گیلانی…. موہالی اوربھارتی حکمرانوں کی کرکٹ ڈپلومیسی……

گیلانی…. موہالی اوربھارتی حکمرانوں کی کرکٹ ڈپلومیسی……
کرکٹ کو سیاست کی نظر ِبد سے بچایاجائے…..
محمداعظم عظیم اعظم
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی جانب سے بھارت آکرکرکٹ میچ دیکھنے کی دعوت کو ہمارے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کسی نادیدے کی مافق یوں جلدی سے قبل کرلی ہے کہ جیسے یہ اِس انتظار میں کافی عرصے سے بیٹھے تھے کہ بھارت کی جانب سے اِنہیں کوئی بلاوا آئے تو یہ فوراََہی بھارت اُڑ کرچلے جائیں اور دیکھیں کہ ہائے رے !اِن کی یہ آرزور کیسے پوری ہوگئی کہ بھارتی وزیراعظم نے اِنہیں پاک بھارت کے درمیان ہونے والے کرکٹ کے سیمی فائنل میچ دیکھنے کے بہانے بھارت بلوا کر پوری کردی ہے اور ہمارے وزیراعظم گیلانی نے ایک لمحہ بھی یہ سوچے بغیر کے بھارت نے کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارالے کر اِنہیں بھارت بلوایاہے اِس دوران بھارتیurdusky-writer-222 وزیراعظم منموہن سنگھ اِن سے کیا کچھ حاصل کرلیں گے اِس سے متعلق شائدہمارے وزیراعظم بھی کچھ نہیں جانتے ہوں گے۔ اگرچہ وزیراعظم گیلانی نے بھی بھارتی وزیرادعظم منموہن سنگھ سے ہونے والی ملاقات کے لئے اپنا بھی ایک جامع ایجنڈاضرور تیار کررہے ہیںمگریہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم گیلانی کا ایجنڈاتو دَھراکا دَھرا ہی رہ جائے گا مگر بھارتی وزیراعظم اپنے ایجنڈے پر کام کرجائیں گے۔ اور ہمارے وزیراعظم صرف پاک بھارت ہونے والے کرکٹ میچ کو دیکھ کر واپس پاکستان چلے آئیں گے۔
ٓاگر چہ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ سال اگر سری لنکن کھلاڑیوں پر حملہ نہ ہواہوتاتو آج 2011کے کرکٹ ورلڈکپ کے میچوں کا انعقاد پاکستان میں بھی ہورہاہوتامگر شائد ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو پاکستان کی میزبانی پسند نہ آئی اور اُس نے ایک سازش کے تحت ایساگیم کھیلاکہ پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کے سلسلے میںہونے والے میچوں کے لئے سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک غیر محفوظ ملک قرار دلواکر اِسے کرکٹ کے ورلڈکپ کی میزبانی کاشرف حاصل کرنے سے کٹواکرہی دم لیااور خود اپنے یہاں کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کرکے وہ کچھ حاصل کررہاہے جس کا اِس نے سوچ رکھاتھا اگر چہ یہ بھی ایک حقیقت ہے جس کو خود بھارتی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کوسانحہ ممبئی کے بعد کسی بھی لحاظ سے ایک محفوظ ملک قرارنہیں دیاجاسکتاکیوں کہ آج بھی یہ خیال کیا جارہاہے کہ سانحہ ممبئی کے بعد سے بھارتی علیحدگی پسند اور اِتنہاپسند جوتنظیمیں ہیں وہ پہلے سے کہیں زیادہ متحرک ہوگئی ہیں جن کا نیٹ ورک توڑنے میں بھارتی حکمران اور بھارتی ایجنسیاں اور فورسز کے ادارے بھی ناکام ہوگئے ہیں جس کا اعتراف بھارتی حکمران اور یہاں کی فورسز خود بھی کرچکی ہیں مگر اِس کے باوجود بھی اِن کا یہ کہنا ہے کہ بھارت سیکیورٹی کے لحاظ سے ایک محفوظ ترین ملک ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے….بہرکیف! بھارت نے پاکستان کو 2011کے کرکٹ ورلڈکپ کی میزبانی نہ دلانی تھی وہ پاکستان کو نہ دلاکراپنے اِس مشن میںکامیاب ہوگیاہے۔ ایسے میں میرابھارتی حکمرانوں اور بھارتی اپوزیشن سمیت بھارتیوںسے یہ کہناہے کہ وہ کرکٹ کو کرکٹ ہی رہنے دیں اِسے اپنی مفادپرستانہ سیاست کی نظر بد سے بچائیں تاکہ جنوبی ایشیاکے عوام کو کرکٹ کے حوالے سے کوئی اچھا انٹر ٹینٹمنٹ مل سکے اور اگر بھارت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کرکٹ کا سہارالیا پھر کرکٹ کا میدان ،کرکٹ کا میدان نہیں رہے گا بلکہ پاک بھارت کا کوئی مچھلی بازار نماایوان بن جائے گاجہاں ایوانِ نمائندگان کرکٹ کو بھول کر اپنے اپنے ملکوں کے درینہ مسائل حل کرناشروع کردیں گے۔
اگرچہ میں آج اِس مخمصے میں ضرور مبتلا ہوں کہ شائد پہلی مرتبہ بھارت نے اپنے تئین کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارالیتے ہوئے امن کا چھکا لگانے کی جو سعی کی ہے اِسے بھی دنیا خوب جانتی ہے کہ اِس بہانے بھارت پاکستان سے کون ،کون سے فائدے حاصل کرنا چاہے گا جس کے لئے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستان کے صدرآصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان 30 مارچ بروز بدھ کو بھارتی پنجاب کے شہرموہالی میںہونے والے کرکٹ ورلڈکپ کا سیمی فائنل میچ دیکھنے کی دعوت دی ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ بھارت یہ سب کچھ اپنے سیاسی اور جغرافیائی مفادات حاصل کرنے کے خاطر کررہاہے اوربھار ت اپنے ایسے ہی مفادپرستانہ عمل سے دنیا کو دیکھانے کے لئے
کوششیں کررہاہے کہ دنیایہ دیکھ لے کہ بھارت جنوبی ایشیامیں امن کا کتنابڑاعلمبردار ہے کہ وہ پاکستان کی جانب خیرسگالی کا خوش دلی سے ہاتھ بڑھارہاہے جبکہ حقیقت اِس کے بلکل برعکس ہے اور دنیا کو اِس بھارتی نقاب کے پیچھے چھپے ہوئے اُس چہرے کو بھی دیکھنا چاہئے کہ بھارت کوئی بھی ایساموقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتاجب دنیاکی نظریں کسی نہ کسی وجہ سے پاکستان اور بھارت پر مرکوز ہوتی ہیں ایسے مواقعوں پر بھارت اپنی ڈپلومیسی سے دنیاکو یہ باور کرانے کی ہر بار کوشش کرتاہے کہ بھارت تو پاکستان کے ساتھ اپنے اچھے روابط رقائم کھنے کا خواہاں ہے مگر پاکستان بھارت کی ہر اچھی پیشکش کو ٹھکراکر آگے نکل جاتاہے۔اور بھارت کی کسی بھی امن پیشکش کا جواب نہیں دیتاکیونکہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کی اِس پیشکش کے پس پردہ کون سے عوامل پوشیدہ ہیں اور بھارت اپنے اِس دکھاوئے کی عمل سے کیاکچھ حاصل کرناچاہتاہے۔ اَب چونکہ ماضی کے مقابلے میں پاکستان میں جمہوریت ہے اور پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے علاوہ بھی اوردیگر حوالوں سے بھارت کے مدمقابل کھڑاہے تو ایسے میں پاکستان کے صدر اور وزیراعظم کو یہ بات اچھی طرح سے سوچ سمجھ لینی چاہئے کہ یہ بھارتی وزیراعظم کی اِس پیشکش کا جواب یوں دیتے کہ یہ بھارت بھی نہ جاتے اور کام بھی ہوجاتا اور اِس طرح سانپ بھی مرجاتا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹنے پاتی۔مگر افسوس کہ اَب جبکہ بھارتی وزیراعظم منموہن سِنگھ کی ایک ساتھ بیٹھ کر بھارت میں پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھنے کی دعوت کو ہمارے وزیراعظم قبول کرتے ہوئے بھارت جانے اور منموہن سے ملاقات کی بھی حامی بھرلی ہے جس سے متعلق اطلاعات یہ آرہی ہیں کہ وزیراعظم گیلانی نے ایجنڈے کی تیاری پورے زور وشعور سے شروع کردی ہے۔
اگرچہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جب پاکستان نے باضابطہ طور پر ایٹمی دھماکہ نہیں کیاتھا اور دنیا کی نظر میں ایٹمی طاقت بن کر نہیں اُبھراتھا اُس دوران ضیاءالحق مرحوم کی پاکستان پر حکمرانی تھی اُس وقت ملک پر ایک آمر صدر کی حاکمیت کی وجہ سے پاکستان کو دنیا کے جمہوریت پسند ممالک نے ناپسند ملک قرار دیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہوکررہ گیا تھا چونکہ بھارت پاکستان کواپنا پراناحریف سمجھتاہے پاکستان کی اِس تنہائی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر حملے کا منصوبہ بناناشروع کردیاتھا اور اِسی دوران بھارت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچوں کا ایک سلسلہ جاری تھا توایسے میں جب ضیاءالحق مرحوم کے کانوں میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کی بھنک پڑی تو اِسی کرکٹ ڈپلومیسی(جس کا سہارالیتے ہوئے آج بھارتی وزیراعظم نے ہمارے صدر اور وزیراعظم کو خود سے بھارت آنے اور ایک ساتھ کرکٹ میچ دیکھنے کی دعوت دی ہے) ایسی ہی کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارالیتے ہوئے اُس وقت کے ہمارے ملک کے آمر صدر ضیاءالحق مرحوم کرکٹ میچ شروع ہونے سے صرف چند گھنٹے قبل بھارت کی جانب سے پاکستان پر کئے جانے والے حملوں کو رکوانے کے خاطر اپنے امن مشن پراچانک بھارت پہنچ گئے اِن کے یوں بھارت آنے پر بھارتی حُکمرانوں سمیت اپوزیشن رہنماو ¿ں کو نہ صرف حیرانگی ہوئی تھی بلکہ ضیاءالحق مرحوم نے بھارتی حکمرانوں کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھ کر بھارتیوں کی پاکستان پر حملے کی اُس منصوبہ بندی کو بھی ناکام بنادیاتھا جس کو اُس وقت کے بھارتی حکمران حتمی شکل دے چکے تھے اور یوں پاکستان بھارت کی جانب سے زبردستی مسلط کی جانے والی جنگ سے بچ گیاتھا اُس وقت ضیاءالحق مرحوم کا یہ سب کچھ کرنا مجبوری تھا اگر وہ کرکٹ ڈپلومیسی سے کام نہ لیتے تو ممکن تھا کہ بھارتی اپنے جنگی جنون کے ہاتھوں مجبورہوکر پاکستان پر حملہ کردیتے مگر اَب جبکہ حالات بلکل مختلف ہیںآج پاکستان بھی ایک ایٹمی ملک بن چکا ہے ایسے میں بھارت اس سے جنگ کا کبھی متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ بھارتیوں کی ہمیشہ سے ہی یہ فطرت رہی ہے کہ یہ اپنے سے کمزروںکو دباتے اور طاقتور سے ڈرتے اور چاپلوسی سے اپنامطلب نکالتے ہیں۔اور آج ایک بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ بھی ضیاءالحق مرحوم والی کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارالے کر اپنا سیاسی اور جغرافیائی مطلب نکانے کی کو شش کررہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button