ادارتی کالم

دو کروڑ کی لاش

شہزاداقبال

وہ اس وقت فوج میں تھا پاکستانی فوج میں ،افغانستان میں روسی یلغار ہو چکی تھی اورر خطے کا میدان گرم ہو چکا تھا امریکہ کو سرخ آندھی سے خطرہ محسوس ہو رہا تھا اس کے سیٹو اور سینٹو کے معاہدے ناکام ہو چکے تھے ۔نیٹو غیر موثر دکھائی دینے لگا تھا کہ ماسکو نے گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تھی ایک نیا جہاں آباد کرنے کے لئے سفید ریچھ نے برف پوش افغان پہاڑوں کا رخ کر لیا تھا لیکن واشنگٹن کو یہ سب برا لگ رہا تھا اس نے سوویت یونین کے توڑ کے لئے پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنا لیا ،یہاں پر اسلحہ و گولہ بارود کے ڈھیر لگا دیئے،مدارس کھلوائے جہاں دیار غیر سے آنے والے طالب علموں کو مجاہد بنایا جا رہا تھا ۔افغانستان میں بھی عسکریت پسندوں کو منظم کیا جا رہا تھا اور اس کے پیچھے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا اور آئی ایس آئی میں بریگڈئیر سلطان امیر تارڑ وہ مرکزی کردار تھا جو فرنٹ فٹ پر امریکی سی آئی اے کے لئے کام کر رہا تھا ،مجاہدین کی تربیت کرکے اسے سوویت یونین کےخلاف متحد کر رہا تھا ۔پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں سلطان امیر تارڑ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا یہی وجہ تھی کہ بریگڈئیر سلطان فوج اور فوج سے باہر بھی کرنل امام کے نام سے جانے جاتے تھے،وہ گزشتہ چند سالوں سے منظر عام پر آنا شروع ہو گئے تھے اور شائد یہی وجہ ان کی موت کا سبب بنی۔

کرنل امام پاکستان کی خفیہ ایجنسی کا ایک ا ہم ترین کردار تھا جنہوں نے جنرل (ر) حمید گل اور نصیر اللہ بابر جیسے کرداروں کے ساتھ مل کر مجاہدین کی تربیت کی اور ان کو افغانستان میںفعال کردار ادا کرنے کا موقع دیا یہی وجہ ہے کہ حمید گل اور کرنل امام حقییقی طالبان اور مجاہدین کے دلوں میں بستے ہیں مگر مفادات کے حامل عسکریت پسندوں نے کرنل امام کو منظر سے ہٹا دیا ۔ہوا یوں کہ 26 مارچ 2010 کو کرنل امام،سابق سکوارڈن لیڈر خالد خواجہ ایک برطانوی دستاویزی فلم بنانے والے صحافی اسد قریشی کے ہمراہ بنوں سے وزیر ستان جا رہے تھے کہ عسکریت پسندوں نے انہیں اغوا ءکر لیا اور اپنے مطالبات پیش کر دیئے کہ 3 افغان طالبان رہنماﺅں مولوی عبدالکبیر ،ملا بردار اور منصور داداللہ کو رہا کیا جائے اس کے علاوہ تاوان کا بھی مطالبہ کیا گیا ،تاہم اس سلسلے میں مذاکرات کا آغاز ہوا اور آخر کار اپریل 2010 میں ایشین ٹائیگر نامی تنظیم جو پنجابی طالبان پر مشتمل ہے اور جس کا سربراہ عثمان پنجابی تھا نے خالد خواجہ کو قتل کرکے شمالی وزیرستان کے ایک سڑک کنارے پھینک دیا جبکہ اسد قریشی کے اہلخانہ نے تاوان کی بھاری رقم فراہم کر دی جس پر اسد قریشی نے طالبان اور ڈرون حملوں کے متاثرین پر دستاویزی فلم بنانے سے انکار کرتے ہوئے اسے ستمبر2010 میں چھوڑ دیا گیا اب طالبان کے پاس کرنل امام زندہ بچے تھے جس کی رہائی کے لئے تاوان کی رقم پر بارگینگ کا سلسلہ جا ری تھا

لیکن کرنل امام کا متوسط خاندان 45 سے 50 لاکھ روپے تاوان ادا نہیںکر سکتا تھا نتیجتاً طالبان عسکریت پسندوں نے کرنل امام کو اغواءکرنے کے 10 ماہ بعد23 جنوری 2011 کو شمالی وزیرستان میں مار دیا جبکہ یہ بھی خبریں آ رہی ہیںکہ کرنل امام کو دل کی شدید تکلیف کے باعث جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔دوسری جانب شمالی وزیرستان کے مشران آج بھی کہہ رہے ہیں کہ کرنل امام زندہ ہیں تاہم یہ بات طے ہو چکی ہے کہ کرنل امام کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور طالبان رہنما آج بھی ان کی لاش بطور تاوان ادا کرنے کے بعد دینے کو تیار ہیں لیکن اب زندہ کرنل سے مردہ کرنل زیادہ قیمتی ہو گیا ہے اور تاوان کی رقم 2 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
کرنل امام پاکستانی فوج کا ا یک اہم سپوت تھا اس کے پاس بہت سے راز تھے وہ امریکہ کے لئے کام کرتا رہا تو روس کو اس سے خطرہ تھا جبکہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت ، جب مجاہدین کو طالبان اور پھر عسکریت پسند اور دہشت گرد بنا دیا گیا پھر بھی کرنل امام واشنگٹن کو کھٹکتا رہا تو دوسری جانب ماسکو کرنل امام،حمید گل وغیرہ کو دشمن سمجھتا رہا کہ یہ وہ کردار تھے جنہوں نے سوویت یونین کو تیزی سے زوال کی جانب پہنچایا اور انہیں امریکہ کی کمزوریاں معلوم ہیں لیکن کیا حکومت کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ اپنے سابق ہیرو کی رہائی کے لئے کوئی قدم اٹھاتی اس کہ باوجود کہ کرنل امام نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور حکومت دہشت گردوں کے تمام مطالبات پورا کرتی لیکن افسوس کہ حکومتی زعماء اور وزیر حضرات روزانہ کے حساب سے لاکھوں کروڑوں روپے اپنی سیکورٹی اور ٹی اے ڈی اے وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں لیکن ایک پاکستانی کو زندہ بچانے کے لئے اس کے پاس پیسے تک نہیں اور اب جب اس کی لاش کی حوالگی کے لئے 2 کروڑروپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو شاید ”درد دل حکمرانوں“ کا دل نرم پڑ ا جائے اور وہ لاش لینے کے لئے 2 کروڑ دے دیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button