ادارتی کالم

بے حیائی کا ایک دن

چند سال قبل کی بات ہے 14 فروری کا دن عام دنوں کی طرح آتا اور چپکے سے گزر جاتا۔ کوئی اس دن کی خصوصیت سے آشنا تھا نہ کوئی ویلنٹائن کو جانتا تھا اور نہ کپویڈ کے کارناموں سے آگاہ تھا۔ اب کی طرح اس دن کوئی ہنگامہ ہوتا تھا نہ کوئی دل آویز واقعہ سننے کو ملتا۔
ایک عشرے میں نہ جانے کہاں سے وبا آئی کہ پاکستان میں بھی بڑے اہتمام سے ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منایا جانے لگا۔ مغربی تہذیب نے مشرق کا رخ کیا اور بے ہودگی و بے حیائی کا ایک سیلاب امڈتا چلا آیا۔ اب 14 فروری کے آتے ہی ویلنٹائن ڈے کی تیاری ہونے لگتی ہیں۔ میڈیا پہ خصوصی تشہیر اور پروگرام ہوتے ہیں۔ نسل نو مقصد حیات سے بے پرواہ ہو کر بے ہودگی کے وہ کھیل کھیلتی ہے کہ شیطان بھی شرمندہ ہوتا نظر آتا ہے۔ پہلے پہل یہ وبا خاص طبقے تک محدود تھی آہستہ آہستہ خاص و عام کی تمیز بھی ختم ہو گئی اور ہر طبقے کا فرد اس کی زد میں آ گیا اور تو اور ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی اس بے حیائی کا باقاعدہ سبق دیا جانے لگا ہے۔
14 فروری کو آپ بھی نظارہ کر سکتے ہیں، ویلنٹائن ڈے جسے ہم اپنی تہذیب کے منافی کہتے نہیںتھکتے، کی سب سے زیادہ دھوم ہمارے ہی محلوں اور گھروں میں پائی جاتی ہے۔ کالج کی بات جانے دیں پرائمری اور مڈل کے طلباء و طالبات بھی اب پابندی سے ویلنٹائن ڈے منانے لگے ہیں حالانکہ یہ دن منانے والوں کی ایک بڑی تعداد اس کی اہمیت و معنویت سے ناواقف ہوتی ہے مگر فلموں اور ٹی وی اشتہارات کے ذریعہ انہیں اتنا ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اونچی سوسائٹی اور پوش کلچر کے چونچلے ہیں اور یہ کہ اس کے نہ منانے والے پسماندہ اور دقیانوسی کہلاتے ہیں، لہٰذا خوشی خوشی عشق فرمانے کا کارنامہ انجام دینے لگتے ہیں اور کم عمری میں ہی ’’بالغ‘‘ ہو جانے کا کریڈٹ حاصل کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس دن کا انتظار بڑی شدت سے کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے گدھ کسی جانور کے مرنے کا۔ ایسے لوگوں پر نظر رکھنے والوں کی بات اگر درست مان لیں تو یہ لوگ انتخاب کے دنوں میں خصوصی مقررین کی طرح ایک ہی دن میں کئی کئی میٹنگیں منعقد کر ڈالتے ہیں اور ہر جگہ وہی رٹے رٹائے جملے دہراتے ہیں کہ ’’ہم صرف تمہارے لئے ہیں‘‘۔
پاکستان میں یہ تہوار تیزی سے پھیلنے لگا ہے بالخصوص طبقہ اشرافیہ کو تو ایسی عیاشی کا کوئی بہانہ چاہئے ہوتا ہے۔ یوں اندازہ لگایئے کہ
گزشتہ سال 14 فروری کے ویلنٹائن ڈے پر باقاعدہ کراچی کے ایک روزنامے میں ایک اشتہار شائع ہوا۔ لکھا تھا۔
’’زندہ دل عاشقوں کے لئے ویلنٹائن ڈے کا خاص پروگرام 14 فروری کی رات محفل رقص (ڈانس پارٹی) منعقد ہو رہی ہے خواہشمند جوڑے اس محفل میں 1999ء روپے کا ڈنر ٹکٹ خرید کر شرکت کر سکتے ہیں البتہ ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے ممبران کو خصوصی رعایت دی جائے گی‘‘۔valentines-day-islam-urdu
اس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ تہوار اور اس کو منانے والے جوڑوں کی خواہشات کیا ہیں۔ رقص و سرود میں محبت کا ’’اظہار‘‘ کیا گل کھلاتا ہے۔ صاحب عقل خوب جانتے ہیں۔
کچھ سال پہلے کی بات ہے لاہور میں این سی اے کے طلبہ و طالبات نے اخبارات میں بیانات جاری کرنے اور تصاویر شائع کرنے کے لئے باقاعدہ اہتمام کیا۔ طالبات نے بے ہودہ انداز کے ساتھ تصویر اتروائیں جو پاکستان کے تمام بڑے اخبارات نے خصوصی طور پر شائع کیں۔ طلبہ و طالبات نے بڑے فخر سے کہا کہ ہم کارڈ، پھول اور چاکلیٹ کی بھرپور خریداری کے ساتھ ویلنٹائن ڈے بڑے اہتمام سے منائیں گے۔
لاہور میں طالبات کی ایک اہم درس گاہ کنیئرڈ کالج میں بھی ویلنٹائن ڈے کی خصوصی تقریب ہوئی جس میں خصوصی جوڑوں کو دعوت دی گئی اور کالج کی طالبات نے ایک دوسرے کو محبت بھرے تحائف اور پھول دیئے اس موقع پر کالج میں ایک میوزیکل شو بھی ہوا جس میں مختلف گلوکاروں نے اپنے ’’فن‘‘ کا مظاہرہ کیا شرکاء نے ڈانس کر کے دل بہلایا اس شو میں شرکت کرنے والے بعض نوجوان کالج اور تقریب کا ماحول دیکھ کر بے اختیار یہ کہنے یہ مجبور ہو گئے کہ ہم نے ایسا بے ہودہ ماحول پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے اور ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات مغربی تہذیب کی دلدل میں ایسے گھر چکے ہیں کہ ان سے سوچنے سمجھنے کا شعور بھی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کے طلباء کی تقلید میں ہر وہ کام کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جس میں بے حیائی و بے شرمی کا عنصر ہوتا ہے لیکن چونکہ یورپ کی نقالی کرنا ہے تو بڑی ڈھٹائی سے اس کو منایا جاتا ہے نہ اس میں کوئی پشیمانی ہوتی ہے اور نہ ندامت۔ افسوس اس بات کا ہے کہ نسل نو اپنی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے اپنے سلف اور آباء و اجدا سے ناآشنائی کا عالم یہ ہے کہ ہماری اکثریت کو عشرہ مبشرہ صحابہ کرامؓ کے نام تک یاد نہیں۔ اس کے برعکس دنیا بھر کے کرکٹرز کے نام ذہن نشین ہوتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں اپنی تہذیب کو اپنانے کی بجائے مغربی تہذیب اپنانے پر توجہ صرف کرتے ہیں حتیٰ کہ اسلامی تہواروں (عیدین وغیرہ) کو بھی مغربی انداز سے گزارا جاتا ہے اور بہت سے لوگ اس کی وجہ جواز یہ پیش فرماتے ہیں کہ ہم اکیسویں صدی میں بحیثیت ایشین ٹائیگر (ایشیائی شیر) دنیا کے نقشے پر اپنا ظہور چاہتے ہیں، حالانکہ یہ اصول ہے کہ کسی قوم کا اپنی تہذیب اور تمدن کو ترک کر دینا اور اغیار کی تہذیب کو اپنانا ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی علامت ہے۔
اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا کہ یہ دن منانا غلط ہے اور اس دن کی مناسبت سے ہونے والی تقاریب میں شمولیت گناہ کی بات ہے مسلمانوں کو ایسے اجتماعات، تقریبات اور ایام سے دور رہنا چاہئے لیکن ایسا کوئی نہیں سوچتا بلکہ الٹا ایسا ماحول سرکاری اداروں میں پیش کیا جانے لگا ہے حالانکہ سرکاری سرپرستی میں منعقد کئے جانے والے ان ایام کا واحد مقصد شعائر اسلام کی توہین ہے وہ افراد، گروہ، ادارے اور تنظیمیں جو ان غیر شرعی، غیر اسلامی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں انہیں چاہئے کہ ان سے کنارہ کشی اختیار کریں کیونکہ شعائر اسلام کی توہین عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان تقریبات کا مقصد محض ثقافت کا اظہار ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اسلام نے جن ایام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ان میں خصوصیت کے ساتھ عیدین، خلفائ، راشدین کے ایام قابل ذکر ہیں، بدقسمتی سے سیکولر اذہان کی حامل شخصیات نام نہاد ترقی پسندیت کے قائل افراد اور یہود و ہنود کے پیسوں پر پلنے والی این جی اوز ان تقریبات کو میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فروغ دے رہی ہیں ان کے مقاصد یہی ہیں کہ مسلمان اپنی دینی تعلیمات سے دور ہو کر ایسے معاملات میں الجھ جائیں جو انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور احکامات نبویﷺ سے دور کر دیں۔
ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے اللہ کے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے‘‘ (احمد، ترمذی)
بلاشبہ موجودہ دور میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’آپﷺ نہیں دیکھیں گے ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہیں خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ ہی ہوں‘‘ (المجادلہ: 22)
کون نہیں جانتا کہ ویلنٹائن ڈے پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزرادانہ ملاپ، تحائف اور کارڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں، اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (النور19)

نبی اکرمﷺ نے جو معاشرہ قائم فرمایا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا مگر اب لگتا ہے کہ آپﷺ کے امتی حیاء کے اس ’’بھاری بوجھ‘‘ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیاء کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا۔ فرمان نبویﷺ ہے: ’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جو تمہارا جی چاہے کرو‘‘۔ (بخاری)

بشکریہ ۔۔۔۔۔ ہفت روزہ جرار

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button