آئی پیڈ ٹو کی فروخت 25 ممالک میں شروع

 


معروف امریکی کمپیوٹر ساز ادارے ایپل کمپنی کا تیارکردہ نیا ٹیبلٹ کمپیوٹر یعنی آئی پیڈ ٹو 25 مارچ سے دنیا کے 25 ممالک میں فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

 

عالمی وقت کے مطابق سہ پہر چار بجے سے یورپی ممالک سمیت دنیا کے 25 ممالک میں آئی پیڈ ٹو کی فروخت کا آغاز ہوا۔ آئی پیڈ ٹو کی باقاعدہ رونمائی ایپل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیو جابز کی طرف سے  رواں ماہ کے اوائل میں دو مارچ کو کی گئی تھی۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے تاریخی اوپرا ڈسٹرکٹ میں آئی پیڈ ٹو کے خریداروں کی ایک لمبی قطار کئی گھنٹے قبل ہی سے ایپل کمپنی کے اسٹور کے باہر  فروخت کا وقت شروع ہونے کی منتظر تھی۔

آئی پیڈ ٹو اپنے سابق ورژن کے مقابلے میں ایک تہائی حد تک پتلا ہے، جبکہ اس کا وزن بھی آئی پیڈ ون کی نسبت 15 فیصد کم ہے۔ اس کے علاوہ نئے آئی پیڈ کے دونوں جانب یعنی آگے اور پیچھے کیمرہ نصب ہے۔ اس طرح آئی  پیڈ ٹو سے تصاویر لینے اور وڈیو بنانے کے علاوہ وڈیوکال کی سہولت بھی میسر آ گئی ہے۔

ایپل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیو جابز آئی پیڈ ٹو متعارف کراتے ہوئے

دو مارچ کو آئی پیڈ ٹو کی رونمائی کے بعد امریکہ کے 236 اسٹورز پر اس کی فروخت کا آغاز 11 مارچ سے ہوگیا تھا۔ تاہم امریکہ کے باقی ماندہ حصوں میں بھی 25 مارچ سے ہی یہ فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔  ایپل کے اس نئے ٹیبلٹ کمپیوٹر کا وزن اب 1.3 پاؤنڈ یعنی 590 گرام ہے جبکہ اس کے پرانے ورژن کا وزن 1.5 پاؤنڈ تھا۔ نئے آئی پیڈ کی بیٹری کا دورانیہ پہلے کی طرح 10 گھنٹے ہی ہے اور یہ کالے اور سفید رنگ کی کیسنگ میں دستیا ب ہے۔

ایپل  کمپنی کی طرف سے گزشتہ برس کے دوران 15 لاکھ آئی پیڈ فروخت  کیے گئے جن کی مالیت 10 بلین امریکی  ڈالرز کے قریب بنتی ہے۔ اس طرح یہ ملٹی ٹاسکنگ ڈیوائس بہت سے لوگوں کی زندگی کا ضروری حصہ بن چکا ہے۔

یورپ میں  فروخت کے لیے پیش کیے گئے 16 گیگابائٹ میموری والے آئی پیڈ ٹو کی قیمت جس میں وائرلیس وائی فائی ٹیکنالوجی بھی موجود ہے، 489 یورو یا 692 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

فرانس کے علاوہ  25  مارچ کو آئی پیڈ ٹو کی فروخت جن ملکوں میں شروع ہوئی ہے ان میں جرمنی، آسٹریلیا، بیلجیم،  آسٹریا، کینیڈا، چیک ری پبلک، ڈنمارک، فن  لینڈ، یونان، ہنگری، آئرلینڈ، آئس لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، میکسیکو، ناروے، نیوزی لینڈ، ہالینڈ، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔

بشکریہ ڈی ڈبلیوڈی

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button