کراچی میں انقلاب کے نعرے

شہزاداقبال

حکومت نے 28فروری کو پٹرولےم مصنوعات کی قےمتوں میں اضافہ کرکے جس 7کے چھکے سے (سات روپے اضافہ کے حوالے سے) مارچ میں قدم رکھا تھا وہ فیصلہ اسے ایم کیو ایم کے 3روز ہ الٹی میٹم کے باعث واپس لینا پڑا اور ایم کیو ایم ایک بار پھر پٹرولیم کی پچ پر چھکا لگانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔2ماہ قبل بھی متحدہ نے ن لیگ کے ساتھ مل کر پٹرولیم کی قےمتوں میں اضافہ کا فیصلہ حکومت کو واپس لینے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی وہ کامیاب ہوئی ہے۔ یہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اب مزید سیاسی دشمن پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔جمعیت علمائے اسلام (ف )کے بعد ن لیگ بھی حکومت کا ساتھ نہیں دے رہی جبکہ ایم کیو ایم نے وزارتیں لینے سے انکار کردیا ہے ایسی صورت حال میں پی پی کی وفاقی حکومت’ بیک فٹ‘ پر کھیل رہی ہے اور چاہتی ہے کہ الطاف حسین کی جماعت واپس حکومت میں شامل ہو جائے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ اور گورنر سندھ عشرت العباد کے مابین ملاقات بھی ہوئی جبکہ وزےر داخلہ رحمن ملک اب بھی پُر امید ہیں کہ ایم کیو ایم آج نہیں تو کل واپس وفاقی کا بینہ میں شامل ہو جائے گی اس حوالے سے انہوں نے الطاف حسین کو ایم کیو ایم کے لاہور تک پہنچے پر مبار کباد بھی دی گویا پی پی، ایم کیو ایم کو گلے لگانے کیلئے تیار ہے جبکہ ایم کیو ایم ابھی کچھ سوچ رہی ہے۔متحدہ کے قائدالطاف حسین کا لندن سے ٹیلی فونک خطاب گزشتہ ہفتے موضوع بحث رہا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اب خاموش رہنے کا وقت نہیں رہا فوج عوام کا ساتھ دے، کیا جرنیل ملک کو ڈاکوﺅں اور لٹےروں سے نجات نہیں دلا سکتے۔الطاف حسین گزشتہ کچھ عرصہ سے فوج کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کا’ پلس پوائنٹ‘ یہ ہے کہ وہ فوج کو شریک اقتدار کی بات نہیں کرتے لیکن کیا ڈاکوو¿ں اور لٹےروں کےخلاف فوج کو بلانا فوج کی آئےنی ذمہ داری ہے؟سیاسی قائد کی حیثیت سے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہرادارے کو اس کا دستوری وآئےنی کردارادا کرناچاہئے تاکہ پاکستان میں 63سال سے اداروں میں ٹکراﺅ کا جو سلسلہ جاری ہے وہ ختم ہو ۔انقلاب کی نوید ایم کیو ایم بھی سناتی رہتی ہے اور گزشتہ ہفتے عوامی سطح پر اس کی بازگشت بھی سنائی دی جب کراچی کی سٹرکوں پر انقلاب لانے کے حق میں نعرے بلند ہوئے۔پٹرولیم مصنوعات کی قےمتوں میںستائی عوام جب سٹرکوں پر آئی تو وہ انقلاب کے نعرے لگارہی تھی اور ویسے بھی28فروری کو کراچی میں پٹرول پمپ مالکان کی طرف سے ہڑتال نے عوامی غم وغصہ میں اضافہ کیا، شہر یوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قےمتوںمیں اضافہ سے ایک دن قبل پٹرول پمپ مالکان کو گہری سازش قراردی اور عوام نے اس دوران کئی پٹرول پمپس پر توڑ پھوڑکی ،ٹائرز جلائے اور اس ہنگائی آرائی میں پولےس نے بھی بدترین لاٹھی چارج کیا۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ ہفتہ سندھ اور خصو صاً لاڑکانہ کا دورہ کیا ،ذوالفقارعلی بھٹواور بے نظیر بھٹو کی قبر پر جاکر فاتحہ خوانی کی، جذباتی تقریر کی ،ماحول کو گرمایا اور بھٹوِ ثانی بننے کی کوشش کی ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ بے نظیر بھٹو مجھے وزیراعظم بنانا چاہتی تھیں تاہم ساتھ ہی وہ نرم بھی پڑگئے کہ وہ پارٹی کارکن ہیں پارٹی میں انتشار پیدا نہیں کرنا چاہتے اور جلد صدر زرداری سے ملاقات کرےنگے کیونکہ ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ پیپلزپارٹی سے نکل کر جس نے بھی علیحدہ دھڑا بنایا وہ دھڑام سے گراہے کھڑانہیں ہوا شاہ محمود کے پاس ان کے مخصوص ووٹرز ہیں اور وہ ان ووٹرز کے بل بوتے پر بھٹوثانی نہیں بن سکتے۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button