ادارتی کالم

اگر ایسا ہو گیا تو!!!!

اگر ایسا ہو گیا تو!!!!

تحریر: سمیع اللہ ملک
مئی ۷۸۷۱ ءکا ایک گرم اور چمکدار دن تھا جب کنگ لوئیسXVIIنے فیصلہ کرہی لیا۔ وہ فرانس کا بادشاہ تھا اور کئی مہینے سے ملک میں بڑھتے احتجاج سے پریشان تھا اس کے صوبائی گورنرز بھی اس سے ناراض تھے اور مقتدر حلقے بھی ناکافی اختیارات کی شکایات کرتے رہتے تھے،اس کی حکومت کا دارومدار صوبائی گورنرز پر تھا، گو کہ اختیارات اس کے پاس تھے مگر انہیں استعمال کرنے والے گورنرز تھے،ملک میں اسمبلیاں بھی تھیں اور اپوزیشن بھی، مگر سب کے سب بادشاہ سے ناراض تھے، کنگ ملک کی حالت سدھارنا چاہتا تھا اور اس کے مخالفین کا کہنا تھا کہ وہی ملک کی بدترین حالت کا ذمہ دار ہے۔
آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ سب گورنرز کی میٹنگ بلائی جائے اور مسئلے کا حل نکالا جائے، پیرس کی مرکزی پارلیمنٹ سمیت سب صوبائی رہنماؤں نے اس مشاورت میں یہ فیصلہ دیا کہ نئے انتخابات ہی بہترین حل ہوں گے ،عوام کا خیال تھا کہ اس میٹنگ میں معاشی معاملات اٹھائے جائیں گے، بھوکوں کے پیٹ بھرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور ملک میں بڑھتی ہوئی طبقاتی خلیج کوپاٹنے کا منصوبہ تیار ہوگا،مگر انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا،عوام کی بھوک اور کنگ کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر سب نئے بندوبست میں اپنا حصہ بڑھانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے،حیرت کی بات ہے کہ ملک میں بے چینی بھوک کی وجہ سے تھی، بے روزگاری کی وجہ سے تھی مگر سیاسی رہنما اس کا حل الیکشن کی صورت میں پیش کر رہے تھے،پیرس کی پارلیمنٹ نے کنگ کی رضا مندی سے فیصلہ کرلیا کہ فوراً ہی نئے الیکشن کرائے جائیں گے اور نو منتخب افراد کو صوبائی گورنرز مقرر کردیا جائے گا۔اس فیصلے سے جوڑ توڑ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، ہر ایک اپنے پیش کردہ طریقے سے الیکشن کرانا چاہتا تھا اور اسی طرز کو سپورٹ کرتا تھا جس میں اس کی جیت کے امکانات روشن ہوں۔ عوام خاموشی سے یہ ڈرامہ دیکھتے رہے،بھوکے لوگوں کے خالی پیٹ کو یہ لوگ اقتدار کے حصول کے لئے سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے رہے، ایک مہینے کے اندر اندر نئے انتخابات کا اعلان بھی ہوا اور وہی سیاستدان جو پہلے انتخابات کو ہر مسئلے کا حل بتا رہے تھے اب لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کے لئے سڑکوں پر آنے کی کال دے رہے تھے۔
میٹنگز ہوتی رہیں، پارلیمنٹ کے سیشن چلتے رہے،مگر بحث انتخابات پر تھی، پیرس کے موچی رات کو بھوکے سوتے تھے اور مزدور ایک دیہاڑی لگانے کے لئے مارے مارے پھرتے تھے،اس وقت کا سب سے پرفریب نعرہ یہ تھا کہ قدیم فیوڈل سسٹم کو ختم کر کے جمہوری انداز لایا جائے، اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ نیا آئین تحریر کیا جائے اور اس کے لئے وہ عوام کو سڑکوں پرآنے کے لئے ابھارتی رہی مگر عوام لاتعلق بنے رہے، انتخابات ہوئے، نئے چہرے بھی پاور میں آگئے مگر عوام بھوکے ہی رہے، اگلے سال۸۸۷۱ءکی گرم جولائی میں آخر وہ عوام سڑکوں پر آہی گئے جو پچھلے سال گھروں میں ہی رہے تھے، مگر عوام نے نہ تو آئین کا مطالبہ کیا نہ ہی ان کی زبانوں پرجمہوریت کے نعرے تھے، پیرس کے یہ موچی اور مزدور صرف ڈبل روٹی مانگ رہے تھے اوران ظالم حکمرانوں سے نجات چاہتے تھے۔
جب یہ لوگ سڑکوں پر نہیں تھے تو کسی کو ان کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا اور جب یہ لوگ سڑکوں پر آئے توکسی کو امان نہیں ملی، قلعے محل اور محل جیل خانوں میں بدل گئے اور پیرس میں اتنی قتل وغارت ہوئی کہ کبھی اس کی مثال نہیں ملتی، ان بھوکے لوگوں کی عجیب نفسیات تھی وہ قیمتی سامان چرانے کے بجائے تباہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے، ان لوگوں نے اعلان کردیا کہ سب کے حقوق یکساں ہیں اورایک موچی بھی اتنے ہی حقوق رکھتا ہے جتنے کسی لارڈ کو حاصل ہے، تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ عوام کے اس انقلاب کے چند مہینوں میں ۰۳ہزار افراد قتل کئے گئے، کنگ، کوئن اور ان کے مشیر و وزیر کوئی بھی ان مزدوروں، موچیوں، کسانوں اور لوہاروں سے نہیںبچ سکا، جمہوریت، آئین اور انتخابات کے لئے آپس میں لڑنے والے ان لوگوں کو ہتھوڑوں، بیلچوں اور کدالوں سے قتل کیا گیا۔
یہ کوئی انقلاب نہیں تھابلکہ سیدھی سی ایک شورش تھی جو بھوک سے بے تاب ہونے والے عام لوگوں نے برپا کی تھی، ان لوگوں کا کوئی خاص معروف لیڈر بھی نہیں تھا بلکہ یہ جتھوں کی صورت میں قتل و غارت کر تے رہے، ان کو روکنے میں ناکامی دو وجوہات کی بناءپر ہوئی، ایک تو یہ لوگ مرنے یا مارنے کا عزم لے کر نکلے تھے، دوسرا عنصر یہ تھا کہ خود سپاہیوں کے خاندان بھی ایسی ہی غربت سے گزر رہے تھے۔ اس قتل و غارت گری کے اختتام پر فرانس کا مشہور نپولین خاندان برسراقتدار آیا۔
فرانس کی تاریخ کے اس حصے کو پڑھنے کے بعد کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال نظر ڈالیں ،کشمیر میں کئی سیاسی پارٹیاں ہیں ان میں سے کچھ اقتدار میں ہیں اور کچھ اسے حاصل کرنے کی تگ ودومیں ہیں،ان سب کا دعویٰ ہے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں اور وہ عوام کے لئے کام کر رہے ہیں مگر حقیقت میں عوام کسی کے ساتھ نہیں ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر میں امن و امان کی ابتر صورتحال جو اس وقت ہے اس کی مثال پچھلے ساٹھ برسوں میں نہیں ملتی۔
کشمیری اپنے حق خودارادیت حاصل کرنے کیلئے یوں تو پچھلی چھ دہائیوں سے برسر پیکار ہیں اوراب تک اپنے اس حق کے حصول کیلئے ایک لاکھ سے کہیں زیادہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں اوراب بھی ان کے عزم میں کوئی رتی برابر فرق نہیں آیا۔کشمیر کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق درجن سے زائد مظاہرین کو ہرروز گولی کا نشانہ بنا کر اس تحریک کو دبانے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں ۔صرف ایک دن یعنی ۴۱/اگست کو وادی میں تشددکی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں سی آرپی ایف کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ۵۳سالہ نوجوان کشمیری ارشاداحمدکو شہید کردیا جبکہ رئیس احمدگولی لگنے سے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔سرینگر میں کرفیوسختی سے نافذ کرنے کےلئے شہر کے چپے چپے پرپولیس ‘ریپڈ ایکشن فورسزاورسی آرپی ایف کے ہزاروں اہلکاروںکو متعین کرکے سارے شہر کو ایک جیل بنادیا گیا ہے لیکن اس کے باوجودسرینگرمظفرآباد شاہراہ پر افطار کے موقع پر ایک بیس سالہ نوجوان محمد عمرڈار کو روزے کی حالت میں شہید کردیا گیااورنصف درجن سے زائد مردوزن کو زخمی کردیا گیا۔بارہمولہ میں ایک ۵۶سالہ موذن علی محمد کھانڈے کو گولیوں سے بھون کر شہید کردیا گیا جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مقامی افراد نے پٹن پولیس تھانے کے باہراحتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے آزادی اوراسلام کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے سخت احتجاج کرتے ہوئے سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر دھرنا دیتے ہوئے اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک کو بلاک کردیا۔
کپوارہ میں فورسز کی فائرنگ سے مدثراحمدزرگرنامی نوجوان کو شہید کردیا گیااورتدفین کے موقع پر ہزاروں افراد نے آزادی کشمیر اوراسلام کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔چوگل کے علاقے میں فورسزاورمظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعدفورسز کے اہلکاروں نے درجنوں مکانات کی توڑ پھوڑکرتے ہوئے بدترین قسم کے تشدد کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عورتوں‘بچوں اوربوڑھوں پر وحشیانہ ظلم کیا۔گاندربل/بانڈی پورہ کے وارڈ نمبر ۳کے نزدیک بھاری تعداد میں نوجوانوں کی ایک تعداد آزادی کشمیر اوراسلام کے حق میں نعرے لگارہے تھے تو پولیس نے ان پر آنسو گیس کا بہیمانہ استعمال شروع کردیا جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی کو نذرِ آتش کردیا۔پلوامہ اورشوپیاں میں سخت ناکہ بندی کے باوجودنمازفجر کے بعد ہی نوجوانوں اورفورسز میں وقفہ وقفہ سے جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں بابہ محلہ کے قریب ایک نوجوان اشفاق فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
سرینگر کے تاریخی لال چوک میں قائم گھنٹہ گھرپچھلے ۱۲سالوں سے تاریخ کے اوراق میں مختلف واقعات کی بناءپر ایک نمایاں حیثیت اختیار کرچکا ہے جہاں ہمیشہ کشمیری پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی جھنڈا لہراتے ہیں لیکن اس مرتبہ حکومتی آشیرباد پر بی جے پی کے ریاستی یوتھ ونگ نے چارروز قبل اعلان کردیا کہ وہ جموں کے دریائے توی سے پانی لاکر پہلے گھنٹہ گھر کی صفائی کریں گے اورپھر اس کے بعد ترنگا لہرائیں گے لیکن اس کے جواب میں کشمیری نوجوانوں کے اشتعال کے سامنے یہ متعصب جماعت فورسز کی آشیرباد کے باوجوداپنے پروگرام کو عملی جامہ نہ پہنا سکی۔ عمرعبداللہ نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اوروزیرداخلہ پی چدمبرم سے نئی دہلی میں اپنی ملاقات کے دوران کشمیر کی بگڑتی صورتحال پرسریع الحرکت فورسز بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کے جواب میں فوری طورپرسریع الحرکت فورسز کی تین کمپنیاں سرینگر میں تعینات کردی گئیں ہیں اورایک کمپنی سوپور میں بھی تعینات کردی گئی ہے۔ ان تمام حفاظتی تدابیر کے باوجود وزیراعلی عمر عبداللہ ایک ناراض کشمیری عبدالاحد جان کی پاپوش کی سلامی سے نہ بچ سکے ۔
ادھر دخترانِ ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی نے اپنے ایک بیان میں ۵۱/اگست کو یومِ سیاہ مناے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ” کٹھ پتلی وزیراعلیٰ پر جوتا مارنا آزادی کے نعرے لگانا ‘کالا جھنڈا لہراناکوئی معمولی بات نہیں اس مردمجاہد نے مظلوم کشمیریوں کے زخمی دلوں کو شاد کردیاہے“۔ دخترانِ ملت نے اپنی طرف سے اس مردِ حُر کوتمغہ” شجاعت ایمانی“دینے کا اعلان کیا ۔اپنے پریس ریلیز میں اس اہم خبر کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ۰۰۰،۰۱ پولیس ملازمین جن میں سے کچھ آفیسرز بھی ہیں ‘نے کلدیپ کھڈا کو درخواست بھیج دی ہیں کہ ہمیں ملازمت سے فارغ کیا جائے لیکن عمرعبداللہ کسی بھی قیمت پر اس پر عملدرآمدنہیں ہونے دے رہے۔
اس وقت کشمیرکے تازہ ترین حالات پر ایک نظر ڈالیں تو کشمیر بھی ۷۸۷۱ ءکا فرانس لگتا ہے۔پچھلے باسٹھ سالوں میں کشمیریوں پر جو ظلم وستم روا رکھاگیا ہے اب ان تمام زیادتیوں کے حساب کا دن قریب آن پہنچا ہے۔اب اس آگ کو نہ تو کشمیریوں کو پچاس ہزار نوکریوں کا لالچ اورنہ ہی اٹانومی کا جھانسہ سرد کرسکے گا۔حریت کا یہ جذبہ اب کشمیریوں کوہرروزسڑکوں پر نکلنے کی دعوت دے رہا ہے اورجس دن سارا کشمیر سڑکوں پر آگیا تو کیا ہوگا؟ یہ فرانس کی تاریخ اچھی طرح بتاتی ہے۔اگر ایسا ہو گیا تو!!!!

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button