کار ميں انٹرنيٹ: انٹرنيٹ ٹيکنالوجی کا نيا ميدان

internet-car

وائی فائی ٹيکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ کاروں ميں بھی اس کے استعمال کے امکانات بڑھتے جارہے ہيں۔ اس طرح کاروں ميں انفارميشن ٹيکنالوجی کا استعمال نئی حدود کو چھو رہا ہے۔

تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صارفين کی، معلومات کی اشتہاء ميں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے لوگ، معلومات کے ساتھ ساتھ تفريح بھی چاہتے ہيں، جيسے کہ انہيں اسمارٹ فون اور چھوٹے کمپيوٹرز کے ذريعے یہ تفریح حاصل ہو بھی چکی ہے۔

پہلی نظر ميں انٹرنيٹ تک رسائی کو کاروں ميں بھی ممکن بنانا غلط معلوم ہوتا ہے کيونکہ يہ انديشہ ہوتا ہے کہ اس طرح کار چلانے کے دوران توجہ بٹ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ يہ ايک غير سنجيدہ بات بھی معلوم ہوتی ہے۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اس کے عادی ہوتے جائيں گے اور پھر وہ کار ميں اس کی کمی محسوس کريں گے۔ ٹيلی کام انڈسٹری کے ايک غير جانبدار تجزيہ نگار جيف کاگان نے کہا: ’’وقت کے ساتھ ساتھ يہ ہماری زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ ميرے خيال ميں کار ميں انٹرنيٹ ايک بہت بھر پور اور فعال سيکٹر بن جائے گا۔‘‘

سن 2010 ميں دنيا بھر ميں وائر ليس انٹرنيٹ  کی سہولت والی برآمد کردہ کاروں کی تعداد ايک لاکھ 74 ہزار تھی۔ مارکيٹ ريسرچ فرم iSuppli کے مطابق سن 2017 ميں يہ تعداد 72 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔گھر سے باہر وائزليس انٹرنيٹ پر آن لائن

وائر ليس انٹرنيٹ يا Wi-Fi تکنيک گزشتہ کئی برسوں سے کاروں میں ان کے خريدے جانے کے بعد نصب کی جا رہی ہے ليکن اب کئی بڑی کارساز کمپنياں کاروں کے لیے وائرليس انٹرنيٹ کی ايجاد ميں مصروف ہيں۔ فورڈ کار کمپنی سن 2010 سے بعض مخصوص کار ماڈلز ميں Wi-Fi  يا وائر ليس انٹرنيٹ لگا رہی ہےاور جنرل موٹرز، بی ايم ڈبليو، Audi، Saab اور کرائسلر سميت کئی کمپنياں کاروں ميں وائرليس انٹرنيٹ کنکشن لگا رہی ہيں۔

مارچ کے وسط ميں فن لينڈ کی ٹيلی کوم کی عالمی فرم نوکيا نے 11 کمپنيوں کے کنسورشيم کا اعلان کيا جو اپنے تکنيکی معيارات ايک جيسے رکھيں گی۔ ان کار ساز کمپنيوں ميں جنرل موٹرز،ٹويوٹا، مرسيڈيز، ہونڈا، ہُنڈائی اور فوکس ويگن بھی شامل ہيں۔سيفر انٹرنيٹ ڈے: سن 2011

آٹو نيٹ موبائل نامی کيليفورنيا کی فرم آٹو موبائل مارکيٹ میں اپنے first internet-based telematics ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امريکہ ميں کار انٹرنيٹ سہولت استعمال کرنے والے اس کے گاہکوں کی تعداد 10 ہزار سے زيادہ ہے اور وہ اس کنکشن کے لیے ماہانہ 29 ڈالر فيس ادا کرتے ہيں۔ اس کمپنی نے حال ہی ميں کار ساز فرموں جنرل موٹرز اور سُوبارو کے ساتھ معاہدوں پر دستخط بھی کیے ہيں۔

اس کمپنی کے مينيجر اسٹرلنگ پريٹس نے کہا: ’’کار ميں سفر کرنے والے يہ سمجھتے ہيں کہ کار ميں لطف اندوز ہونے کے لیے ڈی وی ڈی پليئر سے بھی بہتر طريقے ہيں۔ يہ لوگ جب کار ميں بيٹھتے ہيں تو انٹرنيٹ سے رابطہ ٹوٹ جانے پر کچھ عجيب سا محسوس کرتے ہيں۔‘‘

پريٹس نے کہا کہ اگلا قدم يہ ہو گا کہ اپنے بچوں کی کار چلانے کی رفتار پر نظر رکھنے والے والدين اور گم ہو جانے والی کار کا سراغ لگانے کے لیے حساس آلات بھی کاروں ميں نصب کیے جائيں۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button