عرب خطے میں مغربی ممالک کا کردار غیر واضح ہے، پیٹر فلیپ

ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلیپ کے مطابق جب بھی دنیا میں جمہوری اقدار کے فروغ اور آزادی اظہار کے دفاع کا معاملہ آتا ہے تومغربی ممالک اپنی سوچ اور اپنے الفاظ کو عملی شکل دینے میں دیر نہیں لگاتے۔

 

عرب دنیا میں حکومت کی مخالفت میں اور جمہوریت کی حق میں چلنے والی تحریکیں دن بہ دن زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار پیٹر فلیپ نے اس خطے میں مغربی ممالک کے کردار کے حوالے سے لکھا ہے کہ جب کبھی جابرانہ حکومتوں کے خلاف ان کے عوام اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو مغربی ممالک ان تحریکوں پر مکمل بھروسہ نہیں کرتے۔

پیٹر فلیپ کے بقول اس ساری صورتحال میں ایک امر غیر واضح ہے۔ وہ یہ کہ وہی مغربی سیاستدان، جو ایک آمر کے خلاف جنگ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، وہی خطے کے کسی دوسرے ڈکٹیٹر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے عراق کے سابق صدر صدام حسین اور تیونس کے صدر بن علی کی مثال دی۔ اگر کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی بات کی جائے تو اس بارےمیں بین الاقوامی قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ تاہم اگر حالات بہت سنجیدہ صورتحال اختیار کر جائیں تو ان قوانین کو نظر انداز بھی کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ لیبیا کے معاملے میں کیا گیا ہے۔پیٹر فیلپ

پیٹر فلیپ کے بقول جب بھی دنیا میں کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی جاتی ہے تو اس کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھرایا جاتا ہے۔ تاہم لیبیا کے حوالے سے امریکہ کو مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ امریکی صدر باراک اوباما لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی سے ہچکچا رہے تھے، لیکن فرانس نے انہیں اس جنگ میں اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔ شاید اِس کا مقصد یہ ہے کہ دُنیا اُس گہری قربت کو بھول جائے، جو گزشتہ چند برسوں کے دوران سارکوزی اور قذافی کے درمیان نظر آتی رہی ہے۔

مصر اور تیونس میں عوام اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے بغیرکسی بیرونی امداد کے اپنی آزادی کی تحریک کو انجام تک پہنچایا ہے۔ لیبیا میں انداز کا یہ احتجاج کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں حزب اختلاف نسبتاً کمزور ہے۔ وہاں کے باغیوں کے ساتھ تعاون کرنے کا مطلب لیبیا کے معاملات میں براہ راست مداخلت ہو گا۔ اسی وجہ سے مغربی ممالک نے اسے انسانیت کی مدد کے لیے کی جانے والی فوجی کارروائی کا نام دیا ہے۔

مغربی ممالک کے لیے سعودی عرب اور بحرین کی طرح دیگر خلیجی ممالک میں موجود تیل، اقتصادی مفادات اور ایران کے ساتھ تنازعہ، آزادی کی تحریکوں کی پشت پناہی کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ یمن میں القاعدہ کےخلاف متحرک صدر علی عبداللہ صالح کو بھی کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ پیٹر فلیپ کے بقول مغربی ممالک کو اپنا یہی طرز عمل بدلنا ہو گا۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جس روز عوام کو آزادی مل گئی تو وہ مغربی ممالک اور اُن کی مبینہ اقدار کو مسترد کر دیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ عوامی جدوجہد، کسی ملک میں جلد کامیابی سے ہمکنار ہواور کسی میں دیر سے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ یہ عمل اب رُک نہیں سکتا۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button