ادارتی کالمطنزومزاح

تم نہ سمجھو گے

کے ایم خالد

آج کل کوئی سا بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں،ریڈیو سن لیں یا ٹی وی کا کوئی سا بھی چینل لگا کر دیکھ لیں۔ایک ہی گردان سننے کو مل رہی ہے ،ہم بہتر ہیں ،ہم نے ماضی میں یہ کر دیا ہم مستقبل میں یہ کر دیں گے۔ہر ایک کا دعوی دوسرے سے مختلف نہیں سبھی صرف ایک دفعہ ،ایک دفعہ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ترلوں پہ ترلے کئے جا رہے ہیں۔ان نعروں اور ترلوں کو یہیں چھوڑ کر ہم ایک خکایت کی جانب آتے ہیں۔
حکایت کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ کسی جنگل میں جمہوریت نافذ کر دی گئی ۔بادشاہت کے بعد جمہوریت بالکل ایک نیا تجربہ تھی۔کچھ عرصہ یہ تجربہ چلتا رہا ۔کسی کی حکومت آئی کسی کی گئی ۔ایک سے دل بھر گیا تو اس کو ”نکرے “لگا دیا گیا ۔اب ایک مرتبہ بھر جنگل میں الیکشن کی وبا پھیل چکی تھی۔جنگل انتخابی نعروں سے گونجتا رہا ،آوے آوے اور جاوے جاوے کے نعرے لگتے رہے ۔جمہوریت کے باوجود جانوروں میں نسلی تعصب عروج پر تھا ۔ہر جانور کی خواہش تھی کہ لیڈری کا اعزاز ان کی قوم کو نصیب ہو حتی کہ چوہے بھی اس دوڑ میں شامل تھے ۔
آج جنگل میں لیڈر کے چناﺅ کے لئے ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔جنگل کے بیچوں بیچ ایک ندی کنارے نسبتاً ایک ہموار قطعہ اراضی پر جنگل کے جیتنے والے جانور رونق افروز تھے۔ان کے ارد گرد جنگل کے دوسرے جانور دکھائی دے رہے تھے ۔جس کو جس جانب جگہ ملی ادھر ہی سماتا چلا گیا ۔ جانوروں کی خوش گپیوں کی وجہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی ۔جنگل کے ایک پڑھے لکھے بھالو نے ہاتھ اٹھا کر جانوروں کو خاموش ہونے کے لئے کہا ۔جانوروں نے اس کا حد درجہ احترام کیا اور چند ہی لمحوں میں ہر جانب خاموشی ہو گئی۔چاند بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا تھا اس کی سنہری کرنیں جانوروں کے چہروں کو چھوتی ہوئی گزر رہی تھیں۔بھالو نے کڑکتی ہو ئی آواز میں کہا
”جنگل کے باسیو!آج پھر جنگل کے خونخوار الیکشن کے بعد ہم پھر ایک نازک موڑ پر ہیں۔آپ نے پھر اپنے لیڈر کا انتخاب کرنا ہے۔اس میں آپ آذاد ہیں جس کے جتنے ذیادہ ووٹ ہو نگے وہی آپ کا لیڈر ہو گا۔مگر اس مباحثے کے اہتمام کابنیادی مقصدایک اچھی قیادت کو سامنے لانا ہے۔اس بحث میں جنگل کے ہر باسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔اس کی رائے کا حد درجہ احترام کیا جائے گا۔اپنی قوم کے اعتبار سے صرف آپ نے ہاتھ کھڑا کرنا ہے ۔میں خود آپ سے پوچھ لوں گا۔“
بھالو نے عینک درست کی چاند کی سنہری روشنی میں بہت سے جانوروں کے اٹھے ہوئے ہاتھ دکھائی دے رہے تھے۔بھالو نے ایک شیر کی جانب اشارہ کیا ”جی آپ فرمایئے۔“
”جنگل میں بادشاہت ہونی چاہیے۔پچھلے چند سالوں میں جمہوریت کا الاپ کرکے آپ نے دیکھ لیا ہمیں ہمارا حق واپس دیا جائے۔جنگل ہمارے اباﺅ اجدا د کی ملکیت تھا جنگل کے اصل وارث ہم ہیں۔“شیر نے جوش سے دھاڑتے ہوئے کہا۔
اس کے جواب میں جانوروں نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔من چلے جانوروں کا ایک گروہ گا رہا تھا نہیں چلے گی نہیں چلے گی غنڈہ گردی نہیں چلے گی۔بھالو نے ان سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔”محترم شیر صاحب !آپ نے اپنے خلاف عوامی رائے دیکھ لی آپ سے معذرت ۔جی محترم ! آپ ّپ نے کیا کہنا ہے ۔“بھالو نے ایک بندر کو ہاتھ اور پوچھل اٹھائے دیکھ کر کہا۔
”اب کے حکومت ہماری ہونی چاہیے ہمارا پچھلا دور حکومت بھی اتنا ماڑا نہیں تھا۔“
”اس کا جواب مین دیتی ہوں ۔“ایک کمزور سی ہرنی کی آواز آئی۔بھالو نے اسے بولنے کی اجازت دی۔”آپ کے پچھلے دور حکومت میں شیر نے میرا بچہ اٹھا لیا۔میں شکایت لے کر آپ کے پاس گئی ۔ّپ نے فقط چار پانچ درختوں پر چھلانگیں لگائیں اور نیچے اتر کر آپ نے کہا بی بی آپ کے سامنے میں نے بچے کو بازیاب کروانے کی بہت کوشش کی مگر میں آپ کا بچہ نہ بچا سکا۔“
اس کے ساتھ ہی جگل ایک مرتبہ پھر شیم شیم کے نعروں سے گونج اٹھا۔بھالو نے ایک مرتبہ ہاتھ اٹھا کر خاموش رہنے کی استدعا کی ۔اب اس نے ایک

بن مانس جو ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا بولنے کے لئے کہا
”حکومت ہمیں دو ہم نے اپنے دور حکومت میں جنگل میںامن و امان کی فضا قائم کی۔“بن مانس نے سینے پر دو ہتڑ مارتے ہوئے کہا۔
”تم نے تو اپنے دور میںجانور ”کٹاپاچاڑکر“مار دیئے تھے بہت سے جانوروں کا خون ناحق تمہاری گردن پر ہے۔“
جنگل ایک مرتبہ پھر شیم شیم کے نعروں سے گونج اٹھا ۔بھالو کی پاٹ دار آواز نے سب کو چپ کرا دیا ۔”پھر کون ہو گا ہمارا لیڈر ۔سبھی سوچو۔مگر یہ جان رکھو کہ اب کی بار کچھ نیا ہونا چاہیے۔“اور پھر سب جانور سوچ میں غرق ہو گئے۔چاند بادلو ں سے اٹھکیلیاں کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔اور پھر لومڑی کی تیز سیٹی نما آواز نے خاموشی کا طلسم توڑا”میں نے سوچ لیا“
”کون ہے وہ؟“بہت سے جانوروں کی مشترکی آواز اٹھی۔
”الو،دیکھو ہم نے جنگل کے تقریباً نامی گرامی سب جانور آزما لئے،ہم نے دہشت ناک بھی دیکھ لئے،ہم نے عیار بھی آزما لئے،ہم نے بھولے لیڈر بھی بنا کر دیکھ لئے۔اب کی بار ہمیں عقل مند لیڈر کی ضرورت ہے۔اس لئے ہمیں الو سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں مل سکتا۔اتنا ذھین کہ دن کے اوقات میں بھی آنکھیں کھولے نہ جانے کیا سوچتا رہتا ہے۔اور جب اسے جنگل کی بادشاہی ملے گی تو اس کی سوچ صرف جنگل کے لئے ہوگی۔“ لومڑی بولتی چلی گئی۔سب جانور سوچ میں مستغرق تھے،پھر سب نے مشترکہ طور پر الو کو اپنا لیڈر مان لیا۔
آج جنگل کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔جنگل کے سب باسیو کے لئے الو کے لیڈر بننے کی خوشی میںدعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔سب جانور اپنا من بھاتا کھاجا کھا رہے تھے۔الو اپنے دیدے مٹکائے ایک ہاتھی پر سوار تھا ۔جانوروں کی بولیوں کے شور میں اس کے سر پر تاج رکھ دیا گیا۔شرارتی بندروں اور دوسرے جانوروں نے ایک دوسروں پر پھل کھینچ کر مار کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔دعوت کے آخر میںبھالو نے اپنے تاریخی کلمات میں کہا”الو صاحب! آپ ہمارے لیڈر ہیں ،ہم آپ کی رعایا ہیں۔ہم آپ کے عقل مندانہ فیصلوں کو ماننے میں کوئی تامل نہ کریں گے۔آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر۔“اس کے ساتھ ہی جانوروں نے ہم آپ کی رعایا ہیں کی گردان شروع کر دی۔
بھالو نے سب سے ہاتھ اٹھا کر خاموش رہنے کی استدعا کی۔الو نے رعایا کو خطاب کرتے ہوئے کہا۔”آپ نے مجھے عقل مند سمجھ کر اپنا لیڈر مانا،میں اپنی رعایا کا مشکور ہوں۔میری طاقت میری رعایا ہیں،میں کوشش کروں گا کہ میںتمام فیصلے رعایا کی مرضی سے کروں۔میں چاہتا ہوں آج پورے جنگل میں ناچیں گائیں ،گھومیں پھریں تاکہ نہ صرف ہمارے پورے جنگل بلکہ قریبی جنگل میں رہنے والے جانوروں کو بھی اس بات کی خبر ہو جائے کہ ہمارے جنگل میں جمہوریت نے کیا گل کھلایا ہے۔“الو نے ہاتھی کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا اور خود سرکتا ہوا ہاتھی کے سر پر بیٹھ گیا۔
اپنے لیڈر کا حکم ماننے کے لئے سب جانور غول در غول اس کے پیچھے تھے۔یہ قافلہ جنگل سے جہاں سے بھی گزرتا گیا مزید جانور اس میں شامل ہوتے گئے۔جانور شرارتیں کرتے ،اٹھکیلیاں کرتے اور شور شرابہ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔اس جنگل کے بیچوں بیچ ایک موٹر وے بنائی گئی تھی جو کہ جنگل کو دو حصوں میں تقسیم کرتی تھی وہاں پہنچ کر جانور رک گئے۔
”جناب !آگے سڑک ہے۔“بھالو نے عقیدت مندی سے الو سے کہا
”سڑک کے دوسری جانب کیا ہے؟“الو نے دیدے مٹکاتے ہوئے سامنے دیکھتے ہوئے پوچھا
”عزت ماب!الو صاحب جنگل ہے“لومڑی نے کہا
”اسی جنگل میں تو جانا ہے تاکہ اس کے باسیوکو بھی حکومت کی تبدیلی کی خبر ہو سکے۔توڑ ڈالو سب رکاوٹیں اور آگے بڑھو۔“الو نے ہاتھی کی آنکھ میں پاﺅں کا ناخن چبھوتے ہوئے کہا۔
”یہ ہوتا ہے لیڈر،بے خوف نڈر۔“ایک شرارتی بندر نعرے لگا رہا تھا۔
جانوروں نے سڑک کنارے لگی سب رکاوٹیں توڑ ڈالیں،اور سڑک پر پھیل گئے۔جانوورں نے خوف کی حالت میں دیکھاتیز رفتا ر ٹرکوں کا ایک قافلہ ان کی جانب بڑھتا چلا آرہا تھا۔مگر ان کا لیڈر بے خوفی سے آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا ۔ہاتھی کی آنکھوں پر الو کے پروں نے سایہ کر رکھا تھا۔پھر اس بے خوف لیڈر کی معیت میں جنگل کے جانور تیز رفتار ٹرکوں کی لپیٹ میں آگئے اور بری طرح کچلے گئے۔
(اس کالم ”مزاح مت“ کو حکایت کے طور پر پڑھا اور سمجھا جائے)
٭٭٭

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button