ادارتی کالم

تحفہ

طارق حسین بٹ(چیرمین پاکستان پیپلز ادبی فورم)

اگر ہم تحریکِ پاکستان کا بنظرِ عمیق جا ئزہ لیں تو ایک چیز بڑی واضح اور نکھر کر سامنے آتی ہے کہ تحریکِ پاکستان کی قیادت ان لو گوں کے ہاتھوں میں تھی جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور جن کے لئے اصول اور قدریں بڑی اہمیٹ کی حامل تھیں ۔ اپنے موقف کی صداقت کی خا طر وہ سب کچھ داﺅ پر لگا سکتے تھے لیکن جھوٹ، مکر، فریب اور بد دیا نتی سے آگے بڑھنے کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے پاس دانش، فہم و فرا ست ذہانت اور بے داغ کردار کے ایسے جوا ہر تھے جن کا سامنا کرنے کا مخالفین میں حوصلہ نہیں تھا۔ انکے اصول ہی انکی سب سے بڑی طاقت تھے اور انھوں نے آزادی کی جنگ ا نہی اصولوں کی قوت سے جیتی تھی۔ کردار کی عظمت ان کا ایسا جوہر تھا جس نے مخالفین کے اوسان خطا کر دئے تھے ۔ ان کے کردار کی گواہی ان کے کٹر مخالف بھی دیا کرتے تھے۔ سچ کو آنچ نہیں کہ وہ زندہ پیکر تھے اور لوگ ان کی دیانت اور امانت کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔ان کے سب سے بڑے ناقد پنڈت جواہر لال نہرو کہا کرتے تھے کہ مسٹر جناح کی اعلی سیر ت و کردار وہ موثر حربہ تھی جس کے ذریعے انھوں نے زندگی بھر کے معرکے کو سر کیا ۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ تحریکِ پاکستان کی دو ایسی شخصیات ہیں جن کا موازنہ دنیا کی کسی بھی بڑی شخصیت کے ساتھ کیا جا ئے تو ان کی ذات کے خصا ئص کی چمک انکی ذات کی عظمت کو اور بھی نکھار کر رکھ دیتی ہے۔ دنیائے شعرو ادب کی سب سے بلند مسند پر جلوہ افروز ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کی شخصیت وقت کی قید سے آزاد ہو کر اہلِ جہاں سے اپنی عظمتوں کا لو ہا منوا رہی ہے اور دنیا بھر کے دانشو ر و ں سے خراجِ تحسین وصول کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ان کے تشکیلِ جدیدِ الہیات کے سات لیکچرز میں مضمر، دانش ،گہرائی اور فلسفے کا ابھی تک مکمل طور پر احاطہ نہیں کر سکے۔مجھے کہنے دیجئے کہ ہم نے ان لیکچرز کے اندر چپھی ہو ئی دانش کو سمجھنے کی کبھی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کیونکہ ان لیکچرز سے مذہبی پیشوا ئیت کے مفادات کو کاری ضرب لگنے کا اندیشہ ہے لہذا مذہبی پیشوائیت نے کمال ہوشیاری سے ان لیکچرز کی راہ میں روک اور باڑھ کھڑی کر دی ہے جس کی وجہ سے عوام و خواص کی ان لیکچرز تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی۔ یہ سچ ہے کہ ان خطبات کے اندر دقیق موضوعات پر بحث کی گئی ہے لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ یہ لیکچرز علم و حکمت کے ایسے انمول موتی ہیں جن کی چمک نئی نسل تک پہنچنی انتہائی ضروری ہے تا کہ وہ جدید نظریات سے روشناس ہو کر پاکستان کی صورت گری ان نظریات کے مطابق کرنے میں ممدو معاون ہو سکیں جو ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا مطمع نظر تھا۔ میں سمجھتا ہو ں کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم نئی نسل کے اندر شعور کی پختگی، رواداری، برادشت ، اجتہاد ،فہم و فراست اور آزادانہ فکر سے اشیاءکی کہنہ و حقیقت کو پرکھنے کی نئی راہ کا انتخاب کرنے کی ترغیب پیدا کریں اور انھیں سوال اٹھانے کی ہمت دیں تاکہ دلائل ،منطق، فلسفے، حقائق اور علم کی بنیا د پر ان کے جواب تلاش کر نے کا ان میں شعور بیدار ہو سکے۔ شعور کی بیداری ہی ان کے آگے بڑھنے کی سب سے مضبوط بنیاد ہو گی اور ہم نے جس دن شعور کی اس بنیاد کو حاصل کر لیا ہمیں آگے بڑھنے اور دنیا کی امامت سے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔۔ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا۔۔ کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں ( ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ )
قائدِ اعظم محمد علی جناح شاہینِ افلاکِ تدبر و سیاست اور نابغہ روزگار شخصیت تھے جنکے دلائل کی قوت کے سامنے بڑے بڑے سیاست دان بھو سے کی مانند ڈھیر ہو جاتے تھے۔ محترمہ فا طمہ جناح اپنی کتاب میرا بھا ئی میں رقمطراز ہیں کہ محمد علی جناح محض ایک دلیل سے بڑے سے بڑے مقدمے کو بھک سے اڑا دیا کرتے تھے لہذا انکے دلا ئل کا سامنا کرنا انکے ہم عصروں کے بس میں نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی دو دھاری تلوار کی مانند تھے جو مخالفین کو تہِ تیغ کر کے رکھ دیتی تھی۔ مفکرِ قرآن علامہ غلام احمد پر ویز رقم طراز ہیں کہ ایک دفعہ قائدِاعظم کشمیر کے دورے پر نکلے ہو ئے تھے اور اس دورے میں انکی ہمرکا بی کا شرف مجھے بھی حا صل تھا وادی کشمیر میں دا خل ہو نے سے قبل کاروان راستے میں آرام کی خاطر رکا ہوا تھا کیونکہ پھر اگلی منزل پر ہمیں کشمیر کی وادی میں داخل ہونا تھا جہاں پر قائدِ اعظم کو ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ قائدِ ِ اعظم اکثر انگریزی ہیٹ پہنا کرتے تھے اور اس دورے میں بھی انگریزی ہیٹ ان کے ساتھ تھا۔ چند زعماءکے دل میں یہ خیال ابھرا کہ چونکہ کشمیر کا خطہ قدرے پسماندہ بھی ہے اور قدرے زیادہ مذہب پرست بھی ہے لہذابہتر ہو گا کہ قائدِ اعظم کشمیر کے اس دورے میں انگریزی ہیٹ استعما ل کرنے سے اجتناب کریں تا کہ ہیٹ کو بنیاد بنا کر مخا لفین کو پر و پیگنڈہ کرنے کا بہانہ ہاتھ نہ لگ سکے۔ اس دورے میں عوامی حمائیت کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کے لئے ضرور ی ہے کہ قائدِ اعظم اس ہیٹ کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ دیں۔ مفکرِ قرآن علامہ غلام احمد پر ویز کہتے ہیں کہ چونکہ مجھے قائدِ اعظم کے زیادہ قریب تصور کیا جاتا تھا لہذ ا قائد ِ اعظم تک اس بات کو پہنچا نے کی ذ مہ داری مجھے سو نپی گئی۔ میری عقل اس وقت نجانے کہاں چلی گئی تھی کہ میں نے یہ بات قائدِ اعظم تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کر لی حالانکہ میںقائدِ اعظم کی اصولوں سے بخوبی واقف تھا کہ انھیں اس طرح کی سطحی، بے سرو پا اور غیر منطقی باتوں سے سخت نفرت ہے۔ میں قائدِ اعظم کے بالکل قریب بیٹھا ہوا تھا اور اس وقت چونکہ قافلہ آرام فرما رہا تھا لہذا اس وقت قائدِ اعظم نے اپنا انگریزی ہیٹ اتار کر اپنے گھٹنے پر رکھا ہوا تھا میں قائدِ اعظم کے مزید قریب ہوا اور ان سے اپنے ساتھیوں کی دی ہو ئی رائے کا اظہار کر دیا۔ قائدِ اعظم نے ایک لمحے کے لئے میری طرف دیکھا اور ہیٹ اپنے گھٹنے سے اٹھا کر سر پر سجا لیا اور کارواں کو چلنے کا حکم صادر فرما دیا۔۔
عقل کی کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہ۔۔حلقہ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہ   ( ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ )
کارواں جیسے ہی وادی میں پہنچا لوگوں کی د یوا نگی کی کو ئی انتہا نہیں تھی لوگ قائدِ اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہو رہے تھے قائدِ اعظم زندہ باد کے علاوہ کو ئی آواز سنا ئی نہیں دے رہی تھی لوگوں کا جمِ غفیر تھا جو ان پر جانیں نچھاور کرنے کو بیتاب تھا اور قائدِ اعظم ہاتھ ہلا ہلا کر ان کے نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ان کے خطاب کے دوران لوگ جذبات سے بے قابو ہو رہے تھے اور محبتوں کی نئی تاریخ رقم کر رہے تھے نعرے تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ لیکن سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ قائدِ اعظم وہی ہیٹ پہنے ہو ئے تقریر کر رہے تھے جسے اتار دینے کا مشورہ ان کے دوستوں نے انھیں دیا تھا۔ کشمیر کے لوگوں نے قائدِ اعظم کو ا سی ہیٹ والے روپ کے ساتھ قبول کر لیا تھا جس کی مو جودگی قائد اعظم کے دوستوں کے دلوں میں خدشات کو جنم دے رہی تھی یہ الگ بات کہ قائدِ اعظم نے تنقید یا مقبولیت کے کم ہو جانے کے خوف سے ہیٹ کو اتارنا گواراہ نہ کیا۔ اپنے ظاہر اور باطن کو چھپانا گواراہ نہ کیا بلکہ وہ جیسے تھے ویسے ہی عوامی عدالت میں چلے گئے اور ان کی ذات کی اسی سچا ئی نے لوگوں کو متاثر کیا اور انھیں ان کا ہمنوا اور گروید ہ بنا دیا اور پھر ان کی قیادت میں تخلیقِ پاکستان کا وہ معجزہ سر ا نجام دیا جس پر آج تک اہلِ سیاست دم بخود ہیں۔۔
تحریکِ پاکستان میں جو چیز سب سے حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ مڈل کلاس کی اس قیادت کے خلاف مذہبی پیشوا ئیت ، جاگیردارں اور سردار اوں نے اتحاد کر رکھا تھا پنجاب میں یو نینسٹ پار ٹی کے سارے سردا ر اور تمن انگریز کے حاشیہ بردار تھے اور کانگریس کی کا سہ لیسی سے اقتدار سے چمٹے ہو ئے تھے۔ ا نھیں فکر تھی تو اپنے اقتدار کی اپنی وزارت کی۔ عوامی خدمت اور اور ان کی خواہشات کا ان کے ہاں کو ئی تصور نہیں تھا۔ جس چیز سے اس استحصالی ٹولے کے مفادات محفوظ ہو تے تھے وہ بات ان کے لئے سچ کا درجہ رکھتی تھی او ر جس چیز سے انکے مفادات کو ٹھیس پہنچتی تھی وہ بات ان کی نظر میں غلط تھی۔ ۶۴۹۱ کے انتخابات اورا س کے بعد پنجاب میں ھکو مت سازی کے سارے مرا حل میں یو نینسٹ پار ٹی کا نگر یس کی ہمنوا تھی اور اس کے ساتھ مل کر انھوں نے حکو مت تشکیل دی ہو ئی تھی لیکن جیسے ہی ہوا بدلتی ہو ئی محسوس ہو ئی ،آزادی کا خواب ایک حقیقت بنتاہو ا نظر آنے لگا یہ لوگ چھلانگیں مار کر آزادی کی کشتی میں سوار ہو گئے اور تحر یکِ آزادی کے مامے بن بیٹھے۔ انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شا مل ہو گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کے خزانوں پر قا بض ہو گئے وہی کھیل جو پہلے کانگریس اور مذہبی پیشوائیت کے ساتھ مل کر کھیلتے تھے پھر فوجی ڈکٹیٹروں کے ساتھ مل کر کھیلنا شر وع کر دیا۔ ہر فوجی شب خون کے بعد یہی لوگ اقتدار کے ایوانوں میں عزت و احترام سے نوازے گئے اور ذاتی دولت کے انبار لگا نے میں جٹ گئے۔
پاکستان کا قیا م جمہوریت کی عظیم الشان فتح کی ایسی بے نظیر مثال ہے جس کی نظیر پوری تاریخِ انسانی میں ڈھو نڈے سے بھی نہیں ملے گی۔ پر امن جدو جہد سے دنیا کی سب سے بڑی اسلام مملکت کے قیام کا معجزہ قائدِ اعظم جیسا عظیم را ہنما ہی سر انجام دے سکتا تھا۔ جمہو ریت پاکستانی قوم کے مزاج میں ہے اس کے لہو میں ہے لہذا جمہو ریت پر ہر شب خون کے بعد عوام نے بے شمار قربا نیوں اور جدو جہد سے آمریتوں کو اس ملک میں پنپنے نہیں دیا بلکہ ہر آمر کو ذلیل و خوار کر کے اقتدار کے ایوا نوں سے رخصت کیا۔ جمہو ریت قائدِ اعظم کی بے مثل قیادت کا قرض ہے علامہ اقبال کی آفاقی فکر کی امانت ہے ، اس میں ہمارے آباﺅ اجداد کی لاکھوں قربا نیوں کا ثمر ہے، اس میں ممتا کے آنچل کی خوشبو ہے اور اس میں دھرتی کی بیٹیوں کی معصومیت کا رنگ ہے۔ اس میں ذولفقار علی بھٹو کا لہو شامل ہے اس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربا نی شامل ہے اس میں پاکستان کے غیور عوام کے نعروں کی گونج ہے اس میں ہم سب کا دل دھڑک رہا ہے لہذا اسکی حفاظت ہم سب کی ذ مہ داری ہے۔قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ایک دفعہ اپنی ایک تصویر پر جس کے نیچے شہنشاہ محمد علی جناح لکھا ہوا تھا اسے اپنے ہاتھ سے کا ٹ کر فرمایا تھا کہ اس ملک میں شہنشا ئیت نہیں بلکہ جمہو ریت کا راج ہو گا۔ لیکن افسو س کچھ لوگ قائدِ اعظم کے فرمان کو بھول کر انقلاب کے نام پر فوج کو اقتدار پر قبضے کی دعوت دے کر اس ملک کی سالمیت سے کھیلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ہم انقلاب کے حامی ہیں لیکن فوجی شب خون کے ذریعے انقلاب کی ہر کوشش کا ڈت کر مقابلہ کریں گے کہ اسی میں پاکستان کی بقا اسکی قوت، اسکی سلامتی اور اسکی عظمت کا راز مضمر ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے مکمل طور پر بہرہ ور نہیں ہو رہے لیکن پھر بھی جمہوریت ہی اس ملک کا مقدر ہے کیونکہ یہ قائدِ اعظم محمد علی جناح او ر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ اپنے قائدین کا یہ تحفہ ہمیںدل و جان سے عزیز تر ہے اور اس کی حفاظت کے لئے ہم اپنا لہو دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گئے۔۔۔
اک جان وہ بھی خاکِ وطن پر نثار ہے۔۔ہم کو شرابِ حبِ وطن کا خمار ہے
اس میں ہمارا خون بھی شامل ہے جعفری۔۔صحنِ چمن میں آج جو فصلِ بہار ہے  (ڈاکٹر مقصود جعفری)
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button