٭اخبار ۔۔۔۔۔ سدا بہار٭

newspapers
یہ آج کا اخبار ہے ، مگر سدا بہار ہے
مہنگائی میں روز اِضافہ ، چوری ڈکیتی، بم دھماکہ
خود کش حملے، غربت، فاقہ ، لاشوں کا انبار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
مُلک میں مہنگائی ہے ، ہنگامہ آرائی  ہے
چاروں سمت مُلک میں ، تباہی ہی تباہی ہے
خوف سب پہ سوار ہے ، ہر شخص اشکبار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
ایک طبقہ بدمعاش ہے ،دوسر ا یہاں قلاش ہے
تیسرا ہے لوفر لفنگا ، چو تھا زندہ  لا ش ہے
کرپشن  بے شمار ہے ، قانون بھی  بیمار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
عزتِ نفس برباد ہے ، دنگا  او ر فساد ہے
بے بس یہاں سرکار ہے ، قو م میں اِنتشا  ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
بے حِس قوم ہو گئی ، مِسٹر سے مِس ہو گئی
پہلے عِزت تھی مجروح ، اب غیرت بھی سو گئی
غالب ہو ا عیّار ہے ، مسلم مغلوب و خوار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
اس مُلک کی جوعدالت ہے یہاں صرف ذلالت ہے
ہر اِک مقدمے میں ےہاں، طوالت ہی طوالت ہے
مُنصِف ! بڑ ا فنکار ہے ، رشوت کا طلبگار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
یہ مُلک کا ہاری ہے ، خوف وڈیرے کا طاری ہے
پَھٹی ہوئی قمیض ہے ، پیوندی شلو ار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
مریض ہسپتال میں ، بہت بُرے حال  میں
نہ پیسہ ، نہ دوائی ہے ، ڈاکٹر بھی قصائی ہے
مسیحائی نہیں بیوپار ہے ،بہت ظالِم سنسار ہے
یہ  آج کا  اخبار  ہے ، مگر  سدا  بہار ہے
یہ غُربا کی بستی ہے ، یہاں فاقہ مستی ہے
بے گھر خانہ بدوش ہیں ، والدین بچے فروش ہیں
قوم ذہنی بیمار ہے ،  پَستی کا  شکار  ہے

عبدالمجید بُخاری

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button