ادارتی کالم

خبردار ، ہوشیار۔۔۔ جاسوسی ہو رہی ہے

خبردار ، ہوشیار۔۔۔ جاسوسی ہو رہی ہے
تحریر: نجیم شاہ

جاسوسی خفیہ معلومات کے حصول کیلئے خفیہ انسانی ذریعہ ہے جبکہ جاسوس یا خفیہ ایجنٹ ایک ایسا فرد ہوتا ہے جسے باقاعدہ تربیت دیکر ممکنہ یا اصل دشمن کی صفوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خفیہ معلومات کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ یہی ایجنٹ ہوتے ہیں جن سے خصوصی طور پر تربیت یافتہ افسر کام لیتے ہیں۔ یہ کام لمبی مدت کیلئے جبکہ بعض اوقات کئی سالوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ ایسے افراد کو مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں لیکن سب سے اہم ذمہ داری زیر تفتیش ہدف کے بارے میں خفیہ رپورٹ مہیا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دشمن کی صفوں میں موجود رہ کر ان میں اختلاف اور انتشار پیدا کرنے جیسی ذمہ داریاں بھی سونپی جا سکتی ہیں۔ جاسوسی کسی کارپوریشن یا ریاست کی طرف سے ایک ادارہ کی کوشش کا حصہ ہوتی ہے۔ عوامی اور نجی سیکٹر میں متعدد تنظیمیں اور ادارے بھی ایجنٹوں کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک ریاست کی طرف سے اس کام کو بنیادی طور پر فوجی مقاصد کے لئے ممکنہ یا اصل دشمن پر جاسوسی کرنے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ ان کی تربیت اس انداز سے ہوتی ہے کہ ایک عام آدمی یہ تصور بھی نہیں کر پاتا کہ ایسا فرد یا افراد کسی خاص مقصد یا مہم پر ہیں۔

خفیہ معلومات اکٹھا کرنا سکیورٹی اداروں کے کام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس کے جاسوس یا خفیہ ایجنٹ دشمن یا ٹارگٹ ممالک میں موجود نہ ہوں۔ یہاں تک کہ کئی دوست ممالک بھی کسی نہ کسی طرح اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایک دوسرے کی جاسوسی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے کام زیادہ تر ٹارگٹ ممالک میں موجود اپنے سفارت خانوں کے ذریعے انجام دیئے جاتے ہیں۔ یہ ایجنٹ سیلز مین، کوریئر بوائے، سرویئر، چھابڑی فروش یا ملنگ کی شکل میں بھی ہو سکتے ہیں اور کسی خاص پیشے سے بھی منسلک ہو سکتے ہیں۔ 90ءکی دہائی کا واقعہ ہے کہ پاکستان کے ضلع مانسہرہ کے شمال میں واقع وادی کونش بٹل سے ملنگ کے روپ میں ایک ایسا جاسوس پکڑا گیا تھا جو مسلسل گیارہ سال اس علاقہ میں دشمن ملک بھارت کیلئے جاسوسی کرتا رہا۔ اپنی گرفتاری کے بعد اس ملنگ نے یہ راز اُگلا کہ وہ ایک ریٹائرڈ جج ہے جسے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ نے تربیت دیکر اس علاقے میں جاسوسی کے کام پر مامور کیا ۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب پاکستان میں امن و امان کی صورتحال اتنی مخدوش نہ تھی لیکن موجودہ گھمبیر صورتحال میں یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس وقت ملک میں شیطانی اتحادِ ثلاثہ امریکا، اسرائیل اور بھارت کے ایجنٹوں کا ایک ایسا نیٹ ورک پھیل چکا ہے جو یکجہتی اور ڈسپلن کی حامل افواجِ پاکستان، اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کیساتھ ساتھ ملک توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ یہاں تک کہ امریکی ادارے کی خفیہ دستاویز ات کے مطابق پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد خطے کی نقشہ بندی بھی کرلی گئی ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے پچھلے دس سال سے القاعدہ کے سربراہ اُسامہ بن لادن کی تلاش میں پاکستان کے اندر خفیہ طور پر جاسوسی کا جو جال بچھایا ہے وہ قبائلی علاقہ جات سمیت ہر صوبے میں موجود ہے اور یہ اس وقت طشت ازبام ہوا جب بلیک واٹر کے ایک اہم رکن ریمنڈ ڈیوس کو دو پاکستانیوں کو مارنے کے الزام میں لاہور سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد دو مئی کے ایبٹ آباد واقعہ کے رونما ہونے سے دونوں ملکوں کے تعلقات اُس وقت مزید خراب ہو گئے جب پاکستان نے امریکا کی اس کارروائی کے نتیجے میں ایک سو پچیس اعلیٰ فوجی اہلکاروں کو واپس بھیج دیا۔ پاکستان کے اس اقدام کو امریکی انتظامیہ نے اشتعال انگیز قرار دے کر آٹھ سو ملین ڈالر کی امداد روک دی جبکہ پاکستان نے بھی جوابی کارروائی میں غیر ملکی سفارتکاروں کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ اس دوران امریکہ مسلسل یہ دباﺅ ڈالتا رہا کہ پاکستان اُ س کے بھیجے گئے اہلکاروں کو بلاک روک ٹوک کام کرنے کی اجازت دے لیکن سی آئی اے کی پریشان کُن سرگرمیوں کی وجہ سے حکومتِ پاکستان نے انکار کر دیا جس کی وجہ سے امریکا نے مزید تین سو ڈالر کی امداد پر بھی روک لگا دی۔پاکستان کے اس اقدام کے بعد اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے نے جعلسازی کے ذریعے متعدد بار اپنے ایجنٹوں کو سفارتی عملے کے ارکان ظاہر کرکے حکومت سے ویزے جاری کرنے کی درخواست کی لیکن آئی ایس آئی کے انکار کی بدولت امریکا کو یہاں بھی خفت اُٹھانا پڑی۔ اس کے بعد امریکا نے اُسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے والے اپنے جاسوس ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کیلئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ناکام رہا۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کی مبینہ ہلاکت اور پھر ایبٹ آباد میں امریکا کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کی بنیادی وجہ سی آئی اے کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی جاسوس سرگرمیاں ہیں۔ اب یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے مختلف طریقوں سے اپنی سرگرمیوں کا جال پاکستان کے طول و عرض میں پھیلا رکھا ہے۔ یہ انکشاف بھی ہو چکا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس پاکستان میں سی آئی اے کی ایک فرنٹ آرگنائزیشن چلا رہا تھا اور اس کے علاوہ ایک خفیہ جاسوسی نیٹ ورک بھی قائم کر رکھا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے وقت پاکستان میں ایسے تین ہزار کے قریب امریکی موجود تھے جن میں سے پانچ سو ایسے ہیں جن کو آئی ایس آئی نے ویزہ کیلئے کلیئر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور ایبٹ آباد واقعے کے بعد حکومتِ پاکستان نے ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی امریکی اہلکاروں کو واپس بھیج دیا۔ پاکستان کا یہ اقدام امریکا کیلئے انتہائی پریشان کُن ثابت ہوا اور اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کے بعد اس نے نہ صرف پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کیساتھ تعلقات کے الزامات لگانا شروع کر دیئے بلکہ ایک بار پھر فوجی امداد بند کرنے اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف از خود کارروائی کی دھمکی بھی دے دی ہے۔

یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں موجود امریکی سفارتی عملہ ایسے دہشت گرد گروپوں سے رابطے میں ہے جو پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اس سلسلے میں پشاور میں امریکی قونصل خانہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سی آئی اے کی خفیہ سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ پاکستان نے تمام ممالک کے سفارتکاروں کو اسلام آباد سے کہیں اور روانگی سے قبل وزارت داخلہ سے این او سی لینے کا پابند بنایا ہے تاہم امریکا وہ واحد ملک ہے جس نے اس نئی پابندی کے خلاف آواز اُٹھائی اور اس اقدام کو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ جنیوا کنونشن کے تحت سفارتکاروں کو میزبان ملک میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے لیئے بھی کچھ ضابطے مقرر ہیں مثلاً میزبان ملک کے متعلقہ اداروں کو اپنی آمدورفت سے پیشگی مطلع کرنا، علاوہ ازیں میزبان ملک چاہے تو خود سفارتکاروں کے تحفظ کے لیئے کچھ پابندیاں بھی عائد کر سکتا ہے۔جب دیگر ممالک کے سفارتکار بغیر چوں چراں کے این او سی حاصل کرکے سفر کر رہے ہیں تو پھر امریکی سفارتکار ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ یہ خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ پشاور میں داخلہ کیلئے اجازت نامہ نہ ہونے پر کئی بار امریکی اہلکاروں کو روک کر واپس اسلام آباد بھیجا گیا۔ امریکی سفارتکاروں کو اچانک پشاور اور قبائلی علاقوں سے ایسی کیا دلچسپی ہو گئی ہے کہ بار بار ان علاقوں میں بغیر اجازت نامے کے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ پشاور بہت حساس علاقہ ہے ایسے شبہات بھی ظاہر کیئے جا چکے ہیں کہ سفارتکاروں کے بھیس میں سی آئی اے اہلکار اپنی مشکوک سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اجازت نامے کے بغیر اسلام آباد کی حدود سے باہر نکلنا یہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ اہلکار قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو دھوکہ دیکر اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان آنے والے امریکی ایجنٹوں کی اکثریت تخریب کاری اور ایٹمی جاسوسی کی ماہر ہے۔ یہ خفیہ جاسوس اردو اور پشتو زبان بولنے، لکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں کے جغرافیائی محل و قوع سے بھی آشنا ہیں اور اکیلے سفر کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان خفیہ ایجنٹوں کا انتخاب کرتے وقت ان کی شکل و صورت کا خاص خیال رکھ کر منتخب کیا جاتا ہے تاکہ یہ ہر طرح سے پاکستانی یا مقامی باشندے معلوم ہوں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ماضی میں جن ہزاروں امریکی خفیہ ایجنٹوں کو بغیر کسی سکیورٹی کلیئرنس کے ویزے جاری ہوئے ان میں بیشتر کے نام بھی جعلی ہیں اور انہیں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے خصوصی تربیت دے کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیلا رکھا ہے۔ خدشہ اس امر کا ہے کہ ان ایجنٹوں کی پاکستان میں موجودگی دن بدن ملک میں خطرناک حد تک سلامتی کے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ یہ انکشافات بھی ہو رہے ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد سی آئی اے نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے ملک میں اپنے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے میں مقامی لوگوں کو بھی اپنے پیرول پر رکھ لیا ہے جبکہ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوں گے جنہیں یہ تک بھی معلوم نہ ہوگا کہ وہ اس وقت دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button