ادارتی کالم

اس گھر کو آگ لگ گئی ۔۔۔

ڈاکٹر فوزیہ خان

ماہ صیام کی بابرکت اور رحمت سے بھرپورساعتوںنے وطن عزیزپر جب سے دستک دی ہے تمام مسلمان اس با برکت ماہ کی رحمتوں اورفیوض سے مستفید ہورہے ہیں مگر وطن عزیز کا ایک بہت ہی خوبصورت اور بڑا شہرجو کل تک عروس البلادتھاآج بد امنی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے ماہ صیام کی آمد کے ساتھ ہی انسانی جانوں کی حرمت کی پامالی یقینا ایک فکر انگیزبات ہے اور تمام اہل وطن کیلئے لمحہ فکریہ ۔ویسے تو پچھلے کئی سالوں سے کراچی میں امن کی صورتحال خطرناک ہے پچھلے کئی سالوں میں کئی ہزار افراد موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں مگر گزشتہ تین ماہ سے اور خصوصا اس ماہ مبارک کے دوران انسانی جانوں کا قیمتی خون جس انداز میں بہایا جارہاہے سوچنے پر مجبورکرتا ہے کہ کیا ہم سب مسلمان ہےں….؟؟؟کیا کراچی بھی اسی ملک کا حصہ ہے….؟؟؟
کیا پنجابی اور مہاجر خون کا رنگ سندھی خون کے رنگ سے مختلف ہے….؟؟؟کیا کراچی مں بسنے والے مسلمان اس ماہ مبارک میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ظلم و ستم کا شکارنہیں ہورہے ….؟؟؟گزشتہ تین ماہ کے دوران کرااچی میں کروڑوں روپے کی قیمتی املاک اور گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں اور اس بھی زیادہ بڑھ کرسینکڑوں قیمتی جانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیامتعددلوگوں کی بوری بند لاشیں جگہ جگہ سے برآمد ہونامنظم تشدد کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو رکنے میں نہیں آرہاہے ۔اس قدر لاءقانونیت….؟؟؟؟؟؟ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بٹن آن کرتا ہے اور لاشیں گرنے لگتی ہیں انسانی خون کبھی بھی اتنا ارازا ں نہیں ہوتھاجتنا اب کراچی میں ہوچکاہے پچھلے دنوں وزیرداخلہ کا ایک بیان نظرسے گزراکہ کراچی میں اسرائیلی اسلحہ استعمال ہورہاہے ۔کیا وزیرداخلہ نے یہ بات ثبوت کی بنیاد پر کہی ہے یا محض بیان بازی ار اگر ایسا ہے بھی تو اسرائیلی اسلحہ کہاں سے آرہاہے….؟؟؟کون استعمال کررہاہے اور کیا ہم سب بحثیت انسان اس قدربے حس ہو چکے ہیں کہ ہمارے دلوں اور ذہنوںپر اس بات کا کوئی اثرہی نہیں ہورہااور اگر ہو بھی رہاہے تو کیا ہم احتجاج نہیں کرسکتے اپنے ہی شہریوں کی ہلاکتیں اور خون خرابہ ہماری روز مرہ سماعتوں کا لازمی جز سا بن گیا ہے اور ہماری حکومت اور سیاسی جماعتیںاپنے ہی کارکنوں کے جان و مال کا مسئلہ اس قدر غیر سنجیدگی سے کیوں لے رہی ہےں رنگوں نسل اور تعصب کی بنا پر اس قدر تشددہماری تعلیمات کا حصہ تونہیں ہیں۔پاکستان جب قائم ہوا تھاتو کانگریس نے چیلنج دیا تھا کہ پاکستان زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا بلاشبہ اس وقت حالات انتہائی نامساعد تھے پاکستانی حکومت کے پاس نہ وسائل تھے اور نہ ہی سول انتظامیہ کا ڈھانچہ حتکہ فوج بھی کسی مرکزی نظام کے تحت نہ تھی مگر اس وقت ہماری قیادت نے بڑی محنت اور جان فشانی سے ہر کا م خوش اسلوبی سے سر انجام دیا ہماری لیڈر شپ اور عوام دونوں ہی نے جس جذبے اور حوصلے کا ثبوت دیاوہ قابل ستائش ہے حالانکہ اس وقت بھارت نے ساتھ ہی مسئلہ کشمیر کھڑا کردیا تھا اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کا دفاعی بجٹ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا مگر ہماری قیادت نے تمام مشکلات کا ڈٹ کے مقابلہ کیا اور وطن عزیز کونا صرف اپنے پاﺅں پر کھڑا کیابلکہ یہ اب تک قائم دائم ہے جب پاکستان بنا تھااس وقت نہ تو کوئی سندھی تھا نہ پنجابی نہ بلوچ اور نہ پٹھانمگر آج ایسا لگتا ہے کہ ہمارا اپنا وطن ہمارے ہی ہاتھوں سے نکلا جارہاہے خصوصا کراچی میں امن و امان کی صورتحال جس حد تک ابترہوچکی ہے وہ نہایت افسوس ناک ہے اس وقت تشدد اپنے عروج پر ہے ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے ادارے تباہ ہورہے ہیں گورننس نام تو نہیں مساجد‘سکول‘ہسپتال‘دفاتر‘دکانیں کچھ بھی محفوظ نہیں جب ملک میں امن ہی نہ ہو تو معاشرہ کیسے قائم رہہ سکتا ہے اور ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے کراچی جو ملکی معیشت کی شاہ رگ ہے اس کی اس صورتحال پرسب کو مل بیٹھ کے سوچنے کی ضرورت ہے ۔ہمارے علمائ‘سیاستدان‘ حکمران اورعوام سبھی غفلت پسند ہوچکے ہیںاس قدر شدید صورتحال میں کسی ایک فرد‘فرقے‘ادارے اورجماعت کو ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ویسے تو بنیادی طورپر یہ ہمارے سیاسی قائدین اور حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ ریاست میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر قابو نہیں پا سک رہے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کی ذمہ داری عوام پر بھی آتی ہے کہ وہ اپنے منفی اور سیاسی رجحانات کے باعث فرقہ واریت اور تعصب کو ہوا دے کر جلتی پر تیل کام کرنے کا باعث بن رہے ہیںآج مذہی قوتیں بھی اقتدار کی جنگ میں شامل ہوکرفرقہ واریت اورمذہبی انتہا پسندی کا باعث بنی ہوئی ہیں وہ بجائے خود امن وامان کو فروغ دینے کے بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید بگاڑ کی طرف لیجانے کا باعڑ بن رہی ہیں حالانکہ اسلام امن سلامتی بھائی چارے اور مساوات کے فروغ کا مذہب ہے اسلام میں کہیں بھی فرقہ واریت اور خون خرابے کی گنجائش نہیں ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت فتح مکہ ہے کہ اس سے بڑا کوئی انقلاب نہیں ہوسکتااتنا بڑا اسلامی انقلاب آیا مگر اس طرح کہیں بھی خون خرابہ نہیں ہوا ہم سب بحیثیت مسلمان اور بحیثیت انسان اس چیز کی ذمہ دار ہیں کہ ہماری جڑیں اس ملک کے اندرہیں ہم ان کو کھوکھلا نہ کریں بے شک اس غفلت کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہی ہیں جو پالیسیاں بنا کرنافذ کرتے ہیں کہ ملک میں قانون کی بالادستی ان کی ہی اولین ذمہ داری ہے مگرہمارے سیاسی قائدین بھی اپنا اپنا کرداراگر درست طور پر اداکرتے تو آج کراچی کی یہ صورتحال نہ ہوتی کیونکہ ہمارے سیاستدان اپنے اپنے مفادات کی سیاست کررہے ہیں اپنے اقتدار کیلئے یہ ملک قوم کے مفادات کو قربان کردیتے ہیں ہمارے اپوزیشن لیڈربھی اپنے مفادات کی خاطر تو اکھٹے ہوجاتے ہیں مگر عوام کی بہتری ‘بھلائی اور مفادات کیلئے اکھٹے نہیں ہوتے۔آج کراچی کی صورتحال میں ہماری اپنی تنگ نظری اور شدت پسندی سرفہرست ہے ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کا قتل ہے یہاں تو روز کئی بے گنا انسان قتل کئے جارہے ہیںاور پھر ایک ایسے مہینے میں جس میں برداشت اور حوصلے کا امتحان ہوتا ہے اور ہر مسلمان اس پر پورا اترنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔کیا ایک قتل ہونیوالا مہاجراور قتل کرنے والاسندھی یا پٹھان انسان اور مسلمان نہیں ہوتے….؟؟؟کیا ہم ایک مہذب معاشرے کے افراد ہیں….؟؟؟کیا ہم اللہ کی پکڑ کو بھی بھول چکے ہیں….؟؟؟ہم سب کو اپنے اپنے طورپریہ سوچنا ‘سمجھنا اور فیصلہ کرنا چاہئے کہ کراچی کی اس مسلسل بگڑتی صورتحال کے اصل ذمہ دار کون ہیں کیونکہ انسانوں کی آپسی ہم آہنگی ا‘وابستگی اور اتحاد ہی کسی ملک کی سلامتی کی بنیاد ہیں اگر آپس میں اتحاد اور وابستگی ہی قائم نہ رہے تو سب کچھ بکھر جایا کرتا ہے اور گھر کوگھر کے چراغ سے ہی آگ لگ جاتی ہے……..٭٭٭

Related Articles

جواب دیں

Back to top button