ادارتی کالم

حُرِمجاہد شاہ محمود قریشی

حُرِمجاہد شاہ محمود قریشی…..  !!!بِلاعنوان…..؟؟
کیاشاہ محمود قریشی اور راحت فتح علی لائقِ توجہ اور حترام ہیں……..؟؟؟
محمداعظم عظیم اعظم
کچھ لوگوں کا خام خیال یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے ہمارے ملک پر حکمرانی کرنے والی عوامی جماعت پی پی پی کے کرتادھرتاؤں نے دنیاکے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے مقابلے میں اپنی سب سے بڑی کابینہ رکھنے کے باوجود بھی ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راہ پر لے جانے کے لئے کوئی ایک بھی ایسالائحہ عمل اختیار نہیں کیا جس سے ملک مسائل کی دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتااور یہاں بھی ترقی و خوشحالی کی ننھی ننھی کونپلیں پھوٹتیں۔مجھے یہاں یہ کہنے دیجئے بلکہ ملک کی موجودہ حکومت دنیا کی ایک ایسی اَنہوکی اور ایسی عجوبی جمہوری حکومت ثابت ہوئی ہے کہ جو ملک کو ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لئے اَب تک نہ تو اپنا کوئیurdusky-writer-logo رُخ متعین کرسکی ہے اور نہ ہی اِس نے اِس جانب سنجیدگی سے غور وفکر کرنے سعی کی ہے اگریہ اتنے عرصے میں اپنا کوئی رُخ متعین کرتی اور اِسی کو ٹارگٹ بناکر آگے بڑھتی جاتی اور عوامی اور ملکی مسائل سے چھٹکارہ حاصل کرتی تو کوئی حرج نہیں کہ ہمارے  یہی حکمران اور حکومت دنیا کو یہ بتادیتے کہ ہم اپنے ملک کے لئے وہ سب کچھ کرسکتے ہیں کہ جس سے ہمارے ملک کے عوام کے مقدر بھی چمک اُٹھیںاور ہماراملک بھی اُس راہ پر چل پڑاہے کہ جس پرآج چل کر دنیا کے دیگر ممالک اپنے تقدیر کا فیصلہ خود کرتے ہیںمگر ہمارے حکمرانوں نے ایسا نہیں کیا اور آج یہی وجہ ہے کہ مجھ سمیت ہر پاکستانی کو افسوس کے ساتھ یہ کہناپڑرہا ہے کہ اِس معاملے میں ہماری ملکی سیاست کے ذمہ داران بھی حکمرانوں کو کوئی گائیڈلائن مہیاکرنے میں معاون ومددگار ثابت نہ ہوسکے ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اِس سارے عرصے کے دوران جس کسی کوبھی ہم نے دیکھاہے سب اپنی اپنی بے پر کی ہانکتے اور عوامی جلسے جلوسوںاور ریلیوں میں بے ربط اور بے مقصدجملے بولنے ہی نظر آئے یعنی کہ یہ لوگ (حکومتی اراکین ) اتنے عرصے میں ہرملکی (اور عالمی )معاملے میں سوائے اپنی اپنی بے پَر کی ماہرانہ رائے دینے کے عملی طور پر اور کچھ بھی نہ کرسکے جس کا عوام الناس پر یہ اثر پڑاکہ حکومت پر سے اِن کا اعتبار جاتارہااور عوام بالآخر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ایسی حکومت کا بھلاکیا فائدہ جو کسی ایک راہ اور سمت پر چلنے کے بجائے کسی کٹی پتنگ کے مانند اِدھر اُدھر ڈولتی رہے….؟ اور پھر خود ہی کبھی منہ کے بل زمین پر آگرے…
جب عوام میں حکومت سے متعلق ایسی سوچ زور پکڑ گئی توشائد اپنے متعلق ایسی عوامی سوچ کی بھنک جب حکمرانوں کے کانوں تک پہنچی تواِن پر جب لرزہ طاری ہوگیاار اُنہوں نے اِس بڑی کابینہ کو جو خود اِن کے لئے بھی دردِ سر بنی ہوئی تھی اِس سے جان چُھرانے کے لئے 18ویں ترمیم کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اِسے تبدیل کرنے کا ارادہ کیا اور پھر گزشتہ دنوں ہی صرف 4نئے چہروں پر مشتمل 22رکنی ایک نئی وفاقی کابینہ تشکیل دے ڈالی جس سے متعلق وزیراعظم خود نئی ٹیم کا تاثر دینے میں کامیاب دِکھائی نہیں دیئے کہ جس پر پی ایم ایل (ن) نے تبصرہ کرتے ہوئے بلاتکلف یوں کہہ کر حکمرانوں اور حکومت پر تنقیدوں کے نئے دروازے کھول ڈالے کہ نئی بوتل میں پرانی مگر تھوڑی کم شراب کے ساتھ جو نئی کابینہ تشکیل دی گئی ہے اِس پر نہ توعوام کا کبھی اعتبار بحال ہوسکے گا اور نہ ہی اپوزیش اِس سے مطمئن ہوگی پھر اِس کے بعد ہر طرف سے کُھلم کُھلا موجودہ وفاقی کابینہ کو بھی تنقیدوں کا نشانہ بنائے جانے لگا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اَب شائد اُس وقت تک جاری جب تک یہ حکومت اپنی باقی مدت پوری کرکے رخصت نہیں ہوجاتی ہے۔
بہرحال !نئی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے قانون کی حیثیت سے حلف اُٹھانے والے بابراعوان نے اپنا سینہ ٹھونک کر یہ دعویٰ تو ضرور کیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کریگی اور نئے وزرأ کی کارکردگی مانیڑ کی جائے گی اور ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ہم عوام کو لانگ ٹرم ریلیف دیں تواِس پر مسٹر بابراعوان عرض یہ ہے کہ عوام کو ایسے ہی سبز باغ پہلے بھی دِکھائے گئے تھے مگر سب کے سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور عوام اُمیدوں کے سہارے مرتے اور جیتے رہے کیا اِسی اُمیدپر اَب بھی عوام کو زندہ رکھا جائے گااور عوام لانگ ٹرم ریلیف کے انتظار میں تمہارے سمیت تمہاری حکومت کے پیچھے پیچھے دوڑتے رہیں گے….اور آخر کار اِن کی زندگیوں کا اختتام خودکشیوںپر ہوگا۔
بہر کیف !کبھی کبھار ایساہوتاہے کہ جس شخص سے متعلق ہم جو سوچ رکھتے ہیں وہ یکدم اُس کے اُلٹ ثابت ہوتی ہے بالکل ایساہی ہمارے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بھی ہوا جب یہ اِسی حکومت کی سابقہ کچن کابینہ میں تھے تو اِن کی سیاست کا ذائقہ بھی اُس جیسا معلوم دیتا تھا کوئی یہ نہیں کہہ سکتاتھا کہ شاہ صاحب اپنا بھی کوئی منفرد اورسب سے جدا کوئی ٹیسٹ بھی رکھتے ہیں مگر یوں ہی شاہ محمود قریشی سابقہ کچن کابینہ کے  خاتمے کے بعداِنہوں نے وزیر اعظم سے ایک ملاقات کے دوران اپنا واضح مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر اِن کی وزارت تبدیلی کی گئی تو مستعفی ہوجاؤں گا اور وہ اپنے اِس مؤقف پر قائم بھی رہے اورجہاں اُنہوں نے صرف 4نئے چہروں پر تشکیل پانے والی موجودہ 22رکنی کابینہ سے حلف اُٹھانے سے معذرت کرلی تووہیں یہ صحیح معنوں میں ا پنی سب سے الگ اور ایک منفرد پہچان کے ساتھ نمایاں طور پر دنیاکے سامنے بھی اُبھرے کر آئے ہیں ۔

یوں سبکدوش ہونے والے اور نئی کابینہ میں حلف نہ اُٹھانے والے سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دوپاکستانیوں کے قاتل امریکی شہری اورعیسائی دہشت گرد ریمنڈ دیوس کے استثنی ٰ کے معاملے پر ڈٹ کرحکومت کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر مداخلت نہ ہو تو وزارتِ خارجہ قبول ہے ورنہ نہیں ….جس پر صدر مملکت آصف علی زرداری بھی اِنہیں کسی اور وزارت کے لئے آمادہ نہ کرسکے اِس طرح دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جہاں اپنی سابقہ وزرات سمیت دوسری وزارتوں کی آفرز بھی قربانی کردیں تو وہیں اُنہوں نے اپنے رویوں سے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ وہ حُرِ مجاہد ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ملکی مفادات میں مصالحت پسندوں کی صف میں کھڑے رہ کر ملک اور قوم کے وقار کا سودانہیں کرسکتے خواہ اِس کے لئے اِنہیں کتنی ہی ایسی وزارتوں کو کیوں نہ چُھوڑناپڑجائے جس کے یہ دوبارہ خواہش مندہیں اور حکومت اِنہیں اِس کے بدلے دوسری وزارتوںدینے پر آمادہ ہے۔
جبکہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی شخصیت کے حوالے سے پاکستانیوں کی ایک سوچ یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت میں وزارتِ خارجہ کے حوالے سے مخدوم شاہ محمود قریشی ایک معقول شخص ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی سے نہ صرف اپنی وزارتی ذمہ داریوں کے ساتھ انصاف کیا ہے بلکہ دنیا کے سامنے ہر معاملے پر پاکستان کے اُ صولی مؤقف اور قومی حُرمت کا بھی دفاع کیا ہے اور اِن کا دوپاکستانیوں کے قاتل امریکی شہری اور عیسائی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے جو دوٹوک مؤقف رہاہے اِس لحاظ سے اِن پر عوامی اعتماد کا بین ثبوت یہ ہے کہ اِنہیں دوبارہ وزارتِ خارجہ نہ بنانے جانے کے خلاف ہزاروں لوگوں نے ملتان میں جو احتجاجی مظاہرہ کیاہے حکومت کو اِس عوامی مظاہرے کی زبان کو سمجھنی چاہئے کہ عوام حُرِ مجاہد مخدوم شاہ محمود قریشی کی شخصیت اور اِن کی کارکردگی سے کتنے خوش ہیں  اور ہمارے حکمران کویہ بھی جاننے اور سمجھنے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے وہ پہلے شخص ہیں کہ عوام انہیںاِن کی وزارت سے ہٹائے جانے پر اِن کے حق میں سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کررہے ہیں جس پر مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک انٹرویومیں ملکی قیادت سے یہ سوال کیا ہے کہ میراکیاقصور ہے….؟؟جو میری خواہش اور میری کارکردگی کے لحاظ سے مجھے وزارتِ خارجہ نہیں دی گئی۔
اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ شاہ محمود قریشی کو اِن کی خواہش اور سابقہ کارکردگی کی بناپر( جب کہنے کو نئی مگر صرف چار نئے چہروں کے ساتھ) وہی پرانی تشکیل پانے والی کابینہ میں شامل نہ کئے جانے کے بعد پاکستانی سیاست میں جو ایک ناگوار ماحول پیداہوگیاہے اِس سے ایسا لگتاہے کہ ملک میں الزام تراشیوں کا ایک نہ رکنے والا سیاسی سلسلہ بھی شروع ہوچکاہے جس سے بالخصوص ملکی اور بالعموم عالمی میڈیا پر ایک نئے بحث و تکرار کی فضأ پیداکردی گئی ہے اوراِس کے ساتھ ہی ہر طرف سے ملے جھلے اچھے اور بُرے تبصروں اور تجزیوں کی بھرمار جاری ہے یہاں میراخیال یہ ہے کہ اِب یہ سلسلہ رک جانا چاہئے جو ہمارے ملکی وقار کے لئے کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے میرااِس موقع پر مخدوم شاہ محمود قریشی سے بھی یہ کہنا ہے کہ اگر حکومت نے دوبارہ اِن کی پسند کی وزارتِ خارجہ اِنہیں نہ دی تو اِنہیں بھی اِس بات پر افسردہ نہیں ہوناچاہئے اور بلاجواز محاذآرائی سے اجتناب برتناچاہئے اور اِسی طرح حکومت کو بھی یہ چاہئے کہ جب ایک شخص ملکی وقار کو بلند کرنے میں اپنی دلچسپی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح سے انجام دے رہاتھااور پھر دوبارہ اِسی وزارت کے ساتھ( کہنے کونئی مگر وہی پرانی )تشکیل پانے والی کابینہ میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کا خواہش مند ہے تو پھر حکومت کو بھی اغیار (امریکا اور دوسروں )کے دباؤ میں آکر اِسے وہی وزارت دینے سے انکار نہیں کرناچاہئے۔ بلکہ وطن عزیز کے زمینی حائق کا جائزہ لیتے ہوئے حالات و اقعات جو تقاضہ کررہے ہیں اِن کی روشنی میں ہر ملکی معاملے کو افہام و تفہیم سے نمٹادیاجاناچاہئے ناں کہ کسی بھی ذراسی بات کا داخلی طور پر اتناوایلاکیاجائے کہ یہ کمان سے نکلے ہوئے تیر کے مانند اِدھر اُدھر ہوامیں اُڑتی رہے جس کا اپنے اور اغیار بتنگڑ بناکر ہمارامذاق بناتے رہیں۔
اُدھر ایک یہ خبر مجھے جیسے اُن کروڑوں پاکستانیوں کے لئے بھی انتہائی تکلیف دہ ثابٹ ہوئی ہے کہ جو بھارت کے ساتھ امن کی آشاکے نام پر اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں خبر کے مطابق گزشتہ دنوں پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان جوں ہی کراچی سے نئی دہلی پہنچے تو نئی دہلی ایئر پورٹ پر اِن کے پاس سے ایک لاکھ 24ہزار ڈالر برآمد ہونے پراِن سے بھارتی ریونیوانٹیلی جنس حکام نے اِس رقم سے متعلق اِن سے پوچھ گچھ کی اور  اِسی بناپر اُنہوں نے اِس عظیم پاکستانی گلوکار کو نہ صرف گرفتار کرکیا بلکہ اِنہیں اگلے ہی روز بھارت کی عدالت میں پیش بھی کیاگیاایک پاکستانی گلوکار کے ساتھ بھارت میں پیش آنے والے اِس سلوک کے خلاف پاکستانیوں کے جذبات کو شدیدٹھیس پہنچی اور آج ہر وہ پاکستانی جو بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہش مند ہے وہ یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہوگیا ہے کہ کیا بھارت کے ساتھ امن کی آشاکی خواہش ہم پاکستانیوں کی ہی یکطرفہ خواہش ہے ….؟یا بھارتی بھی ہم پاکستانیوں سے اِسی طرح تعلقات قائم رکھناچاہتے ہیںجیساہم پاکستانی اِس کے ساتھ رکھنے کے خواہش مند ہیں۔
بہر حال اِس منظر اور پس منظر میں ، میںآخر میں اپنے قارئین سے یہ سوال کرناچاہوں گا کہ کیا پاکستان میں مخدوم شاہ محمود قریشی اور بھارت میں راحت فتح علی خان اپنی اپنی کارکردگیوں کے حوالے سے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں لائق توجہ اور احترام ہیں….؟؟اور کیا اِن دونوں کے ساتھ)پاکستان اور بھارت میں) جو ناانصافی ہوئی ہے وہ کیا اِنصاف کے مستحق ہے….؟؟ پاکستانی عوام اپنی دونوں شخصیات کے اِنصاف کے لئے کیاکچھ کہنااور کرناچاہتے ہیں….؟ اور اِسی طرح بھارتی عوام بھی یہ فیصلہ کریں کے ایک پاکستانی گلوکار جو بھارت کی فلمی صنعت میں ایک بڑے اثاثے کا درجہ رکھتاہے کیا بھارتی ریونیوانٹیلی جنس حکام کو اِس کے ساتھ ایسارویہ اپنانا چاہئے تھا کہ جس سے پاکستانی عوام کے جذبات کو کوئی دلی ٹھیس پہنچتی …..؟؟؟گوکہ اَب بھارتی عدالت نے برصغیر کے اِس عظیم گلوکار راحت فتح علی خان کو اگلے ہی روز باعزت بری کردیا ہے مگر پھر بھی میںاپنے اِس کالم کے ذریع بھارتیوں کو اپنااور پاکستانیوں کا یہ پیغام دنیاچاہوںگا کہ بھارتی اور بھارتی حکام کو اَب آئندہ یہ ضرور سوچناچاہئے کہ وہ اپنے یہاں آنے والے کسی بھی پاکستانی اور فن و فنکار سے وابستہ افراد کواپنے انتہاپسند جنونی ہندو بال ٹھاکرے کے پریشر میں آکر پریشان کرنے سے اجتناب برتیں جس میں دونوں جانب کے امن پسند عوام کی جہاں بھلائی ہے تو وہیں دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات بھی مستقبل قریب میں پیداہونے کی اچھی اُمیدیں پیداہوسکے گیںورنہ نہیں تو دونوں ایٹمی ممالک یوں ہی تناؤ کے عالم میں جکڑے رہیں گے اور خطے میںعدم برداشت کی فضاقائم رہے گی اور گھٹن کا ماحول طاری رہے گا اور دنوںجانب کے عوام اِسی آس میں مرتے رہیں گے کہ کب بھارت اور پاکستان کے حکمرانوں کے مزاج میں برداشت کا جذبہ پیداہوگااور عوام کو سُکھ کا سانس نصیب ہوگا۔
*****

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button