ادارتی کالم

بدلا کیا ہے؟(کالم- ضمیر آفاقی)


بدلا کیا ہے؟

انسانی زندگی کے سفر کا آغاز کب ہوا اس برائے کوئی حتمی تاریخ مرتب نہیں ہو سکی مگر انسانیت کے سفر کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب دنیا کے پہلے انسان کے ساتھ کسی مسلے نے جنم لیا تھا اس مسلے کے حل کی تلاش ہی دراصل انسانیت کے سفر کا آغاز تھا جہاں آج ہم کھڑے اور دستیاب سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں ان میں ہمارا کردار نہ ہونے کے برابر ہے اور جن کی کاوش اور محنت سے ہم آسان زندگی گزار رہے ہیں ان کا ہم پر احسان عظیم ہے ،بتایا جاتا ہے کہ انسان نے بہت مادی ترقی کر لی ہے ہواؤں میں اڑنے سے لیکر چند لمحوں میں ہزاروں میل دور بیٹھے کسی بھی انسان سے گفتگو کرنے تک یہ ترقی کا سفر نہ صرف نظر آرہا ہے بلکہ اس سے ہم استفادہ کر رہے ہیں۔انسان کی کوششوں سے مادی ترقی کی اس معراج تک جا پہنچے ہیں جہاں سے آگے کا سفر مزید آسان ہو گیا ہے ۔ آج توہمات کے بت پاش پاش ہو چکے ہیں اتنی بہت زیادہ ترقی یقیناً انسان کی کامیابی ہے لیکن کیا حضرت انسان خود بھی ترقی کر سکا ہے یا ہنوز وہیں کا وہیں کھڑا ہے جہاں وہ صدیوں پہلے تھا وحشی ،جانور غیر مہذب ،احساسات سے عاری اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں تو ہم انسان کو بہت ہی بری حالت میں دیکھتے ہیں جانوروں سے بدتر ،غیر مہذب،بعض حالتوں میں درندوں سے بھی بد تر اگر درندگی کی تفصیلات بیان کرنا شروع کر دوں تو صفحات کم پڑ جائیں مگر انسانی درندگی کے واقعات کم نہ ہوں،ابھی چند دن قبل سیالکوٹ،گجرات،اور دیگر کئی شہر انسانی درندگی کی جیتی جاگتی تصویر بن کر ہمارے سامنے آئے ہیں اور حالیہ سیلاب نے بھی ہمارے مومن چہروں سے کئی نقاب نوچے ہیں ہماری خود ساختہ عزت اور شرافت کی دھجیاں اڑائی ہیں جب ہم نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے المئے کے شکار لوگوں کو بھی نہیں بخشا بچیوں کے اغواء سے لیکر وہ سب جرم کئے ہیں جو عام فہم میں ہماری سوسائٹی میں معروف ہیں اور جو بین الا قومی سطح تک ہماری وجہ شہرت ہیں ۔پھر سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ انسان نے ترقی کب اور کہاں کی ہے ؟ کم ازکم پاکستان تو انسانی ترقی کے حوالے سے بانجھ ہی نظر آتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ ہر نیا زمانہ پچھلے کے مقابلے میں زیادہ مہذب اور ہر نئی نسل گذشتہ نسل سے ایک ہاتھ آگے ہوتی ہے۔ جہاں باپ کا سفر ختم ہوتا ہے وہیں سے بیٹے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔مثلاً معیارِ زندگی کو ہی لیجیے۔ آج اشیاء کی فراوانی ، ورائٹی اور دستیابی آبادی میں بے پناہ اضافے کے باوجود گذشتہ کسی بھی صدی سے زیادہ ہے۔ اب سے چند سو برس پہلے نمک جیسی شے انتہائی مہنگی اور نایاب ہوا کرتی تھی۔ یہ سوغات خریدنے کی استطاعت صرف روسا کے پاس تھی۔ اب ہر ما جھا ساجھا نمک استعمال کررہا ہے۔ اسی طرح جہانگیر کے جام میں جو برف ڈلتی تھی وہ کشمیر سے آگرہ لائی جاتی تھی۔اب ہر آدمی کسی بھی نکر سے برف خرید سکتا ہے۔پہلے پرائمری سکول میں پڑھنے کے لیے بھی بچے کو پاپیادہ ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا تھا، اب ہر گلی میں ایک سکول کھل گیا ہے۔ ڈیڑھ سو برس پہلے تک ہر شخص میں نہ تو جوتا خریدنے کی استطاعت تھی اور نہ ہی وہ دو سے زیادہ کپڑے کے جوڑے بنا سکتا تھا بلکہ اکثر لوگ ننگے پاوں رہتے تھے اور ایک کپڑے میں گزارہ کرتے تھے۔ اب جس معیار اور فیشن کا کپڑا مغرب میں دستیاب ہے وہی کسی گاؤں ، شہر میں بھی میسر ہے۔پہلے جانشینی کا فیصلہ تلوار کرتی تھی۔اب کردارکشی، اعدادوشمار میں گھپلے، پروپیگنڈے اور جوڑ توڑ کے پھندوں اور ریاست کے اندر ریاست بنے ہوئے اداروں اور میڈیا نے تلوار کی جگہ لے لی ہے۔ ۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ آدابِ سلطانی بھی بدلے ہیں۔ پہلے جس کی لاٹھی تھی اسی کی بھینس تھی۔ اب ووٹ فیصلہ کرتا ہے کہ کون حکومت کرے گا۔ پہلے بادشاہ یا تو تشدد اور بیماری سے مر کر تخت خالی کرتا تھا یا دوسرے کی گردن اتار کر اپنے لیے جگہ پیدا کرتا تھا۔ اب پارلیمنٹ ،سول سوسائٹی اور میڈیا کسی بھی حکمران کا تخت ہلانے کے لیے تلوار سے زیادہ موثر ہے۔پہلے کوئی بھی بادشاہ اپنی سپاہ کے ساتھ کسی بھی سرزمین پر چڑھ دوڑتا تھا، لوگوں کو غلام بنا لیتا تھا اور مفتوحہ علاقے کو اپنی سلطنت میں ضم کرلیتاتھا۔اب جدید قومی ریاست کا تصور، اقوامِ متحدہ ، عالمی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی برادری کا دباؤ ایسی کسی حرکت کو ہضم کرنے کے لیے تیار نہیں۔لیکن میرا خیال ہے کہ اس خوش کن تصویر کے دوسری طرف آپ کو وہی ہزاروں برس پرانا انسان اپنی تمام تر جبلتوں کے ساتھ دکھائی دے گا۔مثلاً پہلے قحط اور نایابی تھی۔اب اشیا سے بھری دوکانوں اور فراوانی کے باوجود دنیا کے انسانوں کی اکثریت جیب میں پیسہ ہونے کے باوجود وہی غذا استعمال کرنے پر مجبور ہے جو اسکے پرکھے استعمال کرتے تھے۔یعنی پیاز ، روٹی اور مرچوں کی چٹنی اور اس غذا کے بارے میں بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا ہے کہ خالص ہے یا ناخالص۔پہلے صرف ناخواندگی کا مسئلہ تھا لیکن اب معیاری تعلیم اکثریت کے بس سے باہر ہے۔پہلے دوائیں نہ ہونے سے انسان مرجاتا تھا۔اب غیر معیاری دواؤں سے مرجاتا ہے۔پہلے قانون کا مطلب تلوار اور ننگی طاقت تھا۔اب سائل عدالتوں اورتھانوں کے چکر لگا لگا کر قانون کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر جان دے دیتا ہے۔ پہلے کھلی فوج کشی سے کمزور سلطنتوں اور انکے عوام کو غلام بنا کر ضم کیا جاتا تھا۔اب یہی کام قرضوں، اقتصادی ناکہ بندی اور طفیلی حکمرانوں کی مدد سے ہوتا ہے۔پہلے انسان جو حرکتیں نیزہ ہاتھ میں پکڑے کیلے کے پتے باندھ کر حلق سے ڈراونی آوازیں نکالتے ہوئے کرتا تھا اب وہی کام سوٹ پہن کر سگار کی راکھ جھاڑ

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button