ادارتی کالم

آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ضروری کیوں؟

rauf-amir

آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ضروری کیوں؟

طوفان نوح کی تیزی سے دریائے سندھ کا سیلابی پانی چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر و نوزائیدہ صوبے گلگت و بلستتان میں افت کی شکل میں وارد ہوا اور پھر سندھو کی لہریں ایسے بھپریں کہ ہر سو تباہی و بربادی کی ایسی داستانیں چھوڑ گئیں جو انے والی نئی نسلوں کو بھی دہشت بنکر خوف زدہ بناتا رہے گا۔ سیلابی ریلوں نے پانچ ہفتوں تک بلا حیل و حجت ہر اس چیز کو فنا کرڈالا جو اسکے راستے میں حائل ہوئی۔جنوبی پنجاب کے بعد سیلابی ریلے نے سندھ کے ستر فیصد علاقوں کو دریا برد کردیا۔ کوٹری بیراج پر ایک ماہ دس سے بارہ لاکھ کیوسک پانی موجود رہا اور اسی پانی نے اطراف و کنایاف میں زندگی کی رونقوں کو دکھ درد رنج و حزن میں بدل دیا۔خدا خدا کرکے سیلابی لہروں کا کفر ٹوٹ گیا اور وہ بحیرہ عرب کی طرف چل دیں۔یوں یہ کہنا غلط نہیں کہ سیلابی پانی اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہزاروں مربع کلومیٹر کے دائرے میں ہونے والے انگشت بدنداں نقصانات کو پورا کرسکے۔یوں عالمی برادری سے امداد کی اپیلیں داغی گئیں۔ ابتدا میں کرپشن کے حوالے سے کئی اعزازات رکھنے والے پاکستان کو خطیر غیر ملکی امداد نہ مل سکی کیونکہ دنیا بھر میں تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں آدھی رقم کرپشن کی نذر ہوجاتی ہے مگر جوں جوں سیلاب کی تباہ کاریاں عالمی میڈیا میں شائع ہونے لگیں اور عالمی برداری نے انہیں دیکھا تو سکتے میں ا گئی۔اب یہ صورتحال خوشگوار بن گئی ہے کہ عالمی برادری دل کھول کر امدادی رقوم کے اعلانات کررہی ہے۔اب تک امریکہ 200 ملین ڈالربرطانیہ115 ملین ڈالرکنیڈا 33اسٹریلیا چائنا 20ترکی10 اور جاپان نے14.2 ملین ڈالر کی رقم کا اعلان کیا ہے۔پاکستان کو اب تک150 ملین ڈالر کی ایڈ مل چکی ہے۔ ورلڈ بینک اور imf صہیونی سرمایہ دار وں کی ملکیت ہیں جنہوں نے تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کو معاشی غلامی کے پھندے میں قید کررکھا ہے۔تاہم دونوں اداروں ورلڈ بنک نے ایک ارب ڈالر جبکہimf نے450 ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ ابھی اسکی خبر نہیں کہ یہ رقم امدادی مد میں دی جارہی ہے یا یہ امداد قرضوں کی شکل میں عنایت کی جارہی ہے۔ حکومت معاشی غلامی کے شکنجے میں پھنسے ہوئے پاکستان کو ازاد کروانے کی مساعی جلیلہ کرے اور سیلابی المناکیوں و شعلہ سامانیوں کی بنیاد پر عالمی برادری سے اپیل کرے کہ پاکستان کے غیر ملکی قرضے معاف کردئیے جائیں ورنہ پاکستان دہشت گردی کی امریکی جنگ سے فالفور علیحدہ ہوجائے گا۔ معاشی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کو سری لنکا کی طرز پر پاکستان کو ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی دی جائے۔سونامی کی قہرمانیوں کے بعد یورپی یونین نے سری لنکا کو ڈیوٹی فری مارکیٹ تک رسائی دی تھی۔ پاکستان میں معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانا مشکل ہے کیونکہ دریائے سندھ صوبہ سندھ میں اپنی تباہ کاریوں کے فن و کمالات دکھا رہا ہے۔پاکستان میں گنے کپاس چاول کو425.2 ارب روپے ہ کا نقصان ہوا ہے جس میں گنے کو21.2 ارب کپاس کو73.15 ارب روپے اور چاول کو48.6 ارب روپے کا درد ناک نقصان ہوا ہے۔ایڈوائزری کمیٹی برائے کاٹن کی ترتیب دی ہوئی رپورٹ کے مطابق کپاس کی فصل ایک ہزار کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی جس میں نئی فصل کا21 فیصد تباہ ہوگیا ہے اور اسی رینج میں کپاس کے کاشکاروں کو دو ملین بیلز کا جھٹکا لگا ہے۔ سبزیوں پھلوں کو پہنچنے والے شدید نقصان کا تخمینہ98 ارب ہے۔پاکستان میں گنا چاول اور کپاس کی فصل کا رقبہ بالترتیب1.04 ملین ہیکٹرز۔2.64 ملین ہیکٹرز اور3.2 ملین ہیکٹرز ہے مگر سیلاب سے گنے کا0.155 ملین ہیکٹرز چاول کا۔0.74 ملین ہیکٹرز اور کپاس کا0.52 ہیکٹرز رقبہ تباہی کی نظر ہوگیا۔کپاس اور گنے کی فصل کی بہترین کوالٹی اور پیدوار کے لئے مظفرگڑھ کوٹ ادو ڈی جی خان اور راجن پور کا علاقہ خاصا زرخیز ہے اسی طرح سندھ میں دادو خیر پور گھوٹکی ٹھٹھہ اور نواب شاہ کپاس کے لئے ائیڈیل علاقے تصور ہوتے ہیں مگر سندھ اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں سیلاب نے سفاکیت کی انتہاکردی۔اس سال زرعی سائنسدانوں نے بی ٹی کاٹن سے فی ایکڑ بہتر کا شت ک امید باندھ رکھی تھی مگر اس پراجیکٹ کا1.38 ملین ہیکٹرز رقبہ اسیلاب کی وحشت ناکیوں کے سپرد ہوگیا۔پی پی پی حکومت نے اس سال زراعت کے شعبے میں شرع نمود کا ہدف3.8 رکھا تھا مگر اب ان ٹارگٹس کو حاصل کرنا ناممکن ہے۔پاکستان میں 47 چھوٹے بڑے پل اور چار ہزار سے زائد کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں۔یوں مرجانے والے مویشیوں اور شاہرات کی ٹوٹ پھوٹ سے550 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔اسی طرح واپڈا کو13ارب روپے اور ریلوے کو تین ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔pso ڈپو سے عام سپلائی معطل ہوچکی ہے تیل کی بندش سے پی ایس او کو روزانہ2.7 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔پی ایس او کے3500 پٹرول پمپس میں سے200 پانی سے متاثر ہوئے۔پارکو ائل ریفائنری ڈوب گئی۔دونوں کو فنگشنل بنانے کے لئے110 ملین درکار ہونگے۔پرائم منسٹر اف پاکستان نے پانچ ارب ڈالر کے نقصان کا اعلان کیا مگر معاشی ماہرین نے مجموعی نقصانات کا تخمینہ10 تا12 ارب ڈالر لگایا ہے۔ علاوہ ازیں ریاست کا کوئی سرکاری محکمہ ایسا نہیں جسکے انفراسٹرکچر کا قابل قدر حصہ تباہ نہ ہوا ہو۔یوں مجموعی نقصانات کا تخمینہ پالیسی سازوں کے ہواس خمسہ کو مدہوش کرسکتا ہے۔پاکستان اپنی تاریخ کے سنگین ترین دوراہے پر کھڑا ہے جسکے اطراف میں اندھی کھائیاں ہیں۔اگر ارباب اختیار نے زرہ سی لغزش کی تو اندھیری کھائیاں ہمیں ازکار ازمنہ یا
ماضی کی تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے تیار کھڑی ہیں۔پی پی پی کی مرکزی حکومت اور ن لیگ یا اے این پی کی صوبائی حکومتیں اپنے تئیں معاشی سماجی اور سیاسی بریک ڈاون کو کنٹرول کرنے اور دو کروڑ سیلاب زدگان کی بحالی کا بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتیں۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کی درخواست پر ال پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔یوں موجودہ حالات میں حکومت جلد سے جلد ال پارٹیز کانفرنس کا اعلان کرے جس میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کو بھی مدعو کیا جائے اور پاکستان کو معاشی و مالیاتی بریک ڈاون سے بچانے کے لئے مشترکہ فیصلہ سازی کی جائے۔پوری قوم سیاسی جماعتوں اور حکومتی دیوانوں سے عرض کرتی ہے کہ خدا راہ انقلاب کے شوشے مت چھوڑو۔لولی لنگڑی جمہوریت کی گاڑی کو چلنے دیا جائے۔ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگانے سے گریز کیا جائے کیونکہ عالمی و ملکی حالات اتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ اس وقت قومی و ملی یکجہتی مساوات رواداری وسیع القلبی اور جمہوری استحکام وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ال پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہی فرقوں گروہوں اور نسلی تفرقوں میں جکڑی ہوئی قوم کو یک جان بنانے کی پیش رفت کے اسباب پیدا کرسکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button