یورپ میں ایٹمی بجلی گھروں سے متعلق نظر ثانی کی لہر

جاپان میں زلزلے اور سونامی کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ایک ایٹمی بجلی گھر میں ہونے والے دھماکوں کے بعد بہت سے یورپی ملکوں نے اپنے ہاں ایٹمی بجلی گھروں کے استعمال سے متعلق اب تک کی پالیسیوں پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔

 

جوہری توانائی کے حوالے سے پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے والے ملکوں میں جرمنی کا نام سب سے نمایاں ہے۔ جرمنی میں قدامت پسند چانسلر میرکل سے پہلے سوشل ڈیموکریٹ چانسلر شروئیڈر کے دور حکومت میں طے پایا تھا کہ ملک میں تمام ایٹمی بجلی گھر ایک طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔ پھر انگیلا میرکل کے دور حکومت میں، جو اس وقت اپنے عہدے کی دوسری مدت پوری کر رہی ہیں، یہ طے پایا تھا کہ ایٹمی بجلی گھروں کی حتمی بندش سے پہلے ان کے استعمال کی طے شدہ مدت میں توسیع کردی جائے گی۔

 جرمنی میں حکومت کی جوہری پالیسی  پر نظر ثانی کرنے کے لیے ایک اجلاس بھی منعقد ہوا تھا لیکن جاپان میں فوکوشیما کے ایٹمی بجلی گھر میں دھماکوں کے بعد برلن حکومت نے فوری طور پر فیصلہ یہ کیا کہ جرمنی میں ایسے پاور پلانٹس کی مدت میں منظور شدہ توسیع پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔

فرانس امریکہ کے بعد اپنے 58 ایٹمی ری ایکٹروں کے ساتھ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فیصد ایٹمی بجلی سے پورا کرتا ہے۔ وہاں بھی عوامی سطح پر نیوکلیئر پاور کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ تحفظ ماحول کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ پیرس حکومت جوہری توانائی کا استعمال مکمل طور پر ختم کر دینے سے متعلق قومی ریفرنڈم کرائے۔ پیرس حکومت یہ مطالبہ مسترد کر چکی ہے۔

اس کے علاوہ آسٹریا میں ایٹمی پاور پلانٹس کی تعمیر یا ان کا استعمال آئینی ترمیم کے ذریعے قطعی طور پر ممنوع قرار دیے جا چکے ہیں۔ جرمنی کا ہمسایہ یہ ملک اپنی ضروریات کے لیے ماحول دوست بجلی کا ایک بڑا حصہ اپنی ہمسایہ ریاستوں سے درآمد کرتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں ابھی تک پانچ ایٹمی ری ایکٹر کام کر رہے ہیں، لیکن جاپانی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں دھماکوں کے بعد حکومت نے تین نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کی اجازت دینے کا عمل معطل کر دیا ہے۔جرمنی اور یورپ کے دیگر ملکوں میں جوہری توانائی کے خلاف مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں

برطانیہ میں ایٹمی ری ایکٹروں کی تعداد 19 ہے، جن سے بجلی کی قومی ضروریات کا پانچواں حصہ پورا کیا جاتا ہے۔ ان میں سے 18 پلانٹ سن 2023 تک بند کر دیے جائیں گے۔ لندن حکومت کئی نئے ایٹمی بجلی گھر بھی تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ ان منصوبوں میں فی الحال کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔

یورپی یونین کے رکن ملکوں میں سے اٹلی صنعتی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں کے آٹھ کے گروپ کا وہ واحد ملک ہے، جہاں ایک بھی ایٹمی ری ایکٹر موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پولینڈ اور ترکی میں بھی ابھی تک کوئی ایٹمی پاور پلانٹ موجود نہیں ہیں۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیو دی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button