ادارتی کالم

بلوچستان اور سنکیانگ میں سازشیں

بلوچستان اور سنکیانگ میں سازشیں
تحریر: نجیم شاہ

بلوچستان اور سنکیانگ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے ہیں۔ ایک پاکستان جبکہ دوسرا چین میں واقع ہے۔ یہ دونوں صوبے نہ صرف خصوصی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ غیروں کی نظر میں بھی کھٹک رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے بلوچستان کی اہمیت یہ ہے کہ ہم صرف اس کی سمندری پیداوار، سونا اور چاندی کو عالمی منڈی میں ڈال دیں، تیل ، گیس، تانبہ، زراعت اور دیگر وسائل کو صرف گھریلو ضروریات تک محدود رکھیں تو آدھا ملک خوشحال ہو سکتا ہے۔ گوادر کے گرم پانیوں تک رسائی کا خواہاں جہاں برطانوی راج میں سابق سوویت یونین رہا وہیں امریکا اور دیگر کئی ممالک کی نظریں آج بھی اس پر جمی ہوئی ہیں۔ چین کیلئے سنکیانگ کی اہمیت یہ ہے کہ وہاں آٹھ ارب ٹن خام تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ کوئلے اور قدرتی گیس کے ذخائر ہونے کے ساتھ ساتھ یورینیم، قیمتی پتھروں اور سونے کی کانیں بھی موجود ہیں۔ یہاں چالیس بڑے دریاﺅں اور اکیس بڑی جھیلوں کی صورت میں پینے کے صاف، تازہ اور میٹھے پانی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان سب سے زیادہ قدرتی گیس بلوچستان سے حاصل کرتا ہے جبکہ چین کو سب سے زیادہ قدرتی گیس سنکیانگ سے حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی تجربات بلوچستان کے پہاڑوں میں کئے جبکہ چین بھی سنکیانگ میں ایٹمی تجربے کر چکا ہے۔ یوں ان دونوں صوبوں میں ایک لحاظ سے کافی مماثلت پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی اتفاق ہے کہ اس وقت ان دونوں صوبوں میں بغاوتیں بھی چل رہی ہیں۔بلوچستان میں افغانستان کے راستے بھارت کی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں جبکہ سنکیانگ کے حالات کی خرابی میں امریکا پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ بعض ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ بھارت نے امریکا کی حمایت سے پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن پاک چین تاریخی دوستی کی وجہ سے اسے کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ صوبہ ترکستان کا حصہ تھا اور یہاں ترکی النسل باشندوں کی اکثریت ہے جو ایغور کہلاتے ہیں۔ چین نے اپنی آزادی کے ساتھ ہی اس علاقے میں فوجیں داخل کرکے اسے اپنا حصہ بنا لیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک سنکیانگ میں مختلف اوقات میں شورش برپا ہوتی رہتی ہے۔ اس صوبے میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کے تحت چین سے علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہ صوبہ تشدد کی لپیٹ میں رہا ہے۔ چین کئی بار یہ الزام لگا چکا ہے کہ اِن فسادات میں سنکیانگ کی ایک ایغور مسلم خاتون لیڈر رابعہ قدیر کا ہاتھ ہے جو اس وقت امریکا میں پناہ لیئے ہوئے ہے۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تخریب کاری کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ امریکا کو بھی بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد پر یقین ہے لیکن اُس نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس وقت افغانستان میں ایک درجن سے زائد بھارتی قونصل خانے پاکستان کے خلاف سازشوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ وزیرستان میں بھی بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے راستے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد افغان حکومت کو بھی پیش کیئے جا چکے ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ بھی یہ معاملہ اُٹھایا جا چکا ہے۔پاکستان اور چین یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان اور سنکیانگ میں ہونے والی دہشت گردی کی لہر میں غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں جو بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو اسلحہ اور پیسے دیکر تخریب کاری کروا رہی ہیں۔

امریکا اور بھارت کو ایک طویل عرصے سے پاک چین دوستی پر مروڑ اُٹھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے کئی بار اس دوستی میں دراڑیں ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔ چین کے صوبہ سنکیانگ میں ایک طویل عرصہ سے شورش برپا ہے لیکن حالیہ برسوں کے دوران اِس میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارت اور امریکا نے اس صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان کو اس کا مورد الزام ٹھہرانے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ رواں سال اگست کے شروع میں سنکیانگ میں جو پُرتشدد واقعات رونما ہوئے شاید یہ پہلا موقع تھا کہ چین نے ابتدائی تحقیق کے بعد اپنے قریبی حلیف پاکستان پر اُنگلی اُٹھائی اور مقبوضہ کشمیر کے ساتھ لگنے والی اپنی سرحدوں پر ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کا حوالہ دیا۔ چین کی طرف سے پاکستان پر اُنگلی اُٹھنے کی دیر تھی کہ بھارتی میڈیا اورحکمران بھی پھٹ پڑے اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ اب چین کو پاکستان کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کر دینی چاہئے کیونکہ اس خطے میں تمام برائیوں کی جڑ یہی ایک ملک ہے۔ ہمالیہ سے اونچی اور بہرالکاہل سے گہری پاک چین دوستی کی وجہ سے مخالف قوتوں کی سازشیں اُس وقت ناکام ہو گئیں جب سنکیانگ واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چین کی طرف سے یہ بیان دیا گیا کہ اِن حملوں میں ملوث ملزمان کی پاکستان سے تربیت کے کوئی ثبوت نہیں ملے اور اِن حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور دہشت گرد دونوں مقامی ہیں۔ دراصل یہ افواءمخالف عناصر کی تھی جن کی ہر ممکن کوشش رہی کہ کسی طرح دونوں ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالی جائے لیکن چین کی حکومت نے تمام تر تحقیقات کے بعد یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈہ قطعاً بے بنیاد ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان اور چین کی گہری دوستی میں ایک کڑا وقت ایسا بھی آیا کہ بھارت نے چین میں مسلمانوں کے بھیس میں اپنے ایجنٹ چھوڑ کر دہشت گردی کروائی تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے لیکن بعد میں جب اصل حقائق سامنے آئے تو بھارت کو مُنہ کی کھانی پڑی۔اس وقت بھی بلوچستان اور سنکیانگ کو جس صورت حال کا سامنا ہے ان دونوں صوبوں میں امریکی اور بھارتی مداخلت کی طرف اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ صیہونی سامراج کو ان دونوں خطوں کے امن و استحکام سے نہیں بلکہ عظیم قدرتی وسائل سے دلچسپی ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ بھارت دلائی لامہ جبکہ امریکا رابعہ قدیر کو ایک ہتھیار کے طور پر اُس کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ دلائی لامہ تبت کے روحانی پیشوا ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت میں سیاسی پناہ لیئے ہوئے ہیں جبکہ ورلڈ ایغور کانگریس کی سربراہ رابعہ قدیر ایک کاروباری خاتون ہیں جو ملکی راز افشاءکرنے کے الزام میں چھ سال قید کاٹنے کے بعد اب امریکا میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ امریکا رابعہ قدیر جیسے لیڈروں کے توسط سے سنکیانگ میں وہی کھیل کھیلنا چاہتا ہے جو بلوچستان اور وزیرستان میں جاری ہے۔ اس کے ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ کمیونزم کے خلاف مسلح جنگ کو اس نے ”جہاد“ قرار دیا اور کمیونسٹ روس سے لڑنے والوں کو ”مجاہدین“ کے نام سے شہرت دی لیکن جب وہی ”مجاہدین“ سامراج اور صیہونیت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تو انہیں ”دہشت گرد“ کہا جانے لگا ہے اور اِن کی جنگ کا نام ”جہاد“ سے تبدیل ہو کر ”دہشت گردی“ قرار پا گیا۔

اس وقت سنکیانگ اور بلوچستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایک طرف کمیونسٹ چین کے خلاف سامراج اپنی آزمودہ چالیں بروئے کار لانا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف ہندو بُنیئے کیساتھ ملکر بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ دشمن کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانا اور ان کا استحصال کرنا سامراجیوں کا مخصوص صیہونی طریقہ واردات ہے۔ ان حالات کے تناظر میں پاکستان اور چین کو نہ صرف اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنا چاہئے بلکہ بلوچستان اور سنکیانگ کے حالات خراب کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کرنا ہوگا۔ جس طرح بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھ رہا ہے اسی طرح امریکا بھی پاکستان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ چین کا محاصرہ کرنے میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کو ہمیشہ بھروسہ مند اور بہترین دوست پایا اور اُمید ہے کہ دونوں ممالک یونہی دشمن کے ناپاک عزائم کو بھی ناکام بناتے رہیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button