ادارتی کالم

جناح ٹرمینل کاالتحریر سکوائر

شہزاد اقبال

….اور بالاخر پی آئی اے بحران کا ڈراپ سین11فروری کی شب کو ہو گےا اور کراچی کے جناح ٹرمےنل سے جو ہڑتال کی کال4روز تک جاری رہی وہ اسلام آباد میں پی آئی اے کے جواurdu-writerئنٹ اےکشن کمےٹی اور وزےر داخلہ رحمن ملک و وزےر دفاع چوہدری مختار کے بےچ مذاکرات کے ذرےعے ختم ہو گئی اور اےم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون کو بالاخر مستعفی ہونا پڑا ترک کمپنی کے ساتھ ہونے والے اےم اوےو کے متعلق کہا گےا کہ ےہ پہلے وزارت دفاع میں آئے گا پھر کابےنہ کے پاس جائے گا لہٰذا اس کے پاس ہونے کا بھی امکان نہیں نیز برطراف ملازمین کے متعلق بھی مثبت فےصلہ کےا جائے گا ،پی آئی اے ملازمین کے احتجاج اور 80پائلٹس کا بےماری کے بہانے چھٹی پر جانے سے پاکستان میںفضائی سفر کا بحران پےدا ہو گےا تھا اور اےک انداز ے کے مطابق ان 4دنوں میں قومی ادارے کوکروڑوں کا نقصان ہوا ۔جو پہلے ہی شدےد مالی خسارے میں جا رہا تھا اےک اندازے کے مطابق 400ارب روپے سالا نہ خسارہ اس ادارے کو برداشت کرنا پڑ رہا تھا تاہم 11فروری کو پولیس کی جناح ٹرمینل پر ملازمین و مسافروںپر وحشےانہ لاٹھی چارج اور پی آئی اے ملازمین کی پکڑ دھکڑ کے بعد رات گئے اعلان سے کارکنوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی اور چند گھنٹے قبل وہ ”التحرےر چوک“ میں جس رےاستی تشدد کا شکار ہوئے تھے رات گئے وہاں فاتحانہ انداز میں تالیاں بجاتے اور نعرے لگاتے دوبارہ جمع ہو گئے ۔

ادھر کراچی میں گزشتہ ہفتے کی اےک خاص پےش رفت سابق ٹےسٹ کرکٹر سرفراز نواز کی نائن زےرو آمد تھی جہاں انہوں نے اےم کےو اےم میں شمولیت کا اعلان کےا معلوم نہیں وہ کتنے مڈل کلاس ہےں اور عوام کی کےا خدمت کرےں گے کہ کرکٹ ،فلمی دنیا کی شخصےات سے تعلق اور پھر کمنٹری کی صورت میں عوام کو جس ”تبصرہ“ سے محظوظ پڑا اس کے بعد وہ اب متحدہ کے پلےٹ فارم سے کےا گل کھلاتے ہےں آنکھ ےہ دےکھنے کی منتظر ہے ۔دریں اثناءپاکستان پےپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمےان ہونے والے مذاکرات کی بدولت 15معاونین خصوصی کو فارغ کر دیا دونوں جماعتوں کے مابین سندھ کے محکموں کی تعداد بھی30تک کم کرنے پر اتفاق ہوا جبکہ صوبائی کابےنہ کے ارکان کی تعداد 22رکھنے پر رضا مند ی پائی گئی ۔ےہ سندھ کی سطح پر اےک اچھی پےش رفت ہے کہ حکومت کےخلاف کرپشن بد عنوانی اور’ بیڈ گورنس‘ کے جو الزامات لگائے جا رہے ہےں اس میں کمی آئے گی وفاقی میں کم وزراءرکھنے کے تجربہ کے بعد صوبوں کو بھی اس پر سوچنا چاہےے۔

شہر قائد میں صوبائی حکومت کے عہدےداروں کو ےہ پرےشانی کھا ئے جا رہی ہے کہ وہ سپرےم کورٹ کے حکم کے تحت کنٹرےکٹ پر رکھے گئے رےٹارڈ سرکاری ملازمین میں سے اب اور کس کس کو برطرف کرےں کہ 92میں سے 43افراد کو تو وہ پہلے ہی نوکری سے نکال چکے ہےں باقی 47چہےتوں کا فےصلہ ہونا ابھی باقی ہے جبکہ 15فروری کو عدالت عظمیٰ میں پےشی کے حوالے سے حکومتی عہدےدار ان شش و پنج میں گرفتار ہےں کہ کنٹرےکٹ افسران کو برطرف کرنے کے حوالے سے کےا جواز پےش کےا جائے کراچی سٹاک مارکےٹ بھی وفاقی کابےنہ کی برطرفی اور اس میں اےم کےو اےم اور جے ےو آئی اےف کی عدم شرکت کے ساتھ ساتھ مصر اور تےونس کی صورتحال کے باعث شدید مندی کا شکاررہی تےل کمپنیوں کو نقصان کے باعث اس سکٹر کے حصص کی قیمتیں گررہی ہےں جبکہ مالےاتی اداروں کی جانب سے بھی خاطر خواہ نتائج نہیں آ رہے رہی سہی کسر غےر ملکی سرماےہ کار پوری کر رہے ہےں اور وہ اپنے شےئرز بےچ رہے ہےں ،کراچی گزشتہ ہفتے میں مجموعی طور پر پرُ امن رہا ما سوائے 2تھانوں کی بیرونی دےواروں کو بم دھماکہ سے اڑا ےا گےا جس سے2افراد زخمی ہوئے تاہم بحےثےت مجموعی شہر میں امن رہا۔
٭٭٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button