ادارتی کالم

انقلاب ؟اگر اور جیتے رہتے یہی انتظارہوتا

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابنِ عالم
تحریر: محمد یونس عالم
نظام الملک طوسی کی سرزمین سے اٹھنے والے انقلاب کے شعلوں نے ابولہول کے مجسموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔تیسری دنیا کی سوئی ہوئی دنیا بھی انگھڑائیاں لے کر اٹھی ہے اورکڑاکے نکال رہی ہے۔ذرائع ابلاغ ،جوانقلاب کی آرزومیںآغازِانقلاب کونمایاں کرکے پیش کررہا ہے اسے اندازہ بھی نہیں جس قوم کی سماعتیں اپنے سروں پراڑان بھرتے طیاروں کی گن گرج سننے سے عاجز ہیں وہ مصرکی ہوناکیاںکیا سنیں گیں۔وہ خمیرکیا تھا جس سے یہ قوم تعمیرہوئی۔حیا،غیرت اور حمیت سے عاری جن وجودوں کے کسی خونی انقلاب میں بہہ جانا چاہئے تھا وہی حیاءباختہ وجود ہمیں انقلاب کی نویدیں سنارہی ہیں۔دریائے سندھ بھی تو خشک ہوکرصحراہوگیاورنہ ڈوب مرنے کا اس سے بہترموقع نہیں معلوم کہ پھرکب آئے گا۔ جنہیں دوبار آزمایا جا چکااس قوم نے مقبولیت کی پگ پھرانہی کے سر رکھ دی اور بات کرتے ہیں انقلاب کی؟وہ مومن کہاں کے جوتمام حشرسامانیوں کے ساتھ ایک ہی سوراخ سے سہہ بارہ ڈسنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔
انقلاب کیا ہے؟بس ایک خونریز تصادم اور اکھاڑپچھاڑ۔یادش بخیرکے یہ قوم خونریزیوں اورپرتشددفلفسوں پریقین نہیں رکھتی۔یہ احمدمرسل ﷺ کے نام لیواوں کا دیس ہے ۔اس دیس کے مکینوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ صبروالوں کے ساتھ ہوتا ہے اورزیادتی کرنے والے کومعاف کردینا چاہیئے۔ان دو آسمانی احکام پر عمل کے معاملے میں یہ اس انتہاءپر کھڑے ہیں کہ حضرت مسیح کی شریعت کی پیروی میں خیرجانتے ہیں۔کوئی ایک زناٹے دارطمانچہ رسید کرے توجواب میں استعینوبالصبرکا مجسم پیکربن کر”اعلی اخلاق“کامظاہرہ کرتے ہوئے دوسرا گال بھی پیش کردیتے ہیں۔تاریخ تو چراغ لئے ہم سے صابر تلاش کرے گی مگرقرون اولی کوبھی وہ اس معاملے میں تہی دامن پائے گی۔کبھی ہم اس قدر ”جذباتی “تھے کہ سندھ کے ساحلوں پرپسِ زنداں سے حوا کی بیٹی پکارتی توبغدادکا مسلمان زین کس کر اپنے گھوڑوں کوبحرظلمات میں دوڑادیتے۔مگراب اس قدر ”بردبار“ہوئے کہ ڈاکٹرعافیہ کی صورت میں نسوانیت بال بکھیرے ماتم کرہی ہے مگرفکر اس بات کی ہے کہ ورلڈکپ کیلئے کپتان کون بنے گا؟کبھی ہم اس قدر ”جنونی“تھے کہ عالم عدل کا بے تاج بادشاہ ایک شام تنہاءغلام کوساتھ لے کر پیوندزدہ لباس اورخستہ و شکستہ جوتتے کے ساتھ اونٹ کی پشت سے یوں اترتے کہ فلسطین کے تاج وتخت اس کے ننگے قدم پرسجدہ ریز ہوتے۔مگراب اس قدر”حلیم الطبع“ہوئے کہ بیت المقدس رہا ایک طرف ،اپنے ہی دیس میں وردی پوش چنگیزنے ایک مسجدمیں فاسفورس کی دھونی دے کرننے وجودوں کو نالیوں میں بہا دیا جو بچ گئیں اسے حورانِ بہشت کے خریداروں نے بم رکھ کراڑادیا مگرہماراغم یہ رہا کہ شعیب ملک نے عائشہ کو طلاق دے کرثانیہ مرزاسے عقدکیوں کرلیاہے۔کبھی ہم اس قدرآتش مزاج“تھے کہ کوئی دزد نیم شب ہمارے گھرکی چھت میں شگاف ڈالنے کی کوشش بھی کرتا توہم بدی کا ہرخیمہ الٹ کرحمیت کا ثبوت دیتے ۔مگراب اس قدر”شیریں مزاج “ہوئے کہ طیارے اندھی اڑانیں بھرکے آتے ہیں اورآتش وآہن کی برسات کرکے بستیوں کوجلاکربھسم کردیتے ہیں مگراس اسے چند ہی کلومیٹرکے فاصلے پرباچا خان کے وارث ڈھول کی تھاپ پراس لئے تھرکتے ہیں کہ کرکٹ کے میدان میں پاکستان نے نیوزی لینڈکومات دے دی۔کبھی ہم اس قدر”دقیانوس“تھے کہ امتِ احمدِمرسل ﷺکوجسدواحدکی مثل گردانتے ہوئے شرق سے غرب تک اورعجم سے عرب تک سرحدات کے تکلفات خاطرمیں لائے بغیردکھوں کا احساس رکھتے۔مگراب اس قدر”اعتدال پسند“ہوئے کہ چوراہوں پرکھڑی مائیں بچوں کی بولیاں لگاتی رہیں اورلاہورمیں محلات کی چھتوں پربسنت کی رنگینیاں انجوائے ہوتی رہیں۔کبھی ہم اس قدر”تاریک خیال“تھے تخت اقتدارپربیٹھتے توپھربیٹھناکیسا،رات کی تاریکیوں میں تنگ گلیوں کی خاک چھان کررعایاکااحوال لیتے۔مگراب اس قدر”روشن خیال“ہوئے کہ قوم سیلاب کی بے رحم موجوں کی رحم کی موجوں پرہوتی ہے اور قوم کا سربراہ فرانس میں اپنے محل کا احوال لے رہے ہوتے ہیں۔
ذراخطاوں کومعاف کرنے والی اداوں کوبھی ملاحظہ کیجئے ۔بھٹوخاندان نے تین بارہم پرمسلط ہوکرجس قدر ممکن تھا ستم ڈھائے مگر ہم نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں صرف معافی کا پروانہ ہی عطا نہ کیا بلکہ اقتدارکا تاج اسی خاندان کے ایک ایسے داماد کے سرسجادیا کہ جس کی حاصل زندگی کی راتیں دن سے زیادہ روشن اور دن راتوں سے زیادہ تاریک ہیں۔رائیونڈکے سرمایہ داربھی چلے ہوئے کارتوس سے کم نہیں مگرکوئی ہم سے ”کم خرچ بالا نشیں“بھی تولائے جو پھر اسی کارتوس کو کارآمدبنانے کیلئے شب وروز ایک کئے ہوئے ہیں۔خیبرپختونخواکے خدائی مددگاروں کوبھی دیکھ لیجئے کہ جن کا سراپا زیرمطالعے میں لایئے توفیصلہ مشکل ہوجائے کہ ان کا قبلہ پاکستان ہے؟یا ماسکو؟یاپھرواشنگٹن؟جومرحوم ہوئے ان کا مزارجلال آباد میں اور جو بقید حیات ہیں وہ بھی قوم کو اپنے ملک میں دستیاب نہیں ہیں۔مگرکیا کیجئے کہ ان کا واسطہ بھی ایسے حاتم طائیوں سے پڑا ہے کہ پھرسے خود پر مسلط کرکے ڈرون حملے بھگت رہے ہیں اور اف تک کرنا بھی گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔یہی چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہی تھے جوحدودآرڈینس جیسے مغربی تفکرات کووحی منزل من السماءکا درجہ دینے کیلئے صف اول میں کھڑے ہونے پر کل تک معتوب تھے مگر آج وہ تمام خطاوں کو معاف کردینے والی قوم کے بیچ کھڑے ہوکرناموس رسالتﷺ کا مقدمہ لڑرہے ہیں۔طفلان مکتب سے کیا شکوہ،جن کی نظروں کے سامنے اسلام آباد میں ایک غاصب نے معصوم بچیوں کواپنے جبرکا نشانہ بنایا وہی ثناخوانِ تقدیسِ مشرق جب جیل سے رہائی پا کرتشریف لائے تو سب سے پہلے خطاوں کومعاف کردینے والی ہی صفتِ جلیلہ کو بروئے کارلائے اورپرویزمشرف ایسے قاتل کو اللہ کے حوالے کردیا۔بس یہی کیا،مسلم لیگ قاف کے سارے گناہوں پرخط تنسیخ پھیرتے ہوئے ان سے تعزیتوں اور عیادتوں کے مراسم لڑالئے۔ہم ایسے صلح جو ہیں جن کی بخشش کا دریا ہمہ وقت ٹھاٹے ماررہاہوتا ہے۔
وجہ کیا ہے؟بس احترام۔ ہم بزرگوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ہم نے بینظیربھٹوکوردائے شاہی اس لئے پہنائی کہ وہ ذوالفقار علی بھٹوکی دخترنیک اخترتھی۔اگرسویٹزرلینڈ میں آصف علی زرداری صاحب کی زنبیلیں چھلک رہی ہیں توکیا ہوا،دیکھتے نہیں ہو کہ داماد کس کاہے اورشوہر کس کا؟اسی لئے تواقتدارکی پالکی میں ہم نے نہ صرف ان کو بٹھایا بلکہ جھولا بھی دیتے رہتے ہیں۔تسلیم کہ بلاول بھٹوابھی بچہ ہے اور زیرتعلیم بھی ہے ۔مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ نواسہ کس کا ہے؟اور یہ کہ بیٹاکس کا ہے؟ادب اوراحترام کاتقاضہ ہے کہ ذولفقار علی بھٹوکے نواسے کو تمام تر نقائص کے ساتھ ہی اپنا نجات دہندہ قراردے دیا جائے کہ بزرگوں سے ہی سنتے آئے ہیں ”با ادب با نصیب ،بے ادب بے نصیب۔
جب ہم اپنے تئیں بالکل ٹھیک راستے پرہیں اور مذکورہ تمام صفات عالی میں کمال کو پہنچے ہوئے ہیں توانقلاب کی ضرورت کیسی؟انقلاب کی ضرورت ان ”دقیانوس “اہل عرب کو ہے جو ایک خود کشی کی تاب نہ لائے اور سڑکوں پر نکل کرسارا نظام دھرم بھرم کردیا۔کیا ہمیں انقلاب کی ضرورت ہے؟اگر واقعی ہمیں انقلاب کی ضرورت ہے توپھرقربانی درکارہے۔قربانی یہ کہ ہمیں ”اعتدال پسندی“پر لعنت بھیج کر”دقیانوسی“پر اترنا ہوگا۔ہمیں ”صبر“کا دامن چھوڑکر”جنونیت“کی آگ میں اترنا ہوگا۔”احترام“کی روش سے باز آکر”بے ادبی“ کی اس انتہاءکو چھونا ہوگا جہاں صنادید قوم کی دستاریں ہواوں میں اچھلتی نظرآئیں اورشاہوں کی قبائیں ہم سے جان کی امان پائیں۔چھوڑیئے حمیت کو اور آیئے کہ ”بے غیرتی“ہمارے دروازوں پہ دستک دے کر کہتی ہے کہ منزل وہ رہی سامنے مگر آنکھیں کھولنے کی دیر ہے۔ٹرینوں کے نیچے لیٹنے اور پنکھوں پر جھولنے سے انقلاب نہیں آیا کرتے۔نظام کوپلٹنے کیلئے راہِ نجات یہ نہیں کہ اپنے جگرگوشوں کی نیلامی کرکے خودسوزیوں جیسی بزدلانہ روایت پرعمل کیا جائے۔نجات کی آخری راہ یہ ہے کہ شخصیات کی صورت میں جو مقدس مذہبی بت ہم نے تخلیق کرکے خود سے اپنی راہوں میں حائل کردیا ہے ان بتوں کوپاش پاش کرکے نئی سحر کیلئے ایک نیا خورشید تراشنا ہوگا۔اگرروش نہ بدلی اور پرانے رستوں پرہی چلنا ہے توپھرانقلاب نہیں بس امام انقلاب اور تحریک نہیں صرف قائد تحریک کی پوجا کیجئے کہ
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظارہوتا

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button