے بابا کے احسانات پر تقریر کی تھی اور مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ میں جب تقریر کر رہی تھی تو اسٹیج پر بیٹھے بزرگ بجائے میری بات سننے کے باتوں میں مشغول ہوگئے اورمیری تقریر کے بعد جب یہ اعلان ہوا کہ اب ان کی خدمت میں ایک گانا اور رقص پیش کیا جائے گا تو وہ خوشی کے مارے اپنی اپنی کر سیوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور مسلسل تالیوں کے ساتھ وہ زمین پر پاوں مارنے لگے۔
پاکستان نے سرد آہ بھری اور میری پوتی کے سر پر اپنا کانپتا ہاتھ رکھ کر کہابیٹی!تم صحیح کہہ رہی ہو‘ہمارے بڑوں نے اپنے مقصدِ حیات کا رخ صحیح راہ پر نہیں ڈالا جس کے نتیجے میںہم اپنا تمدن اور ثقافت‘آداب و اطوارفراموش کر بیٹھے‘پھر پاکستان نے کہابیٹا!یہ میرے بابا کی عظمت ہے کہ آزادی کی جنگ میں جہاں لاکھوں افرادقربان ہوتے ہیں انہوں نے ایک گولی چلائے بغیراور ایک قطرہ خوں بہائے بغیراتنی بڑی اسلامی مملکت وجود میں لے آئے‘یہ الگ بات ہے کہ فرنگی اور ہندو بنئے کی سازشوں نے میرے ہزاروں بچوں کو ہجرت کرتے ہوئے کاٹ دیا لیکن اس کے باوجود وہ جب مجھ سے ملے تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔پھر پاکستان نے میرے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہابیٹا!تم ڈاکٹر ہومگر تمہارا یہ علم اور پیشہ تمہارے لئے دولت کمانے کا ذریعہ نہ بنے بلکہ تمہارے ساتھیوں اور دوسرے شہریوں کےلئے باعثِ خدمت ہو‘یہی تمہاری محبت کا اظہار ہوگا۔پھر ننھے معصوم پوتے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ عمر معصومیت کی ہے اور اسکی معصومیت کو بچانااور اس کی حفاظت کرنا یہ تم بڑوں کاکام ہے۔یہ ابن الوقت لوگ جو اس وقت میرے نام کی بیساکھی لیکر سیاسی میدان میں اونچا اڑناچاہتے ہیں‘وہ زیادہ عرصے تک پنپ نہیں پائیں گے۔
بچو!میں تمہیں آج ایک راز کی بات بتاتا ہوںکہ تمہارے ابو اور دادا کی محبت جو وہ مجھ سے کرتے ہیں‘ایک عجیب سی محبت ہے۔یہ دنیا میں جہاں جہاں بھی گئے میرے نام کو بلندہی کرتے رہے!
ایک بات اور بتا دوںکہ آج صبح تمہارے ابو نے اپنے تمام ساتھیوں کو کانفرنس روم میں جمع کیااور میرے بھائی اقبالؒ کی لکھی ایک نظم”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ سب نے مل کرپڑھی ‘پھر ہر ایک نے باری باری میری تاریخِ آزادی اور لوگوں کی مجھ سے عقیدت اور محبت کے اوپراپنے خیالات کا اظہار کیا۔محبت کا یہ اظہارکسی کے زور‘کسی زبردستی‘کسی لالچ کے بغیر تھا‘سب ساتھیوں کے چہروں پر جذبات کی حرارت ‘آنکھوں میں فرطِ محبت سے امڈے ہوئے آنسو اور کپکپاتے ہوئے لب اس بات کی غمازی کر رہے تھے کہ یہ اور ان جیسے بے شمار لوگ اب بھی مجھ سے بے غرض محبت کرتے ہیںتو بچو! تم بھی اپنے ابواور ان کے ساتھیوں جیسے بنوکیونکہ تم ہی سے ان کی کل اور میری نئی صبح وابستہ ہے۔ پاکستان کی آواز گلوگیر تھی اور وہ خاموش کھڑا اپنے باپ سے کہہ رہا تھا !
”بابا!تم نے میرا ایک تشخص بنایا ‘تمہارے ساتھیوں نے اس میں رنگ بھرا اورکچھ نادانوں نے اس رنگ کو اپنی حماقتوں سے مٹانے کی کوشش کی۔اچانک رات کے وقت شب خون مار کر ایک طالع آزما جو اپنے آپ کو ایک کمانڈو جنرل بھی کہتا تھا تمہاری کرسی پر قبضہ جما کر بیٹھ گیا۔مسلسل آٹھ سال سے کچھ اوپر اس نے مجھ پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔میرے بچوں اور بچیوں کو اس نے ایک استعماری طاقت کے ہاتھوں ڈالروں کے عوض فروخت کر دیا اور بڑے فخر سے اپنے اس اقبالِ جرم کو اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہوئے آج کل اپنی اسی کتاب کو فروخت کرنے میں مصروف ہے ‘متنازعہ کشمیر جس کو تم نے میری شہ رگ قرار دیا تھا اس کو خاموشی سے ہندو بنئے کے سپرد کردیا‘میری غیرت و حمیت کو اس نے تار تار کر دیااور جاتے ہوئے اپنی کھال کو بچانے کےلئے ایک رسوائے زمانہ قانون این آر اوکے تحت تمہاری کرسی اور میری تقدیر و قسمت کو انہی کے سپرد کر گیاجن پر اس ملک کے لوٹنے کے بے شمار الزامات تھے۔بابا!مگر اب بھی بہت سے لوگ میری محبت میں تن من دھن کی بازی لگانے کیلئے تیار ہیں اور مجھے امید ہے میرا نام ‘میری شناخت انشاءاللہ ختم نہیں ہو سکتی!
پھر پاکستان نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھایا‘ میرا اور میرے بچوں کا ہاتھ پکڑا‘ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پاکستان پائندہ با داور قائد اعظمؒ زندہ باد کے پرجوش نعرے لگائے ‘قومی ترانہ پڑھ کر مزار سے باہر آئے۔سب نے باری باری پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور تجدیدِ عہد کرکے ہم لوگ اپنے گھر کو واپس ہوئے(پاکستان پائندہ باد)

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button