بالی وُڈ پر ’چڑھتی جوانی‘


ہندی فلمی صنعت بالی وُڈ اپنی عمر کی متعدد بہاریں دیکھ چکی ہے، تاہم اب اس پر جوانی ایک مرتبہ پھر آ رہی ہے، یا یوں کہیے کہ ’لائی جا رہی ہے۔‘ شاید وہاں ادھیڑ عمر ستاروں کا دَور بھی ختم ہونے کو ہے۔

 

بالی وُڈ پر اب تک ایسے ستاروں کی حکمرانی رہی ہے، جو اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں ہوں۔ تاہم اب یہ صنعت اپنی فلموں کے لیے زیادہ شوخ کہانیوں اور کم عمر اداکاروں کے ذریعے نوجوانوں کو لبھانے کی کوشش میں ہے۔

ہندی فلمی صنعت کے دو بڑے پراڈکشن ہاؤسز، یش راج فلمز اور وایاکوم ایٹین موشن پکچرز نے اپنے ہاں اٹھارہ سے پچیس برس کی عمر کے فلم بینوں کے لیے بالخصوص علیٰحدہ شاخیں قائم کر لی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ اس عمر کے افراد کی بڑھتی ہوئی قوتِ خرید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ اپنی فلموں کو زیادہ بزنس دلانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

فلموں اور ان کی کامیابیوں پر نظر رکھنے والی کمپنی ’فورسائٹ‘ کے سی سریندر نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’وہ آبادی کی معاشرتی تقسیم کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی میں تھیٹر کے ساٹھ فیصد شائقین شامل ہیں اور بالی وُڈ کو اب اس کا احساس ہو رہا ہے۔‘

بالی وُڈ کو روایتی طور پر اس کے گانوں، رقص اور فیملی ڈرامے پر مبنی کہانیوں کی وجہ سے جانا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ کچھ برسوں میں یہ سب بدل گیا ہے۔ اب ’ملٹی پلیکس آڈیئنس‘ میں اضافہ ہوا ہے۔ شہری آبادی کی پسند مختلف ہے اور قوتِ خرید بھی انہی کی زیادہ ہے۔ لہٰذا انہیں سنیما کی طرف لانے کے لئے بالی وُڈ کی فلموں کی کہانی کے مرکزی خیال تبدیل کیے جا رہے ہیں۔bollywood

اب شائقین میں سے بیشتر نوجوان ہیں۔ یا تو وہ کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یا انہوں نے حال میں ہی کالج کا سلسلہ ختم کیا ہے۔ وہ مغربی ٹیلی ویژن شوز اور فلموں سے واقف ہیں۔

وایاکوم ایٹین کے وکرم ملہوترہ کہتے ہیں، ’یہ وہ فلم بین ہیں، جو ملکی آبادی کے دیگر حلقوں کی طرح نہیں سوچتے بلکہ وہ تجربے پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔‘

ملہوترہ کا کہنا ہے کہ یہ ایس ایم ایس جنریشن ہے، جس کے پاس وقت کم لیکن کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا اسٹوڈیو نوجوان ہدایت کار اور اداکار متعارف کرائے گا، جو نوجوانوں میں زیادہ مقبول ہو سکتے ہیں۔

 

بشکریہ ڈی ڈبلیو دی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button