The news is by your side.

اور اب انقلاب مصر ……

33


شہزاد اقبال

مصر میں ایک بار پھر تارےخ سازی کا عمل جاری ہے ،اکےسویں صدی کے پہلے عظےم الشان انقلاب کا سلسلہ جاری ہے ،گزشتہ 10روز میں صدر حسنی مبارک کی مقبولیت کا اندازہ دنیا کو ہو گےا ہے ،منگل ےکم فروری کو قاہرہ کے التحریر سکوائر میں ملےن مارچ کو ملےنزمارچ میں بدل دیا ،اےک اندازے کے مطابق 20سے 40لاکھ افراد صدارتی محل کی جانب مارچ میں شرےک ہوئے ،انقلابی نعرے بھی لگے اور نماز بھی پڑھی گئی ،جمہورےت پسند رہنما مارچ کی قےادت کر رہے تھے ،آئی اے ای اے کے سابق سربراہ ڈاکٹر محمد البرادعی اپوزیشن رہنماﺅں میں سر فہرست ہےں گویا ےہ مقابلہ حسنی مبارک اور محمد البرادعی کے درمےان ہے، ملےن مارچ کے موقع پر حسنی مبارک کو جمعہ 4فروری تک اقتدار سے علےحدہ ہونے کی مہلت دی گئی ہے اور مصر چھوڑنے کا الٹی مےٹم بھی دےدےا گےا ہے ،ادھر مصری صدر حسنی مبارک نے گزشتہ روز اقتدار چھوڑنے کا اعلان تو کر دیا ہے لےکن اسے ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے مشروط کےا ہے کہ اسے مزےد 10 ماہ کی مہلت دی جائے تا کہ وہ پر امن طرےقے سے اقتدار منتقل کر دے ۔لےکن عوام جو اب بپھر چکی ہے وہ حسنی مبارک کو مزےد مہلت دےنے پر تےار نہیں اور وہ اسے ڈھکوسلا قرار دے رہے ہےں۔
انقلاب مصر کی خاص بات ےہ ہے کہ اس میں رفتہ رفتہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام کا ساتھ دینا شروع کےا جس سے حسنی مبارک بتدرےج تنہا اور بے بس ہوتے گئے، پہلے مرحلے میں پولیس نے عوام کا ساتھ دیا اور ان پر تشدد کرنے کی بجائے انہیں تحفظ فراہم کیا،گولیاں نہیں چلائیں اور نہ ہی لاٹھی چارج کیا اس کے ساتھ ساتھ اپنی ےو نیفارم پھےنک کر عوام میں شامل ہو گئے اور اس کے بعد فوج جسے کوئی بھی آمر اور جابر حکمران اپنے تحفظ کی آخری علامت سمجھتا ہے نے بھی حسنی مبارک کی حکم عدولی کی وہ بظاہر صدر کے ساتھ ہے لےکن اصل میں اس نے ملےن مارچ کے شرکاءاور دےگر عوامی اجتماعات میں طاقت کے استعمال سے انکار کر دےا ، بکتر بند گاڑیوں اورٹےنکوں تک پر صدر مخالف نعرے درج ہےں اور انقلاب کو خوش آمدےد کہا جا رہا ہے گوےا حقےقی معنوں میں 8 کروڑ کی مصری عوام میں سے اب بہت کم حسنی مبارک کے حماےتی رہ گئے ہےں ےہی وجہ ہے کہ منگل کو 97بھرے سوٹ کےسوں سے مبارک کا خاندان برطانےہ چلا گےا ہے کےونکہ حسنی مبارک کے خاندان نے محسوس کر لیا ہے کہ گزشتہ 29 سال سے مطلق العنا نیت کا جو دور چل رہا تھا اس کی بنےادیں اب اتنی کھوکھلی ہو چکی ہےں کہ ےہ خود ساختہ محل کسی بھی وقت گر سکتا ہے لہٰذا اےسی صورت حال میں گھر سے مال و متاع لے کر فرار ہونا ہی بہتر ہے ۔

تےونس سے عوامی احتجاج کی جس لہر کی ابتداء ہوئی تھی اس نے مصر،اردون ،ےمن،سوڈان کے بعد اب روس کا بھی رخ کر لیا ہے لےکن وکی لےکس کے مطابق اس کا اصل ہدف مصر ہی تھا اگرچہ تےونس کے زین العابدین اور ان کا خاندان بھگواڑا بن چکا ہے، اردون میں وزےر اعظم کو تبدےل کر دیا گےا ہے جبکہ مصر کے نیم صدارتی نظام میں بھی اعلیٰ آئےنی شخصےات کو بدل دیا گےا ہے لےکن اس کے باوجود عوام مطمئن نہیں ہےں اور وہ اپنے ملکوں سے ان مکر وہ اور آمرانہ ذہنےت کی حامل شخصےات کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہےں جس کی وجہ سے ان کی زندگےاں اجےرن بن چکی ہےں لےکن ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ان کا احتساب کریں اور اپنوں نے جو اندھےر نگری مچائی ہوئی تھی اس کا حساب لیا جائے کےونکہ جلا وطنی ےا ملک بدر ی ہی عوامی مسائل کا حل نہیں ہے
کہنے کو تو مصر میں بھی جمہوریت تھی وہاں پارلےمنٹ موجود تھی بلکہ اس کے اےوان زےریں میں تو پاکستان کی قومی اسمبلی سے بھی زےادہ تعداد میں عوامی نمائندے منتخب ہوتے ہےں لےکن اس کے باوجود ےہ نمائندے عوام کی آواز کو صحےح معنوں مےں حکمرانوں تک نہیں پہنچا سکتے تھے اور نہ ہی حق نمائندگی ادا کرتے جس کا نتےجہ ےہ نکلا کہ عوام میں بے روز گاری کی شرح بڑھتی گئی مہنگائی نے سر اٹھا لیا لوگوں کی قوت خرےد کم پڑ گئی اور جرائم میں اضافہ ہونے لگاگوےا ناقص اقتصادی نظام کے باعث عوام میں بےداری کی لہر پےدا ہوئی اور اس نے قصر صدارت پر لعن طعن کرنا شروع کر دی اور جب اےسی صورت حال پےدا ہو جائے تو حکمرانوں کو اپنا اقتدار خطرہ میں محسوس ہونے لگتا ہے اور اس کے حل کے لئے وہ پہلے مرحلے میں ا صلاحات رائج کرنے کی بات کرتے ہےں جبکہ دوسرے مرحلے مےں طاقت کے استعمال پر ےقین کرتے ہےں حسنی مبارک کی ےہ بد قسمتی ہے کہ وہ دونوں طرےقوں میں کامےاب نہیں ہو سکے کےونکہ مصرےوں کو اس بات کا ےقین تھا کہ آمر حسنی مبارک جو ہر صدارتی انتخاب میں 90 فیصد سے زائد صدارتی ووٹ لےنے کا پراپےگنڈہ کرتا رہا ہے عوامی نمائندگی کا حقدار نہیں اس نے طاقت کے زور پر رےاستی مشےنری کو قابو کر رکھا ہے عوام کی نظروں مےں وہ پسندےدہ نہیں لہٰذا لاوا جو اندر پک رہا تھا وہ جنوری کے آخری عشرے میں ابل پڑا اور اس کا رخ صدارتی محل کی طرف تھا ۔
”مبارک کو جلا وطنی مبارک “ ،”مبارک کو ملک بدری مبارک“،”مبارک اب گھر چلے جاﺅ“ےہ وہ نعرے ہےں جو قاہرہ ،سکندر ےہ سمےت ملک کے طول و عرض میں گونج رہے ہےں ، دیہات میں بھی انقلاب کی لہر پہنچ چکی ہے، رےاستی عوام کی اتنی بڑی تعداد میں رےاستی حکمران کے خلاف بغاوت کم ہی دےکھنے کو ملتی ہے لےکن فرعون کے ملک مصر میں آج بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے لوگ موجود ہےں جو ظلم اور نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑ ے ہونے کی جرات رکھتے ہےں ۔

مصر میں عوامی بےداری کی لہر کی اےک اور خاص بات ےہ ہے کہ ےہ انقلاب اب تک زےادہ خونیں ثابت نہیں ہوا اگرچہ 300کے قرےب شہری جان کی بازی ہار چکے ہےں 3 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ،لےکن ےہ انقلاب فرانس ،انقلاب روس، انقلاب چین اور انقلاب ایران کی طرف زےادہ پر تشدد نہیں اگرچہ سابقہ انقلاب اور مصر کے حالےہ انقلاب کی وجوہات میں فرق ہے لےکن انقلاب میں تشدد کا پہلو عموماً اےک مشترکہ نقطہ ہوتا ہے ، جس سے انقلاب کی حدت اور شدت کو ماپا جاتا ہے ادھر دنیا بھر کے دارالحکومتوں نے مصر میں موجود اپنے سفارتخانوں اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ بعض نے اپنے سفارتی عملہ اور شہریوں کو مصر سے نکالنا شروع کر دیا ہے پاکستان کے وزےر اعظم سےد ےوسف ر ضا گےلانی نے بھی اپنے شہریوں کو مصر سے نکالنے کا حکم دیدیا ہے۔

شمالی فرےقہ کے اہم ملک مصر کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظر یں جمی ہوئی ہیں اور مصر کے ساتھ جڑی ہوئی عرب رےاستیں بھی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہےں جبکہ مصر کے انقلاب سے جو سب سے زےادہ متاثر ہو گا وہ غےر قانونی رےاست اسرائےل ہے کےونکہ تل اےبب کے نزدےک قاہرہ کی قےادت اس کی منظور نظر تھی مصر نے چونکہ اسرائےل کو بطور رےاست تسلےم کر رکھا ہے لہٰذا وہ تل اےبب کے لئے پرےشانی کا باعث نہیں بنتا تھا اور جب بھی اسرائےل جارحےت پر اتر تا تھا اور رفاہ اور بیت المقدس میں جارحےت کا مرتکب ہوتا تھا تو مصر ےا پھر امرےکہ امن کاوش کے نام پر کبھی شرم الشےخ اور کبھی واشنگٹن میں امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دےتے اور فلسطینیوں کے غم وغصہ کو کم کرنے کے لئے نام نہاد اقدامات شروع کر دیتے اور حالات کچھ معمول پر آنے کے بعد دوبارہ آگ و خون کی بارش شروع کر دی جاتی ۔لہٰذا اےسے دوغلے دوست کی موجودگی سے اسرائےل کو کافی فائدہ پہنچتا رہا لےکن اب جبکہ اخوان المسلمون کی حمائت یافتہ قیادت کا مصر میں سامنے آنے کا امکان بڑھ گیا ہے تو تل ایب کی قیادت میں خوف کی فضا پےدا ہو گئی ہے کہ کہیں مستقبل میں ”انتہا پسند “ مصر پر قابض نہ ہو جا ئیں اور اس خطرہ کا اظہار برطانےہ کے اےک اخبار نے بھی کےا ہے کہ مصر مستقبل میں پاکستان سے زےادہ خوفنا ک ملک بن کر مغرب کے سامنے آ کھڑا ہو گا ۔
ادھر واشنگٹن جو اسرائےل کا لے پالک ہے نے اپنے سابق دوست حسنی مبارک سے آنکھیں پھر لی ہےں اور اس نے واضع کر دیا ہے کہ مصر کے معاملات مصر کے عوام طے کرےں گے کہ ےہ سب مصر کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ کسی رےاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہں کرتے اب جبکہ حسنی مبارک واشنگٹن کے لےے مقدس گائے نہیں رہی وہ اس کے تقدس کے متعلق کچھ نہیں کر رہا اور اگر البرادعی مستقبل کے مصری منظر نامے پر نمودار ہوتے ہےں تو اس کے ساتھ چونکہ واشنگٹن کی پرانی ”انڈر سٹےنڈنگ “ ہے لہٰذا وہ اس کے ساتھ ”دوستی “ کے رشتے کو اور مضبوط کر لے گا گوےا حسنی مبارک کے بعد اےک اور حسنی مبارک کے پےدا ہونے کا امکان ہے اور غالب امکان ےہ ہے کہ مصری انقلاب کو امرےکہ ہائی جےک کر لے گا ۔

مصر کی جغرافیائی اہمےت نہاےت اہم ہے ،مصر ےورپ، امرےکہ اور ا یشیاءکے سنگم پر واقع ہے اور ان دونوں بڑے خطوں کو ملانے کے لئے واحد آبی گزر گاہ نہر سو ےز ہے جس پر مصر کا کنٹرول ہے ےہ اگرچہ اےک مختصر سی آبی گزر گاہ ہے لےکن ےہاں سے حاصل ہونے والا محصول مصری معےشت کے لئے سیاحت کے بعد اچھا خاصا ذرےعہ آمدن ہے ماضی میں اس نہر کی بندش سے بین الاقوامی تجارت کو شدےد د ھچکا لگ چکاہے اور اس کے بعد مصر میں اےسے حکمرانوں کو قبول کےا جانے لگا جو مغرب نواز تھے پھر انہی حکمرانوں نے اسرائےل کو بھی تسلےم کےا اور فلسطینی ’کاز‘ کو بھی نقصان پہنچاےا اس کے باوجود کہ مصر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے لےکن رےاستی جبر نے انسانی حقوق کا خون کےا جس کی وجہ سے حکمران اپنی دولت بڑھارہے جبکہ مغر ب نواز اپنا الو سےدھے کرتے رہے اور عوام کو احساس محرومی کے سےاہ کنوےں میںپھےنک دیا گےا کہ ےہ ےہاں سے باہر نہیں نکل سکےں گے لےکن جب حکومت کا جبر بڑھا تو مظلوم آخر کار اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ ان حکمرانوں کے سامنے آ گئے جنہوں نے تاج و تخت کے لئے دولت کو اپنا پجاری بنا رکھا تھا اور آج انہی کے تاج و تخت اڑا ئیں جا رہے ہےںاور سلطانی جمہور کازمانہ آگےا ہے بقول شاعر

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
اب یہ مصری عوام اور اپوزیشن جماعتوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر کتنا اتحاد قائم رکھتے ہےں نقش کہن کو کتنی جلد مٹا دےتے ہےں محض چہرے کی تبدےلی سے نظام درست نہیں ہو گا آمرانہ رےاستوں کے ہر شعبہ زندگی پر آمرےت کی چھاپ ہوتی ہے ، وہاں مےرٹ کا خےال نہیں کےا جاتا، اقر باپروری رشوت ستانی اور سفارش کا راج ہوتا ہے وہاں ظالم کم اور مظلوم زےادہ ہوتے ہےں، وہاں امےر کم اورغرےب زےادہ ہوتے ہےں ،وہاں انصاف کم اور بے انصافی زےادہ ہوتی ہے، وہاں انسانیت کم اور در ندنگی زےادہ ہوتی ہے، وہاں نفس پرستی زےادہ اور عوام پرستی کم ہوتی ہے اب جبکہ مصر کے عوام کو اےک موقع مل رہا ہے تو انہیں چاہےے کہ انقلاب کے اصل مقصد کے حصول کے لئے کام کرےں لیکن یہاں پر حسنی مبارک وعدہ بھی کرے گا کہ وہ کےا اس کا بیٹا بھی اگلے صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے گا اسے اقتدار کی خواہش نہیں اور ےہ کہ تارےخ اسے ےاد رکھے گی وہاں آئی اےم اےف اور ورلڈ بنک بھی مصر کی تعمےر نو کے لئے قرضے اور امداد دےنے کے لئے آئےں گے، وہاں امرےکہ برطانےہ اور امیر ترین دارالحکومت کی طرف سے انقلاب کو خوش آمدےد بھی کہا جائے گا لےکن مصر کے عوام کے لئے اصل امتحان اب شروع ہو رہا ہے کہ وہ فرعون عصر سے چھٹکاراحاصل کرنے کے بعدآج جمعة المبارک سے اپنی نئی سےاسی ز ندگی کا آغاز کےسے کرےں گے ،قدرت نے مصر کو جغرافےائی لحاظ سے اہم مقام دےا ہے تو وہاں قدرتی وسائل بھی بے انتہا موجود ہےں افرادی قوت کی بھی کمی نہیں اہم براعظموں کی قربت بھی حاصل ہے اور اہم ہمسائے بھی موجود ہےں( ما سوائے اسرائےل کے) لہٰذا جامعہ الزہر کے مفتی حضرات کی سر پرستی اور اہل دانش کی موجودگی میں مصر میں صحےح معنوں مےں جمہوریت لانے کی ضرورت ہے تا کہ عوام کے بنےادی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ےہ ملک صحےح معنوں مےں ترقی کر سکا پاکستان کے عوام اےک جدےد، ترقی ےافتہ اور خوشحال مصر کے متمنی ہےں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.