حقانی نیٹ ورک اور امریکی دھمکی

1 37

حقانی نیٹ ورک اور امریکی دھمکی

تحریر: نجیم شاہ

طالبان اس وقت دو بڑے گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں ایک گروپ تحریک الاسلامی طالبان اور دوسرا تحریک طالبان پاکستان کہلاتا ہے۔ تحریک الاسلامی طالبان کی قیادت مُلا عمر مجاہد کر رہے ہیں اور اس کا نظریہ یہ ہے کہ جہاد صرف افغانستان میں قابض غیر ملکی افواج کے خلاف ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروپ افغانستان میں امریکا اور نیٹو افواج کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ اس کے برعکس تحریک طالبان پاکستان کا نظریہ یہ ہے کہ جس طرح افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف جہاد جائز ہے عین اسی طرح پاکستان کے اندر بھی جہاد جائز ہے۔ طالبان کا یہ گروپ پاکستان کے اندر خودکش حملوں اور دیگر جرائم میں ملوث ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان پر یہ الزام ہے کہ اسے امریکا سمیت کئی دیگر غیر ملکی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے جن کا مقصد پاکستان میں بدامنی پیدا کرکے ملک کو دولخت کرنا شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حکومتِ پاکستان طالبان کے اس گروپ پر پابندی عائد کر چکی ہے بلکہ مُلا عمر مجاہد کی تحریک الاسلامی طالبان بھی اس گروپ سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کر چکی ہے۔ طالبان اس وقت شدید نوعیت کے اختلافات کے باعث کئی گروہوں میں منقسم ہیں۔ ان کے مشہور گروہوں میں جلال الدین حقانی گروپ، بیت اللہ محسود گروپ، حافظ گل بہادر گروپ، مولوی نذیر گروپ،عبداللہ محسود گروپ، تحریک طالبان سوات، عصمت اللہ معاویہ گروپ، قاری حسین گروپ، بنگالی گروپ، بدر منصور گروپ، عبدالجبار گروپ، منگل باغ گروپ، سیف اللہ اختر گروپ، قاری یاسین گروپ، قاری ظفر گروپ، الیاس کشمیری گروپ، رانا افضل عرف نور خان گروپ، کلیم اللہ گروپ، قاری شکیل گروپ، گل حسن احمد گروپ، شیخ معراج گروپ، ابوقتادہ گروپ، شیخ فاتح عثمان گروپ، البدر گروپ، ہلال گروپ، کمانڈر طارق گروپ، مولوی رفیق گروپ، تکفیری گروپ، ازبک گروپ اور امجد فاروقی گروپ وغیرہ شامل ہیں۔ طالبان کے ان گروہوں میں کئی ایسے بھی ہیں جو انفرادی طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ کئی گروہ تحریک الاسلامی طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ الحاق کر چکے ہیں۔ انہی گروہوں میں ایک افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف برسرپیکار جلال الدین حقانی نیٹ ورک بھی ہے جو آج کل عالمی سیاست میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جلال الدین حقانی گروپ افغان طالبان کا ایک آزاد حصہ ہے جسے خلیفہ گروپ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گروپ تحریک الاسلامی طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس گروپ کی قیادت جلال الدین حقانی کے ہاتھ میں ہے مگر اُن کی مسلسل علالت کے باعث اُن کا بیٹا سراج الدین حقانی، جو خلیفہ بھی کہلاتا ہے اس گروپ کو کنٹرول کرتا ہے۔ جلال الدین حقانی سنہ دوہزار ایک کے آخر میں پاکستان کے سرکاری دورے پر آئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کر رکھی تھی۔ اس کے بعد وہ روپوش ہو گئے اور پھر کئی مہینوں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منظرعام پر آ کر مغربی طاقتوں کے خلاف ایک مزاحمتی گروپ تشکیل دیا۔ حقانی گروپ پر یہ الزام ہے کہ اس نے افغانستان میں امریکی مفادات کو سخت نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا نے حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی اور اُن کے بیٹے سراج الدین حقانی کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو اپنے لیئے سب سے بڑا خطرہ قرار تو دے دیا البتہ اس بات کی سمجھ کم ہی لوگوں کو آ سکے گی کہ اسی امریکا نے کچھ عرصہ قبل تک حقانی گروپ کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور افغان حکومت میں اعلیٰ عہدوں کی پیشکش کی، مگر ناکام رہا۔ تب امریکا کو اس گروپ کی خطرناکی کا احساس نہیں تھا مگر آج حقانی نیٹ ورک نہ صرف امریکی مفادات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ مغربی اور افغان ناقدین یہ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس گروپ سے پُرانے اور گہرے روابط ہیں اور یہ گروپ افغانستان میں غیر ملکی افواج پر حملوں کیلئے پاکستانی سرزمین استعمال کر رہا ہے ۔امریکی فوج، سی آئی اے اور حکومتی نمائندوں کی طرف سے ماضی میں بھی طالبان، حقانی گروپ اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات کے الزامات لگتے رہے ہیں جبکہ حال ہی میں پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اُن کے پاس کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹر پر حملوں میں ملوث حقانی نیٹ ورک کے پاکستانی حکومت کے ساتھ روابط کے ثبوت موجود ہیں۔ امریکا یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستانی حکومت کو کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کیلئے کہا گیا ہے لیکن وہ اس گروپ کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی اس لیئے حقانی گروپ کے خلاف اب امریکا خود کارروائی کرے گا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس آئی ایس آئی کے حقانی گروپ سے رابطے کی تردید کر چکے ہیں جبکہ پاکستان دفتر خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ بھی امریکا کی طرف سے پاکستانی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کی دھمکی کو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں تعاون کے اصولوں کے منافی قرار دے چکی ہیں۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ حقانی گروپ کی طرف سے افغانستان میں بڑھتے ہوئے خودکش حملوں نے نہ صرف اسے افغانستان کے سیاسی و فوجی استحکام کے لئے بڑا خطرہ بنا دیا ہے بلکہ آئی ایس آئی بھی ممکنہ طور پر اس گروپ کو معاونت فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان پر امریکا کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی امریکا کی جانب سے ڈور مور کا مطالبہ سامنے آتا ہے تو کبھی امریکا شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تیزی کے راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔ کابل میں نیٹو ہیڈ کوارٹر اور امریکی سفارت خانے پر طالبان کے حالیہ حملوں کے بعد پاکستان پر امریکی الزامات کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔ ماضی میں بھی امریکا پاکستانی حکومت پر دباﺅ ڈالتا رہا ہے کہ وہ حقانی گروپ کے خلاف فوجی کارروائی کرے تاہم پاکستانی حکومت نے مبینہ طور پر ایسا کرنے سے اجتناب کیا ہے ۔اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ چونکہ حقانی گروپ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث نہیں اس لیئے اگر اسکے خلاف امریکی ایماءپر کارروائی ہوتی ہے تو پھر طالبان کے دیگر کئی گروپ بھی پاکستان کے مخالف ہو جائیں گے۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کہتے ہیں کہ اُن کا نیٹ ورک افغانستان میں زیادہ محفوظ ہے اس لیئے اب اُنہیں سرحد پار سنگلاح پہاڑیوں پر مشتمل قبائلی علاقوں میں پناہ گاہوں کی ضرورت نہیں جبکہ دوسری طرف امریکا یہ راگ الاپ رہا ہے کہ اس نیٹ ورک کی قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں ، اگر پاکستان نے اس کیخلاف مو¿ثر کارروائی نہ کی تو امریکا خود کارروائی کرے گا۔ امریکا کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی اس دھمکی کے دو دن بعد سراج الدین حقانی کی طرف سے دیئے گئے اس بیان کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی بجائے افغانستان میں موجود ہے کو بعض مغربی مبصرین شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عین ایسے موقع پر جلال الدین حقانی کا غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرنا ایک سوچی سمجھی چال کا حصہ ہے حالانکہ حقانی گروپ کے پاکستانی قبائلی علاقوں سے افغانستان انخلاءکی خبریں گزشتہ سال ہی اُس وقت سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں جب سراج الدین حقانی نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان فوج اس کے نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹویبون گزشتہ سال تین جون کی اشاعت میں یہ خبر دے چکا ہے کہ سراج الدین حقانی کی زیر قیادت طالبان عسکریت پسندوں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر شمالی وزیرستان سے اپنے اڈے جنوبی اور مشرقی افغانستان منتقل کر دیئے ہیں۔ اخبار نے اپنی خبر میں یہ بھی بتایا کہ دو سو پچاس سے زائد مقامات پر پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے خود سراج الدین حقانی نے نہ صرف پاکستان میں اپنی موجودگی سے انکار کیا بلکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ماضی میں امریکا اور افغان حکومت کی جانب سے پیش کیئے گئے امن مذاکرات کی آفرز کو مسترد کر چکا ہے کیونکہ یہ اس گروپ کو تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ یہ انکشاب بھی ہو چکا ہے کہ ماضی میں کرزئی حکومت حقانی گروپ سے تعلق رکھنے والے مولوی کبیر اور دیگر رہنماﺅں سے خفیہ ملاقات کر چکی ہے۔ مولوی کبیر طالبان دورِ حکومت میں صوبہ ننگرہار کے گورنر ہونے کے علاوہ نائب وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں۔ افغان دارالحکومت کابل میں ہونیوالی اس خفیہ ملاقات میں مُلا صدر الدین اور اُسامہ بن لادن کو تورا بورا سے فرار میں مدد دینے والے مولوی انوار الحق بھی شامل تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغان صدر کرزئی بھی گزشتہ موسم بہار میں حقانی گروپ کے سربراہ سراج الدین حقانی سے ملاقات کر چکے ہیں اور ان خفیہ مذاکرات کا مقصد حقانی نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا۔ ماضی میں افغانستان میں نیٹو کے سینئر سول نمائندے مارک سیڈول بھی پہلی بار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ حقانی گروپ کے ساتھ مذاکرات مثبت ثابت نہیں ہو رہے کیونکہ اس گروپ کی طرف سے جو مطالبات کیئے جا رہے ہیں انہیں کوئی افغان حکومت پورا نہیں کر سکتی۔ اتحادی حکام یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ افغان جنگجو دھڑوں میں حقانی گروپ سب سے زیادہ ناقابلِ مصالحت ہے۔امریکا اور افغان حکومت یہ سمجھتے ہیں کہ اگر حقانی گروپ جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے تو اس سے القاعدہ اور افغان طالبان کی قوت میں خاصی کمی آ جائے گی۔ خود امریکا اور افغان حکومت چوری چھپے طالبان سے مذاکرات تو کر رہے ہیں جبکہ آئی ایس آئی پر طالبان گروپوں سے رابطوں کا بلاجواز الزام بھی لگا رہے ہیں۔ جب سوویت یونین جیسی سپر پاور کو توڑنا تھا تو اُس وقت یہی آئی ایس آئی امریکا کے ایماءپر طالبان سے رابطوں میں تھی اور اب اچانک یہ دہشت گردوں سے رابطے میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ یہ امریکا ہی ہے جس نے آئی ایس آئی کے طالبان کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ اگر آئی ایس آئی کے مُلا عمر گروپ یا حقانی نیٹ ورک سے رابطے ہیں بھی تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست کی یہ پالیسی ہے کہ ان تنظیموں کو مالی یا مادی مدد فراہم کی جا رہی ہے یا انہیں تربیت دی جا رہی ہے بلکہ ان تعلقات کی وجہ ہمارے اندرونی معاملات میں سدھار پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ جس طرح ہر ملک اپنے اندرونی معاملات میں خود مختار ہے اسی طرح پاکستان بھی اپنے اندرونی معاملات میں مکمل خود مختار ہے۔

  1. Dr. Khwaja Ekram کہتے ہیں

    بہت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی تجزیہ ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.