نظام تعلیم میں تبدیلی وقت کی ضرورت

عمرخان جوزوی
وطن عزیز جو طویل جدوجہد اورلازوال قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا اس وقت نہ صرف بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے بلکہ چاروں اطراف سے خطرات کی زد میں ہے۔ ایک طرف اگر یہود وہنود کی سازشوں کاسامنا ہے تو دوسری طرف مہنگائی غربت اور بے رزگاری نے ملکی ترقی کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا ہے۔ ملک کے 17کروڑ عوام کو مسائل نے اس طرح گھیر رکھاہے کہ بظاہر مسائل کی اس گرداب سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ قیام پاکستان کے وقت غالبا ًوطن عزیز کو اتنے مسائل کا سامنا نہ ہوگا جتنا آج ہے۔ اکثر لوگ ملک کو اس نہج تک پہنچانے کو حکمرانوں کا کرتا دھرتا قرار دے رہے ہیں اور یقینا ملک کو اس مقام تک پہنچانے میں حکمرانوں کا کردار کسی سے کم نہیں کیونکہ اس بدقسمت ملک میں برسراقتدار آنے والی ہر حکومت نے اس ملک کی تعمیر وترقی بارے کم اور اپنے اہل وعیال بارے زیادہ سوچا۔ اقتدار بچانے کے لےے تو راتوں کی نیندیں حرام اور اپنی تمام ترتوانائیاں صرف کیں۔ لیکن مسائل کو جوتے کی نوک پر رکھ کر نظرانداز کرتے رہے۔ ماناکہ ان مسائل اور بحرانوں میں حکمرانوں کا اہم کردار ہے لیکن ہم خود کو بھی ان مسائل اوربحرانوںسے بری الزمہ قرارنہیں دے سکتے ملک کومسائل کے سمندرتک لانے میں جتنا کردارحکمرانوں کا ہے اتناہی ہمارا بھی۔ بحیثیت قوم ہم نے اس ملک کی تعمیر وترقی بارے کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا ۔کہا جاتاہے کہ کسی بھی ملک وقوم کی تعمیر وترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے ۔ مگر ہم نے تو یہاں بھی تعلیم میں تفریق کرکے تباہی کو دعوت دی۔ 63برس گزر گئے مگر ہم نے ان 63سالوں میں بھی نظام تعلیم کا حلیہ ٹھیک نہ کر سکے۔ دینی وعصری تعلیم میں دیوار کھڑی کرکے اپنے پاﺅں پر کلہاڑا تو ہم نے خود مارا۔ مگر آج ہم غیروں کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔دینی تعلیم کو نظرانداز کرنا کسی مسلمان کے لےے تو ممکن نہیں لیکن اس کے ساتھ عصری تعلیم بھی ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ دنےا کے ساتھ چلنے اورےہودوہنودکی سازشوںاوراسلام کی ترجمانی کےلئے عصری تعلیم کاحصول موجودہ دور میں ہمارے لیے ناگزیر ۔اس لیے اس سے نظرےں چھراکر ہم اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اگر ٹھنڈے دل وماغ سے سوچا جائے تو تعلیم میں تفریق ہی ہمارے مسائل اورناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ دینی مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کو ہم نے آمنے سامنے لا کھڑا کرکے خود مسائل اورناکامی کو دعوت دی۔ آج اگر قدم بہ قدم مسائل اور بحرانوں کی سازشوں سے ہمارا واسطہ پڑا رہاتو اس کی اہم وجہ وطن عزیز میں لیڈر شپ کا فقدان ہے اس ملک کی بھاگ دوڑ جب تک نیک اور صالح حکمران نہیں سنبھالتے اس وقت تک یہ مسائل وبحران ختم نہیں ہونگے۔ لیڈر شپ کا فقدان تب ختم اور ملکی اقتدار پر اس وقت نیک وصالح لوگوں کی حکمرانی ہوگی جب کالج ویونیورسٹی سے نکلنے والا نوجوان حافظ قرآن اور عالم ہو۔ کالج ویونیورسٹی سے نکلنے والا نوجوان قرآن اور عالم یہ یقینا ایک خواب ہی لگ رہاہے لیکن جب اس ملک میں تنویر احمد عالم جیسے درد دل رکھنے والے لوگ موجود ہوں تو اس خواب کے شرمند تعبیر ہونے میں ہر گز دیر نہیں۔ اس ملک میں جامعتہ الرشید اور کچھ ادارے ایسے قائم ہوچکے ہیں جن میںایک چھت کے سائے تلے دینی وعصری تعلیم ایک ساتھ دی جارہی ہے۔ برادرم تنویر احمد عالم نے ہزارہ کے دل ایبٹ آباد میں انٹرینشل سکول آف ایکسےلنس کے نام سے دینی وعصری تعلیم ایک چھت کے سائے تلے دینے کے لےے ادارہ قائم کرکے نہ صرف اہلیان ہزارہ بلکہ اس ملک کے سترہ کروڑ عوام پراحسان کیا ہے۔ انٹر نیشنل سکول آف ایکسےلنس میں قوم کے نونہالان ایک چھت کے سائے تلے دینی وعصری تعلیم کی پیاس بجھا کر اس دکھی اور زخموں سے چور چور قوم کے لےے نیک وصالح حکمرانوں کی شکل مےں رحمت کا باعث بن سکتے ہےں اللہ کرے کہ اےساہی ہواس ملک وقوم کو ایسے ہی اداروں کی ضرورت ہے کہ جس سے پڑھ کر نکلنے والامسٹر بھی ہو اورملا بھی۔ تنویر احمد عالم نے دینی وعصری تعلیم میں کھڑی دیوار کو گرا کرمسٹر وملامےں تفریق ختم کرکے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اللہ کرے کہ تنویر احمد عالم کا یہ قدم ملک وقوم کے لےے ترقی وخوشحالی کا باعث بنے ۔۔امین۔۔ کالج ویونیورسٹی سے نکلنے والا نوجوان حافظ اور عالم بھی بنے یہ نہ صرف سترہ کروڑ پاکستانی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا خواب ہے جس دن یہ خواب پورا ہوا اس دن ہی مسلمانوں کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے اورملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا مگراس کےلئے تعلیمی نظام میں تبدیلی ازحد ضروری ہے

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button