امر یکہ کے دانت کھا نے کے اور دیکھا نے کے اور

تحریر: اے ۔آر ۔اخلاص
 
 تارےخ گواہ ہے کہ جب کسی معا شرے مےں ظلم کی آندھےاں چلنے لگےں۔افلاس سے گھروں کے چراغ بجھنے لگےں۔چھوٹی چھو ٹی معصوم خواہشات ،بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی خواہشات کی دہلےز پہ دم توڑنے لگےں۔کھلونے بنانے والے کا اپنا بچہ کھلونے کے لےے
 تر سنے لگے۔بے حےا ئی اور آوارگی مہذب لگنے لگے۔ دوسروں کی عزتوں کے جنازے نکا لنے والے،خود کوغےرت مند اور عزت دار کہنے لگےں۔ دولت کے گمنڈ مےں دوسروں کے گلے مےں غلامی اور اطا عت کا طوق پہنانا شروع کر دےا جائے ۔جب تفرےح گا ہوں ، صاف پانی اور صاف ہوا پہ بھی صرف اُن کا حق مانا جا ئے جن کے کارخانوں سے غرےبوں کی ہوا اور پانی آلودہ ہو ر ہا ہے اور جن کے گھر کا کوڑا اُٹھانے کے لےے غر ےب کو ا پنے بچوں کو سکول سے اٹھا نا پڑ جا ئے ،تو جناب! پھر تےار ہو جا ئےں اُس انقلاب کے لےے جو اسی ظلمت کی کوکھ سے جنم لےتا ہے ۔ وہ انقلاب جو عرب کے صحراﺅں مےں بھی جنم لے سکتا ہے ،ےورپ کی برف پوش چو ٹےوں پہ بھی پروان چڑھ سکتا ہے۔افرےقہ کے سےاہ فاموں کو بھی رمزِ آزادی سے آشنا کر سکتا ہے۔ جو ہر بالا کو پست اور ہر پست کو بالا تر کر سکتا ہے۔ جب معا شرے مےں مظلو موں کی تعداد بڑھنے لگے تو فطری عمل ہے عےن اسی لمحے ظالموں کی تعداد کم ہونا شروع ہو جا تی ہے۔
 امر ےکہ سے امداد کے بھےس مےں عوام کی عزتوں اور جانوں کی قےمت وصول کر نے والو! اب بھی وقت ہے تو بہ کر لو ۔ورنہ فرعون کیurdusky-writer-00
 طر ح عےن نزاع کے وقت کی گئی تو بہ قبول نہ ہو گی ۔اور ذلت اور رسوا ئی جو تمہاری طرف بڑھ رہی ہے اُس کو کو ئی صدقہ ،خےرات نہ روک پائے گا۔ ا پنے آشےا نے کے تنکے بےچنے والو! سو چو تو سہی تم بسےرا کہاں کرو گے۔ جن کو تم ا پنے گھونسلے مےں تکےے لگا کے دے ر ہے ہو وہ تمھےں
ا پنے گھر مےں کہاں جگہ دے ر ہے ہےں۔جو تا جروں کے روپ مےں آئے اور حکمران بن بےٹھے ،کےا وہ فو جےوں اور کھو جےوں کے لباس پہن کر حکمرانی کا خواب نہےں د ےکھ سکتے ؟کےوں چند کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض جگر کے ٹکڑے بےچ رہے ہو؟ ےہ نہ سو چو کہ تم سندھی خون سے صحراﺅں کو نم کرر ہے ہو ےا بلوچی اور پختون خون سے پتھر وں کو رنگےنی دے ر ہے ہو ےا ےہ کہ پنجابی خون سے دھرتی سےراب کر رہے ہو۔ ےاد ر کھو! تم مسلم کے لہو کو بہا رہے ہو ۔ےہ وہ لہو ہے ،ربِ کعبہ کی قسم جس جگہ پہ بھی گرتا ہے ملا ئکہ طواف کر تے ہےں۔ اُس زمےن سے اےسا طوفان اٹھتا ہے جو پوری د نےا کا نقشہ بدل دےتا ہے ۔بڑی بڑی سلطنتےں جو طا قت کے گمنڈ مےں چور ہو تی ہےں اُسے قوتِ اےمانی سے رےگِ رواں بنا د ےتا ہے۔
 خدا کے لےے ا پنی خودی کو جانو!ہوش کرو! تم سو چو تو سہی کبھی ا مر ےکہ نے پاکستان مےں کسی تعلےمی ادارے کی بنےا د ر کھی جس مےں غر ےب کا بچہ اعلیٰ تعلےم کا خواب آنکھوں مےں سجا ئے زےورِ علم و ہنر سے سےراب ہو سکے ،اپنے مفلس والدےن کا سہارا بن سکے ۔کو ئی اےسا ہسپتال بتاﺅ جو امر ےکہ کی امداد سے چلتا ہو ؟جہاں مر ےضوں کو مفت ادواےات ملتی ہوں ؟جہاں اُن کا مفت علاج ہوتا ہو؟ کےا کبھی کو ئی امر ےکی ڈاکٹر خدمتِ انسانی کے جذبے سے سر شار ہو کر پاکستان آےا ؟کو ئی سٹرک دےکھا ﺅ کو ئی بندر گاہ د ےکھا ﺅ کو ئی بجلی گھر د ےکھا ﺅ جو پا ک امر ےکہ دوستی کی علامت ہو ؟جو پاکستان کے لےے تحفہ ہو۔ کو ئی اےسا معا ہدہ جو پاکستان کے تحفظ کا امےن ہو؟ کو ئی اےسا ڈےم جو پاکستان کو شاداب کر تا ہو؟
 
مےرے ہم وطنو! پھر جنگی امداد کےوں؟وہ امداد نہےں دوستو ! وہ قےمت ہے عا فےہ صدےقی جےسی بےٹےوں کی عزت کی ، مےرے وطن کے
 ہو نہار سپوتوں کو راتوں رات اغوا کر نے کی ،وہ قےمت ہے ڈرون بمباری مےں شہےد ہو نے والے مےرے غےور پختون بھا ئےوں کی ،مےری ماﺅں کی مےری بہنوں کی،مےرے وطن کے گلشن کے معصوم پھو لوں کی جن کو کھلنے سے پہلے ہی مسل د ےا جا تا ہے ۔ جن کے معصوم خوابوں کو اُن کی تعلےمی درسگاہوں مےں دفنا د ےا جا تا ہے تا کہ کل کو امر ےکہ کے شانہ بشانہ نہ چل سکےں ۔اور امرےکہ با آسانی اس عرضِ پاک کے شےروں کے گلے مےں غلامی کا طوق ڈال کر، کراےہ کے ٹٹو ہندوستان کے ہا تھ مےں تھما دے جو امر ےکہ کی مرضی کے مطا بق اس اسلامی رےاست کو نچاتا ر ہے ۔
 آفرےن ہے مےرے وطن کی سرحدوں کے پاسداروں پہ اور اِس چمن کے رکھوالوں اور حکمرانوں پہ جو سگار اور چا ئے پےنے کے لےے امر ےکہ اور لندن جا تے ہےں ۔جو ہوا کی تبد ےلی کے لےے چار دن ےورپ مےں رہ آتے ہےں اور اسے سرکاری دورے کا رنگ دے کر وہاں رنگ رلےاں منا تے ہےں۔ خدا کے لےے جان جاﺅ!جاگ جاﺅ!
 مےں تو فقط صدا لگا سکتا ہوں سو لگا ر ہا ہوں   قوم کے جاگنے سے جاگ اٹھے گا اس کا مقدر بھی 
           
          
          

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button